Main Icon

باب : اسماء النّبی صلی اللہ علیہ وسلم و صفاتہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5793

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ: قُلْتُ لِلرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ: صِفِي لَنَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: يَا بُنَيَّ لَوْ لَوْ رَأَيتَهٗ رَأَيْتَ الشَّمْسَ طَالِعَةً. رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ

وعن أبي عبيدة بن محمد بن عمار بن ياسر قال: قلت للربيع بنت معوذ بن عفراء: صفي لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم قالت: يا بني لو لو رأيته رأيت الشمس طالعة. رواه الدارمي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبیدہ ابن محمد ابن عمار ابن یاسر سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں نے جناب ربیع بنت معوذ ابن عفراء سے کہا کہ مجھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ شریف سنائیے ۲؎وہ بولیں اے میرے بچے اگر تم حضور کو دیکھتے تو چمکتا ہوا سورج دیکھتے ۳؎(دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎آپ عمار ابن یاسر تو صحابی ہیں مگر ان کے بیٹے محمد اورپوتے عبیدہ دونوں تابعی ہیں،عبیدہ بہت مشہور تابعی ہیں،بڑے عالم بڑے عامل متقی تھے،بہت صحابہ رضی اللہ عنھم سے ان کی ملاقات ہے،ان سے عبدالرحمن ابن اسحاق جیسے جلیل القدر تابعی نے احادیث روایت کیں۔
۲
؎اس سے معلوم ہوا کہ اہل علم کے پاس جانا ان سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال طیبہ طاہرہ سننا بلکہ فرمائش کرکے ان سے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت شریف سننا بزرگان دین کی سنت ہے۔دیکھو یہ تابعی ایک صحابیہ بی بی کے پاس جاتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات آپ کا حلیہ شریف آپ کی نعت سننے کے لیے مگر یہ سننا سنانا پردہ میں سے ہوتا تھا،اجنبی عورت مردوں کو خوش الحانی سے نعت نہ سنائے بلکہ جو عورت قاریہ ہو وہ بھی اپنی قرأت عورتوں کو سنائے مردوں کو نہ سنائے کہ عورت کی آواز کا بھی پردہ ہے اسی لیے عورت مردوں کی امامت نہیں کرسکتی کہ امام کو قرأت بلند آواز سے کرنی پڑتی ہے۔
۳
؎یعنی تم کو حضور انور کے چہرہ اطہر میں سورج کی سی تجلی معلوم ہوتی چہرہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا چمکتا دمکتا تھا۔ حضور انور کے چہرہ کو بعض صحابہ چاند جیسا کہتے ہیں،بعض سورج جیسا یا تو یہ دونوں کلام صرف سمجھانے کے لیے ہیں یا جب حضور انور خوشی میں ہوتے تو انوار اور زیادہ ہوجاتے تھے،اس وقت کی چمک کو سورج سے تعبیر کیا گیا ہے عام حالات میں چاند جیسا چہرہ ہوتا تھا صلی اللہ علیہ وسلم۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5793