Main Icon

باب:دیتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3497

قصاص کابیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ خِشْفِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دِيَةِ الْخَطَأِ عِشْرِينَ بِنْتَ مَخَاضٍ، وَعِشْرِينَ ابْنَ مَخَاضٍ ذُكُورٍ، وَعِشْرِينَ بِنْتَ لَبُونٍ، وَعِشْرِينَ جَذَعَةً، وَعِشْرِينَ حِقَّةً. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ، وَالصَّحِيحُ أَنَّهُ مَوْقُوفٌ عَلَى ابْنِ مَسْعُودٍ،وَخِشْفٌ مَجْهُولٌ لَا يُعْرَفُ إِلَّا بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَرُوِيَ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ": أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَى قَتِيلَ خَيْبَرَ بِمِئَةٍ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ، وَلَيْسَ فِي أَسْنَانِ إِبِلِ الصَّدَقَةِ ابْنُ مَخَاضٍ، إِنَّمَا فِيهَا ابْنُ لَبُونٍ.

وعن خشف بن مالك عن ابن مسعود قال: قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم في دية الخطأ عشرين بنت مخاض، وعشرين ابن مخاض ذكور، وعشرين بنت لبون، وعشرين جذعة، وعشرين حقة. رواه الترمذي وأبو داود والنسائي، والصحيح أنه موقوف على ابن مسعود،وخشف مجهول لا يعرف إلا بهذا الحديث، وروي في "شرح السنة": أن النبي صلى الله عليه وسلم ودى قتيل خيبر بمئة من إبل الصدقة، وليس في أسنان إبل الصدقة ابن مخاض، إنما فيها ابن لبون.

حدیث ترجمہ

روایت حضرت خشف ابن مالک سے ۱؎وہ حضرت ابن مسعود سے راوی فرماتے ہیں کہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے خطاء کی دیت میں یہ فیصلہ فرمایا کہ بیس یک سالہ اونٹنیاں۲؎اور بیس یک سالہ نر اونٹ اور بیس دو سالہ اونٹنیاں اور بیس تین سالہ اور بیس چار سالہ ۳؎(ترمذی،ابوداؤد،نسائی)صحیح یہ ہے کہ یہ حدیث حضرت ابن مسعود پر موقوف ہے ۴؎اور خشف مجہول آدمی ہیں صرف اس حدیث سے پہچانے گئے ہیں۵؎اور شرح سنہ میں یوں روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے خیبر کے مقتول کی دیت صدقہ سے سو اونٹ دیئے اور صدقہ کے اونٹوں کی عمروں میں کوئی ایک سالہ نر اونٹ نہیں ہوتا اس میں دو سالہ اونٹ ہی ہوتے ہیں۶؎ ۔

شرح حدیث

۱∞؎آپ طائی ہیں،تابعی ہیں،اپنے والد اور حضرت عمر اور ابن مسعود سے روایات لیتے ہیں،نسائی نے آپ کو ثقہ کہا۔(مرقات)خشفخ کے کسرہ اور ش کے سکون سے ہے۔
۲
؎لفظ بنت مخاض کبھی نر و مادہ دونوں اونٹوں پر بولا جاتا ہے مگر یہاں مادہ یکسالہ اونٹنی مراد ہے کیونکہ نر کا ذکر آگے آرہا ہے۔
۳
؎یہ حدیث امام اعظم کی دلیل ہے قتل خطاء کی دیت سو اونٹ ہیں مگر پانچ حصوں سے جو یہاں مذکور ہیں، امام شافعی کے ہاں بھی پانچ ہی حصے ہیں مگر ان کے ہاں بجائے بیس ابن مخاض کے بیس ابن لبون ہیں یہ حدیث ہماری دلیل ہے۔
۴
؎الحمدﷲ!کہ مؤلف رحمۃ اعلیہ نے حدیث موقوف کو صحیح مانا ہے اور اس قسم کی موقوف حدیث حکم میں مرفوع حدیث کے ہے کیونکہ تعداد و مقدار اپنی رائے سے نہیں مقرر کی جاسکتی ضرور حضرت ابن مسعود نے یہ تعداد حضور سے سن کر بیان فرمائی ہے۔
۵
؎خشفہرگز مجہول نہیں کیونکہ یہ خشف اپنے والد مالک طائی و ابن مسعود سے روایت لیتے ہیں اور جب ان سے یہ حدیث مروی ہوئی تو اگرچہ وہ مشہور تو نہ ہوئے مگر مجہول بھی نہ رہے،نیز خشف کی توثیق نسائی، ابن حبان،زید ابن جبیرحسمی اور ابن معین نے کی ہے۔(مرقات)بخاری نے اپنی تاریخ میں فرمایا کہ خشف ابن مالک نے حضرت عمر اور ابن مسعود سے احادیث سنی ہیں،نیز جب یہ حدیث موقوفًا صحیح ہے تو مرفوعًا یہ حرج مضر نہیں۔
۶
؎مقصد یہ ہے کہ خطاء کی دیت میں ابن مخاض نہ چاہیے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک موقعہ پر جب کہ ایک مسلمان خیبر میں شہید کیا گیا تھا اور قاتل کا پتہ نہ لگا تھا تو مقتول کی دیت سو اونٹ بیت المال سے ادا فرمائی تھی مقتول کے وارثوں کو اور مسئلہ فقہیہ ہے کہ اونٹ کی زکوۃ میں ابن مخاض لیا جاتا ہی نہیں تو اگر دیت میں ابن مخاض یعنی یک سالہ نر اونٹ ہوتا تو آپ زکوۃ کے اونٹ سے کیسے ادا فرماتے کہ یہ تو زکوۃ اونٹ میں ابن مخاض ہوتا ہی نہیں مگر اس دلیل پر دو بحث ہیں:ایک یہ کہ یہ دیت نہ تھی محض کرم و مہربانی تھی ورنہ دیت قاتل پر ہوتی ہے نہ کہ بیت المال پر،وہاں قاتل کا پتہ لگا ہی نہ تھا پھر دیت کیسی۔ دوسرے یہ کہ وہاں خیبر میں قتل خطاءً نہ ہوا تھا قتل عمدًا تھا اور واقعی قتل عمد کی دیت میں ابن مخاض نہیں لیا جاتا ہماری گفتگو قتل خطاء کی دیت میں ہے لہذا یہ حدیث امام اعظم کے خلاف نہیں۔خیال رہے کہ اس موقعہ پر حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ سو اونٹ فقراء کی تملیک کے بعد دیت میں دیئے تھے ورنہ صدقہ و زکوۃ کے اونٹ فقراء کا حق ہے یہ دیت میں نہیں دیئے جاتے۔(ازمرقات مع زیادۃ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3497