Main Icon

باب : اسماء النّبی صلی اللہ علیہ وسلم و صفاتہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5795

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَحْسَنَ مِنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّ الشَّمْسَ تَجْرِي فِي وَجْهِهٖ وَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَسْرَعَ فِي مَشْيِهٖ مِنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّمَا الْأَرْضُ تُطْوٰى لَهٗ إِنَّا لَنُجْهِدُ أَنْفُسَنَا وَإنَّهٗ لَغَيْرُ مُكْتَرِثٍ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن أبي هريرة قال: ما رأيت شيئا أحسن من رسول الله صلى الله عليه وسلم كأن الشمس تجري في وجهه وما رأيت أحدا أسرع في مشيه من رسول الله صلى الله عليه وسلم كأنما الأرض تطوى له إنا لنجهد أنفسنا وإنه لغير مكترث. رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے کوئی چیز ۱؎رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ حسین نہ دیکھی۲؎گویا سورج آپ کے چہرے میں گردش کررہاہے ۳؎اور میں نے کوئی شخص نہ دیکھا جو اپنی رفتار میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ تیز ہو۴؎گویا آپ کے لئے زمین لپٹی جاتی تھی ۵؎ہم تو اپنی جانوں کو مشقت میں ڈال دیتے تھے اور آپ پر واہ نہ فرماتے تھے ۶؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎کوئی چیز میں چاند سورج تارے اور تمام حسین انسان سب ہی داخل ہیں حضور ان سب سے بہتر ہیں۔
۲
؎یعنی نور اور نورانی کرنیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے انور میں ایسی چکر کاٹتی معلوم ہوتی تھیں جیسے سورج اپنے فلک میں گردش کرتا ہے۔(مرقات)اور اگرتجریکے معنی کرلیے جائیں جگمگا رہا ہے تو مطلب بالکل ظاہر ہے۔
۳
؎حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رفتار کی تیزی رستہ طے ہونے کے لحاظ سے تھی نہ کہ سرکار کے چلنے کے لحاظ سے حضور انور نہایت وقار سے آہستہ چلتے تھے،رب فرماتاہے:"وَاقْصِدْ فِیۡ مَشْیِكَ"مگر آپ کے آہستہ چلنے کے باوجود راستہ جلد اور بہت زیادہ طے ہوتا تھا جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔
۴
؎یہ بھی حضور انور کا معجزہ تھا کہ آہستہ چلنے پر زمین زیادہ طے ہوتی تھی،بعض صوفیاء کو بھی یہ کرامت عطا ہوتی ہے اسے طے الارض کہتے ہیں،معراج میں جو حضور انور نے طی الارض ہی نہیں کی بلکہ زمین و آسمان،عرش و کرسی،لوح و قلم سب ہی طے فرما لیے،آصف ابن برخیا کی طی الارض تو قرآن مجید سے ثابت ہے،رب فرماتاہے:"اٰتِیۡكَ بِہٖ قَبْلَ اَنۡ یَّرْتَدَّ اِلَیۡكَ طَرْفُكَ"میں ملکہ بلقیس کا تخت یمن سے آپ کے پاس پلک جھپکنے سے پہلے لے آؤں گا۔
۵
؎رب کا منشا یہ تھا کہ کوئی شخص میرے محبوب سے آگے نہ چل سکے"لَا تُقَدِّمُوۡا بَیۡنَ یَدَیِ اللهِ وَ رَسُوۡلِہٖ" پر عمل خود رب تعالٰی نے ان سے کرا لیا تھا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5795