Main Icon

باب:دیتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3502

قصاص کابیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهٖ قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعَيْنِ الْقَائِمَةِ السَّادَّةِ لِمَكَانِهَا بِثُلُثِ الدِّيَةِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ

وعنه عن أبيه عن جده قال: قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم في العين القائمة السادة لمكانها بثلث الدية. رواه أبو داود والنسائي

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی فرماتے ہیں کہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے اس آنکھ کے بارے میں جو اپنی جگہ قائم رہے تہائی دیت کا فیصلہ فرمایا ۱؎(ابوداؤد،نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اگر کسی نے کسی کی آنکھ پر ایسی چوٹ ماری جس سے آنکھ کی بینائی تو جاتی رہی مگر وہ آنکھ اپنی جگہ ویسے ہی قائم رہی جیسے پہلے تھی حتی کہ آنکھ کی شکل نہ بگڑی جیسا کہسادۃسے معلوم ہوا۔اس صورت میں اس مارنے والے پر تہائی دیت کا فیصلہ فرمایا،پہلے گزرچکا کہ دونوں آنکھیں نکال دینے میں پوری دیت واجب ہے یعنی سو اونٹ اور آنکھ میں آدھی دیت ہے یعنی پچاس اونٹ مگر یہاں تہائی دیت یعنی ۳۳ اونٹوں کا ذکر ہوا،اولًا تو یہ حدیث محدثین کے نزدیک صحیح نہیں سواء اسحاق کے کسی نے اس پرعمل نہ کیا،اگر صحیح بھی ہو تو یہاں حکم شرعی کا ذکر نہیں بلکہ ایک خصوصی واقعہ کا ذکر ہے کہ ایک اسی قسم کا مجروح حاضر بارگاہ ہوا تو چونکہ اس کی آنکھ اپنی جگہ قائم بھی تھی اور درست بھی تھی صرف روشنی جاتی رہی تھی اس لیے حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ان میں اس طرح مصالحت کرادی کہ اگر یہ مجروح شخص غلام ہوتا تو اس چوٹ سے اس کی تہائی قیمت کم ہوجاتی لہذا تو اسے تہائی دیت دے کر آپس میں مصالحت کرلے لہذا یہ خصوصی واقعہ ہے قاعدہ شرعیہ نہیں لہذا یہ حدیث گزشتہ نصوص دیت والی کے مخالف نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3502