Main Icon

باب:دیتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3488

قصاص کابیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: اقْتَتَلَتِ امْرَأَتَانِ مِنْ هُذَيْلٍ، فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى بِحَجَرٍ، فَقَتَلَتْهَا وَمَا فِي بَطْنِهَا، فَقَضَى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ دِيَةَ جَنِينِهَا غُرَّةٌ: عَبْدٌ أَوْ وَلِيدَةٌ، وَقَضَى بِدِيَةِ الْمَرْأَةِ عَلَى عَاقِلَتِهَا، وَوَرَّثَهَا وَلَدَهَا وَمَنْ مَعَهُمْ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعنه قال: اقتتلت امرأتان من هذيل، فرمت إحداهما الأخرى بحجر، فقتلتها وما في بطنها، فقضى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن دية جنينها غرة: عبد أو وليدة، وقضى بدية المرأة على عاقلتها، وورثها ولدها ومن معهم. متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان سے ہی فرماتے ہیں کہ ہذیل کی دو عورتیں لڑیں تو ایک نے دوسری کو پتھر مارا ۱؎تو اس کو اور اس کے پیٹ کے بچہ کو قتل کردیا تو رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے فیصلہ فرمایا کہ پیٹ کے بچہ کی دیت ایک غلام یا لونڈی ہے اورعورت کی دیت کا فیصلہ اس کے وارثوں پر فرمایا ۲؎اور دیت کا وارث اس کے بچہ کو اور ساتھیوں کو بنایا ۳؎

شرح حدیث

۱∞؎دونوں عورتیں آپس میں سوت تھیں،قبیلہ ہذیل کی تھیں،سوت عورتوں کی دشمنی تو مشہور ہے پتھر بڑا تھا جو قتل کے ارادے سے مارا گیا۔
۲
؎چونکہ جرم دو ہوئے تھے اس لیے اس کی سزائیں بھی دو ہوئیں بچہ کے عوض لونڈی یا غلام خود اس قاتلہ کے مال سے جیساکہ اوپرگزرا اور خود عورت کی دیت قاتلہ عورت کے عصبہ وارثوں پر مقرر فرمائی،یہ حدیث امام اعظم کی دلیل ہے کہ بغیر دھار والے ہتھیار سے قتل کردینے کی صورت میں قتل پر قصاص نہیں ہوتا دیت واجب کی،دیکھو یہاں پتھر سے عورت کو قتل کیا مگر قصاص نہ واجب ہوا۔
۳
؎حق یہ ہے کہورثھاکی ضمیر دیت کی طرف ہے اورولدھاکی ضمیر مقتولہ عورت کی طرف یعنی قاتلہ کے عصبہ وارثوں سے جو دیت دلوائی گئی اس دیت کا وارث مقتولہ کی اولاد اور اس کے دوسرے وارثوں کو قرار دیا گیا،بعض لوگوں نے یہ دونوں ضمیریں قاتلہ عورت کی طرف راجع کیں یہ غلطی ہے کہ اس میں مضاف پوشیدہ ماننا پڑے گا۔معہمسے مراد اس مقتولہ کا خاوند وغیرہ وارثین ہیں،چونکہولداسم جنس ہے اس لیے اس کی طرف ضمیرجمع بھی لوٹ سکتی ہے۔اس پر تو تمام آئمہ کا اتفاق ہے کہ قتل خطا کی دیت قاتل کے عصبہ وارثوں پر ہے،اس میں اختلاف ہے کہ خود قاتل بھی اس دیت میں داخل ہوگا یا نہیں،ہمارے امام اعظم فرماتے ہیں کہ داخل ہوگا بقدر حصہ وہ بھی دے گا،امام شافعی فرماتے ہیں کہ اگر وارثین سے دیت پوری نہ ہوسکے تو قاتل سے بھی حصہ لو ورنہ نہیں،امام احمد کے ہاں قاتل پر مطلقًا نہیں اگر دیت وارث پوری نہ کرسکیں تو بیت المال سے پوری کی جائے۔یہ مسئلہ کہ کس وارث پر کتنی دیت ہوگی اور کتنے عرصہ میں ادا کی جائے گی اور اس کے متعلق علماءکرام کے کیا اختلافات ہیں یہ کتب فقہ میں یا اسی جگہ مرقات میں ملاحظہ فرمایئے یہاں اس کی گنجائش نہیں یہ بہت دراز گفتگو ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3488