Main Icon

باب:دیتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3487

قصاص کابیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنِينِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي لِحْيَانَ سَقَطَ مَيِّتًا بِغُرَّةٍ: عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ،ثُمَّ إِنَّ الْمَرْأَةَ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا بِالْغُرَّةِ تُوُفِّيَتْ، فَقَضَى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَنَّ مِيرَاثَهَا لِبَنيِهَا وَزَوْجِهَا، وَالْعَقْلَ عَلَى عَصَبَتِهَا مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أبي هريرة قال: قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم في جنين امرأة من بني لحيان سقط ميتا بغرة: عبد أو أمة،ثم إن المرأة التي قضى عليها بالغرة توفيت، فقضى رسول الله صلى الله عليه وسلم بأن ميراثها لبنيها وزوجها، والعقل على عصبتها متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے بنی لحیان کی ایک عورت کے کچے بچے کے متعلق جو کچا گر گیا تھا ۱؎ایک غلام یا لونڈی کا فیصلہ فرمایا ۲؎پھر وہ عورت جس پر غلام کا فیصلہ کیا گیا تھا مرگئی ۳؎تو رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے فیصلہ فرمایا کہ اس کی میراث اس کے لڑکوں اور خاوند کی ہے ۴؎اور دیت ۵؎اس کے وارثوں کی ہے۔(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎لحیان قبیلہ ہذیل کی ایک شاخ ہے،اسی لحیان کی ایک حاملہ عورت کے پیٹ پرکسی نے لات یا گھونسا یا لکڑی ماری جس سے اس کے پیٹ کا مردہ بچہ گر گیا،اگر بچہ زندہ گرتا پھر مرتا تو مارنے والے پر پوری دیت سو اونٹ واجب ہوتی کہ بچے اور بڑے کی دیت برابر ہے مگر یہاں مردہ بچہ گرا تھا اور عورت نہ مری تھی۔
۲
؎غرہکے معنے ہیں چمک و روشنی اسی لیے چاندنی راتوں کو غرہ کہا جاتا ہے،قوم کے بڑے آدمی کو غریر اور انسان کی پیشانی اور چہرے کی سفیدی کو غرہ کہتے ہیں،یہاں غرہ زائد ہے مراد غلام ہے خون کالا ہو یا سفید۔ (اشعہ)اگر عورت بچہ ڈال کر مرتی تو عورت کی پوری دیت اور بچہ کے عوض غلام قاتل پر لازم ہوتا اور اگر عورت مرکر بچہ ڈالتی تو صرف عورت کی دیت واجب ہوتی بچہ کاکچھ نہیں۔(مرقات)
۳
؎یعنی مجرمہ مارنے والی عورت ادائے غلام سے پہلے مرگئی۔
۴
؎کیونکہ اس عورت کے وارث صرف اس کا خاوند اور لڑکے ہی تھے۔
۵
؎یعنی اس قاتلہ عورت کی میراث اس کے خاوندوبچوں کو ملے گی اور جو اس پر غلام دینا واجب تھا وہ اس کے دوسرے عصبہ وارث دیں گے۔دیت کو عقل اس لیے کہتے ہیں کہ عقل کے معنے ہیں روکنا باندھنا،چونکہ قاتل دیت کے اونٹ مقتول کے دروازے پر باندھتا تھا یا دیت قاتل کو قتل سے روکتی ہے اس لیے اسے دیت کہتے ہیں۔اس جملہ کے مرقات نے اور بھی معنے کیے مگر ہم نے جو عرض کیایہ ظاہر ہے۔واﷲ اعلم و رسولہ!

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3487