Main Icon

باب:دیتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3505

قصاص کابیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عِمْرانَ بْنِ حُصَينٍ: أَنَّ غُلَامًا لِأُنَاسٍ فُقَرَاءَ قَطَعَ أُذُنَ غُلَامٍ لِأُنَاسٍ أَغْنِيَاءَ، فَأَتَى أَهْلُهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: إِنَّا أُنَاسٌ فُقَرَاءُ فَلَمْ يَجْعَلْ عَلَيْهِمْ شَيْئًا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.

وعن عمران بن حصين: أن غلاما لأناس فقراء قطع أذن غلام لأناس أغنياء، فأتى أهله النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا: إنا أناس فقراء فلم يجعل عليهم شيئا. رواه أبو داود والنسائي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے کہ فقیروں کے ایک غلام ۱؎نے امیروں کے ایک غلام کا کان کاٹ لیا اس کے والی نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۲؎بولے ہم لوگ تو فقیر ہیں تو ان پرحضور نے کچھ نہ مقرر فرمایا ۳؎(ابوداؤد،نسائی)۴؎

شرح حدیث

۱∞؎یہاں غلام سے مراد یا تو نابالغ آزاد بچہ یا نابالغ مدبر غلام جیساکہ آئندہ معلوم ہوگا یعنی ایک ایسا آزاد بچہ جس کے عصبہ وارث فقیرومساکین تھے دیت نہیں دے سکتے تھے یا ایسا غلام مدبر جس کے مولیٰ وارث فقراء تھے اس نے ایک ایسے لڑکے یا غلام کا کان کاٹ دیا جس کے عصبہ وارث یا مولے امیر تھے اور یہ مقدمہ بارگاہ رسالت میں دائر ہوا۔
۲
؎یعنی مظلوم نے یا اس کے وارثوں نے دعویٰ دائر کردیا،ظالم اور اس کے وارث جواب دعویٰ کے لیے حاضر ہوئے حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ظالم غلام کے مولیٰ یا ظالم بچہ کے عصبہ وارثو ں پر دیت لازم فرمادی کیونکہ اگرچہ عمدًا کان کاٹا گیا تھا مگر بچہ کا ارادہ کامل نہیں اسی لیے قاتل بچہ پر قصاص نہیں بلکہ اس کے وارث عصبہ پر دیت واجب ہوتی ہے اس عمد کا حکم خطا کا ہے۔
۳
؎اس سے معلوم ہوا کہ یہ ظالم نابالغ غلام نہ تھا ورنہ اسے فروخت کرکے اس کی قیمت سے دیت دلوائی جاتی،غلام کی دیت اس کی قیمت سے ادا کی جاتی ہے بلکہ یا تو آزاد تھا یا غلام تھا تو مدبر تھا جو ناقابل فروخت ہوتا ہے جس کی دیت مولیٰ پر ہوتی ہے،یہ بھی معلوم ہواکہ اگر مجرم کے وارث عصبات فقراء ہوں تو دیت بھی واجب نہیں ہوتی بلکہ وہاں مظلوم سے معافی دلوادی جاتی ہے۔
۴
؎امام شمنی فرماتے ہیں کہ بچہ،دیوانہ،بے ہوش مخبوط الحواس کا عمدبھی خطاء ہے کہ اس کے قتل عمد پر قصاص نہیں،بیہقی نے حضرت علی مرتضٰی سے روایت کیان عمدالمجنون والصبی خطاء۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3505