Main Icon

باب:دیتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3489

قصاص کابیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ: أَنَّ امْرَأَتَيْنِ كَانَتَا ضَرَّتَيْنِ، فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى بِحَجَرٍ أَوْ عَمُودِ فُسْطَاطٍ، فَأَلْقَتْ جَنِينَهَا، فَقَضَى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الجَنينِ غُرَّةً: عبْدًا أَوْ أَمَةً، وَجَعَلَهُ عَلَى عَصَبَةِ الْمَرْأَةِ، هَذِهِ رِوَايَةُ التِّرْمِذِيِّ، وَفِي رِوَايَةِ مُسْلِمِ: قَالَ: ضَرَبَتِ امْرَأَةٌ ضَرَّتَهَا بِعَمُودِ فُسْطَاطٍ، وَهِيَ حُبْلَى فَقَتَلَتْهَا، قَالَ: وَإِحْدَاهُمَا لِحْيَانِيَّةٌ، قَالَ: فَجَعَلَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِيَةَ الْمَقْتُولَۃِ عَلَى عَصَبَةِ الْقَاتِلَةِ،وَغُرَّةً لِمَا فِي بَطْنِهَا.

وعن المغيرة بن شعبة: أن امرأتين كانتا ضرتين، فرمت إحداهما الأخرى بحجر أو عمود فسطاط، فألقت جنينها، فقضى رسول الله صلى الله عليه وسلم في الجنين غرة: عبدا أو أمة، وجعله على عصبة المرأة، هذه رواية الترمذي، وفي رواية مسلم: قال: ضربت امرأة ضرتها بعمود فسطاط، وهي حبلى فقتلتها، قال: وإحداهما لحيانية، قال: فجعل رسول الله صلى الله عليه وسلم دية المقتولۃ على عصبة القاتلة،وغرة لما في بطنها.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت مغیرہ بن شعبہ سے کہ دو عورتیں سوکنیں تھیں تو ایک نے دوسری کو پتھر یا خیمہ کی چوب ماری ۱؎تو اس نے اپنے پیٹ کا بچہ ڈال دیا۲؎نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے کچے بچے کے متعلق غلام یا لونڈی کا فیصلہ فرمایا اور اسے عورت کے وارثوں پر مقرر فرمایا ۳؎یہ ترمذی کی روایت ہے۴؎مسلم کی روایت یوں ہے کہ فرمایا ایک عورت نے اپنی سوکن کو خیمہ چوب ماری وہ تھی حاملہ اسے قتل کردیا فرمایا ان میں سے ایک بنی لحیان کی تھی ۵؎فرماتے ہیں کہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے مقتولہ کی دیت قاتلہ عورت کے وارثوں پر لازم کی اور پیٹ کے بچہ پر غلام ۶؎

شرح حدیث

۱∞؎فسطاطچھوٹا خیمہ جو سفر میں اکثر کام چلانے کے لیے لگایا جاتا ہے اس کی چوب کافی بھاری ہوتی ہے۔
۲
؎اس طرح کہ بچہ گرنے سے پہلے مرچکا تھا یا ابھی اس میں جان نہ پڑی تھی،اس کے متعلق عرض کیا جاچکا ہے کہ قاتلہ مقتولہ کو ایک غلام یا لونڈی دے،اگر زندہ پیدا ہوکر مرتا تو پوری دیت واجب ہوتی کہ اب وہ قتل کے حکم میں ہوتا۔
۳
؎یعنی بچہ کی ماں مرگئی تو ماں کی دیت قاتلہ کے وارثوں پر مقرر فرمادی۔
۴
؎یہ صاحب مصابیح پر اعتراض ہے کہ انہوں نے پہلی فصل میں غیرصحیحین کی روایت درج کی حالانکہ ان کا قاعدہ ہے کہ فصل اول میں مسلم،بخاری کی روایت لائیں۔
۵
؎پہلے کہا جاچکا ہے کہ لحیان قبیلہ ہذیل کا ایک خاندان ہے یعنی ایک عورت تو بنی لحیان کی تھی دوسری کا پتہ نہ چلا۔
۶
؎یہ حدیث پہلی حدیث کی تفسیر ہے یعنی اس کے پیٹ سے بچہ کچا گر گیا اور وہ خود بھی مرگئی تو بچہ کے عوض قاتلہ عورت پر غلام واجب فرمایا جو بچہ کا عوض تھا اور عورت کی دیت قاتلہ عورت کے عصبہ وارثوں پر لازم فرمائی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3489