Main Icon

باب:دیتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3493

قصاص کابیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهٖ قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَوَاضِحِ خَمْسًا خَمْسًا مِنَ الإِبِلِ، وَفِي الأَسْنَانِ خَمْسًا خَمْسًا مِنَ الإِبِلِ، رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَرَوَى التِّرْمِذِيُّ وابنُ مَاجَهْ الْفَصْلَ الأَوَّلَ.

وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال: قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم في المواضح خمسا خمسا من الإبل، وفي الأسنان خمسا خمسا من الإبل، رواه أبو داود والنسائي والدارمي وروى الترمذي وابن ماجه الفصل الأول.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی فرماتے ہیں کہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے ہڈی کھول دینے والے زخم میں ۱؎پانچ پانچ اونٹوں کا اور دانتوں میں پانچ پانچ اونٹوں کا فیصلہ فرمایا ۲؎(ابوداؤد،نسائی،دارمی )اور ترمذی و ابن ماجہ نے پہلی صورت بیان فرمائی ۳؎

شرح حدیث

۱∞؎مواضحجمع ہےموضحہکی۔موضحہ وہ زخم ہے جو ہڈی کھول دے اس کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔
۲
؎یعنی اگر ایک ایک دانت علیٰحدہ علیٰحدہ توڑے تو فی دانت پانچ اونٹ واجب ہیں لہذا یہ حدیث گزشتہ حدیث کے خلاف نہیں جہاں فرمایا گیا تھا کہ دانتوں میں پوری دیت یعنی سو اونٹ واجب ہیں کہ وہاں یکدم سارے دانت توڑنا مراد تھا۔
۳
؎یعنی ابن ماجہ و ترمذی نے مواضح زخموں کی روایت فرمائی انہوں نے دانتوں کا ذکر نہ کیا،ابھی عرض کیا گیا کہ یہ تمام تفصیل خطاءً توڑدینے میں ہے۔خیال رہے کہ شجاج اور جراحت میں قصاص نہیں،شجاج سر کا وہ زخم جو آر پار نہ ہو،جراحت باقی جسم کا معمولی زخم جس سے ہڈی نہ کھلے نہ منتقل ہو۔(مرقات)چنانچہ عبدالرزاق نے اپنی مصنف میں حضرت حسن وعمر ابن عبدالعزیز سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے موضحہ سے کم زخم میں کوئی فیصلہ نہ فرمایا،نیز ایسے زخم کے قصاص میں برابری غیرممکن ہے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3493