- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 5
- قصاص کابیان
- حدیث نمبر 3498
باب:دیتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3498
قصاص کابیان - جلد 5
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهٖ قَالَ: كَانَتْ قِيمَةُ الدِّيَةِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِ مِئَةِ دِينَارٍ أَوْ ثَمَانِيَةَ آلَافِ دِرْهَمِ، وَدِيَةُ أَهْلِ الْكِتَابِ يَوْمَئِذٍ النِّصْفُ مِنْ دِيَةِ الْمُسْلِمِينَ،قَالَ: فَكَانَ كَذَلِكَ حَتَّى اسْتُخْلِفَ عُمَرُ، فَقَامَ خَطِيبًا، فَقَالَ: إِنَّ الإِبِلَ قَدْ غَلَتْ قَالَ: فَفَرَضَهَا عُمَرُ عَلَى أَهْلِ الذَّهَبِ أَلْفَ دِينَارٍ، وَعَلَى أَهْلِ الْوَرِقِ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا، وَعَلَى أَهْلِ الْبقَرِ مِئتيْ بَقَرَةٍ، وَعَلَى أَهْلِ الشَّاءِ أَلْفَيْ شَاةٍ، وَعَلَى أَهْلِ الْحُلَلِ مِئَتَيْ حُلَّةٍ، قَالَ: وَتَرَكَ دِيَةَ أَهْلِ الذِّمَّةِ لَمْ يَرْفَعْهَا فِيمَا رَفَعَ من الدِّيَة. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال: كانت قيمة الدية على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم ثمان مئة دينار أو ثمانية آلاف درهم، ودية أهل الكتاب يومئذ النصف من دية المسلمين،قال: فكان كذلك حتى استخلف عمر، فقام خطيبا، فقال: إن الإبل قد غلت قال: ففرضها عمر على أهل الذهب ألف دينار، وعلى أهل الورق اثني عشر ألفا، وعلى أهل البقر مئتي بقرة، وعلى أهل الشاء ألفي شاة، وعلى أهل الحلل مئتي حلة، قال: وترك دية أهل الذمة لم يرفعها فيما رفع من الدية. رواه أبو داود.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی فرماتے ہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں دیت کی قیمت آٹھ سو اشرفیاں یا آٹھ ہزا درہم تھے ۱؎اور اس زمانہ میں اہلِ کتاب کی دیت مسلمانوں کی دیت سے آدھی تھی ۲؎فرماتے ہیں کہ یوں ہی رہا حتی کہ حضرت عمر خلیفہ بنے تو خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے فرمایا کہ اونٹ مہنگے ہوگئے ۳؎فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے سونے والوں پر ایک ہزار اشرفیاں اور چاندی والوں پر بارہ ہزار۴؎اور گائے والوں پر دوسو گائیں اور بکریوں والوں پر دو ہزار بکریاں اور جوڑے والوں پر دوسو جوڑے مقرر فرمائے ۵؎فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ذمیوں کی دیت یونہی چھوڑدی جیسے اور دیت بڑھائی تھی ان کی نہ بڑھائی ۶؎(ابوداؤد)
شرح حدیث
۱∞؎یعنی حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ پاک میں ایک اونٹ کی قیمت آٹھ دینارتھی لہذا سو اونٹ آٹھ سو دینار کے ہوئے،دینار دس درہم کا ہوتا ہے درہم قریبًا چار آنہ کا تو دینار ڈھائی روپیہ کا ہوا۔
۲؎اس کی بحث ابھی ہوچکی کہ یہاں اہل کتاب سے مراد غلام کتابی ہے اور مسلمان سے مراد آزاد مسلمان ہے یعنی غلام کافر کی دیت آزاد مسلمان سے آدھی تھی کیونکہ غلام کی دیت آزاد کی دیت سے آدھی ہوتی ہے لہذا یہ خبر اس حدیث کے خلاف نہیں کہ ذمیوں کے متعلق حضور نے ارشاد فرمایافدماء ھم کدماءناان کے خون ہمارے خونوں کی طرح ہیں۔یہ بھی خیال رہے کہ امام ابوحنیفہ کے نزدیک قتل خطاء کی دیت تین چیزوں سے ادا ہوسکتی ہے یا سو اونٹ یا ایک ہزار دینار یا بارہ ہزار درہم امام شافعی کا پہلا قول تو یہ ہی تھا مگر ان کا دوسرا قول یہ ہے کہ دیت میں اصل تو اونٹ ہیں باقی درہم و دینار اونٹ کی قیمت کے برابر ہوں گے یہ حدیث ان کی دلیل ہے۔
۳؎بعض روایات میں صرفغلتہے بغیر شد کے،یہغلاءسے بنا ہے بمعنی قیمت چڑھ جانا اسی لیے مہنگی چیز کو غالی اور سستی کو رخیص کہتے ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ سے اب اونٹوں کی قیمت زیادہ ہوگئی۔قالکا فاعل عمرو ابن شعیب کے دادا عمرو ابن عاص ہیں،دیکھو مرقات یہ ہی مقام۔
۴؎یعنی حضرت عمر نے دیت میں سو اونٹ کی قیمت بجائے آٹھ سو دینار کے ایک ہزار دینار لگائی اور چاندی کے بجائے آٹھ ہزار درہم کے دس ہزار لگائی کیونکہ اب سو اونٹوں کی یہ ہی قیمت تھی ایک اونٹ دس دینار کا یا ایک سو بیس درہم کا۔خیال رہے کہ دیت میں یا ایک ہزار اشرفیاں واجب ہیں یا دس ہزار درہم کیونکہ ایک اشرفی دس درہم کی ہوتی ہے یہاں بارہ ہزار وہ درہم ہیں جو دس ماشہ کے ہوتے ہیں،یہ درہم ہزار دینار میں بارہ ہزار ہوتے ہیں لہذا حدیث میں تعارض نہیں درہم مختلف قیمت کے ہیں۔
۵؎خیال رہے کہ بعض اماموں نے فرمایا کہ دیت میں سو اونٹ واجب ہیں اور اگر دینار یا دراہم سے دیت دینا ہے تو جو اس وقت سو اونٹ کی قیمت ہو وہ دی جائے مگر ہمارے امام صاحب فرماتے ہیں کہ دیت، اونٹ،سونے،چاندی سے ادا کی جائے یا سو اونٹ دیئے جائیں یا ایک ہزار دینار یا دس ہزار درہم،امام مالک کے ہاں حکم یہ ہے کہ اگر قاتل دیہاتی ہے جانوروں والا تو سو اونٹ دلوائے جائیں،اگر شہری اور اس شہر میں سونے کا سکہ چلتا ہے تو ہزار دینار دلوائے جائیں اور اگر شہر میں چاندی کے سکہ کا عام رواج ہے تو بارہ ہزار درہم دلوائے جائیں،امام احمد اور صاحبین کا قول ہے کہ دیت اونٹ،سونا چاندی،گائے،بکری،جوڑے سب سے ادا کی جاسکتی ہے ان کی دلیل یہ حدیث ہے،امام ابوحنیفہ کی دلیل بیہقی کی روایت ہے جو یہاں مرقات نے نقل فرمائی لہذا امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کے نزدیک اگر قاتل نے مقتول کے وارثوں سے بکریوں یا جوڑوں یا گایوں میں کم و بیش پر صلح کرلی تو درست ہے،صاحبین کے ہاں درست نہیں۔
۶؎لہذا ذمیوں کی دیت وہ ہی چار سو دینار یا چار ہزار درہم وہی اس حساب سے ذمی کی دیت چاندی سے مسلمان کی دیت سے تہائی ہوئی،یہ ہی بعض علماء کا قول ہے کہ ذمی کی دیت مسلمان کی دیت سے تہائی ہے، ہمارے ہاں مسلمان و ذمی دونوں کی دیت برابر ہے ہماری دلیل وہ حدیث ہےفدماءھم کدماءناالخ یعنی مسلمانوں اور ذمی کافروں کے خون و مال کا یکساں حکم ہے اسی لیے اگر کوئی مسلمان ذمی کافر کا مال چوری کرے تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3498