Main Icon

باب:دیتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3495

قصاص کابیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "الأَصَابِعُ سَوَاءٌ، وَالأَسْنَانُ سَوَاءٌ، الثَنِيَّةُ وَالضِّرْسُ سَوَاءٌ، هَذِهِ وَهَذِهِ سَوَاءٌ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "الأصابع سواء، والأسنان سواء، الثنية والضرس سواء، هذه وهذه سواء". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ انگلیاں برابر ہیں ۱؎اور دانت برابر ہیں چنانچہ کچلی اور داڑھ برابر ہیں ۲؎یہ اوریہ برابر ہے ۳؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎کہ جیسے چھنگلی کاٹ دینے کی دیت دس اونٹ ہے ویسے ہی انگوٹھا کاٹ دینے کی دیت دس اونٹ۔
۲
؎عربی میں دانتوں کی چار قسمیں ہیں:سامنے کے چار دانت دو اوپر کے دو نیچے کے ثنایا کہلاتے ہیں،اس کا واحد ثنیہ ہے کہ یہ آپس میں ملے ہوتے ہیں ان کے برابر کے دانت رباعیہ،ان کے برابر کے دانت انیاب ناب کی جمع بمعنی کیل،ان کے بعد اضراس ضرس کی جمع بمعنی داڑھ،اردو میں اگلے چار دانتوں کو چوکڑی ان سے متصل کو کچلی،ان سے متصل کوکیلیں،ان سے متصل کو داڑھ کہا جاتا ہے۔مطلب یہ ہے کہ دانت چھوٹا ہو یا بڑا دیت فی دانت پانچ اونٹ ہی ہے۔
۳
؎یہاں اشارہ انگلیوں کی طرف ہے یعنی یہ چھنگلی اور یہ انگوٹھا دیت میں برابر ہے،انگلیوں کے بھی پانچ نام ہیں:کلمے کی انگلی مسبحہ یا سبابہ کہلاتی ہے،بیچ کی انگلی وسطٰی،اس سے متصل بنصر،اس سے ملی ہوئی یعنی چھنگلی،خنصر اور انگوٹھا بہام۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3495