Main Icon

باب:دیتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3500

قصاص کابیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهٖ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَوِّمُ دِيَةَ الْخَطَأِ عَلَى أَهْلِ الْقُرَى أَرْبَعَ مِئَةِ دِينَارٍ أَوْ عَدْلَهَا مِنَ الْوَرِقِ، وَيُقَوِّمُهَا عَلَى أَثْمَانِ الإِبِلِ، فَإِذَا غَلَتْ رَفَعَ فِي قِيمَتِهَا، وإِذَا هاجَتْ رُخْصٌ نَقَصَ مِنْ قِيمَتِهَا، وَبَلَغَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ أَرْبَعِ مِئَةِ دِينَارٍ إِلَى ثَمَانِ مِئَةِ دِينَارٍ، وَعِدْلُهَا مِنَ الْوَرِقِ ثَمَانِيَةُ آلافِ دِرْهَمٍ قَالَ: وَقَضَى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَهْلِ الْبَقَرِ مِائَتَيْ بَقَرَةٍ، وَعَلَى أَهْلِ الشَّاءِ أَلْفَيْ شَاةٍ، وَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِنَّ الْعَقْلَ مِيرَاث بَيْنَ وَرَثَةِ الْقَتِيلِ"، وَقَضَى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ عَقْلَ الْمَرْأَةِ بَيْنَ عَصَبَتِهَا، وَلَا يَرِثُ الْقَاتِلُ شَيْئًا. رَوَاهُ أَبُو دَاودَ وَالنَّسَائِيُّ.

وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقوم دية الخطأ على أهل القرى أربع مئة دينار أو عدلها من الورق، ويقومها على أثمان الإبل، فإذا غلت رفع في قيمتها، وإذا هاجت رخص نقص من قيمتها، وبلغت على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم ما بين أربع مئة دينار إلى ثمان مئة دينار، وعدلها من الورق ثمانية آلاف درهم قال: وقضى رسول الله صلى الله عليه وسلم على أهل البقر مائتي بقرة، وعلى أهل الشاء ألفي شاة، وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "إن العقل ميراث بين ورثة القتيل"، وقضى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن عقل المرأة بين عصبتها، ولا يرث القاتل شيئا. رواه أبو داود والنسائي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی فرماتے ہیں کہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم گاؤں والوں پر خطاء کی دیت کی قیمت چار سو اشرفیاں یا ان کے برابر چاندی لگاتے تھے ۱؎اور یہ قیمت اونٹ کی قیمت پرتھی پھر جب اونٹ مہنگے ہوجاتے تو ان کی قیمت میں زیادتی فرمادیتے اور جب سستے ہوجاتے ۲؎تو ان کی قیمت میں کمی فرمادیتے۳؎اور رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں قیمت چار سو اشرفیوں سے آٹھ سو اشرفیوں کے درمیان رہی اور اس کے برابر چاندی آٹھ ہزار درہم فرماتے ہیں۴؎کہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے گائے والوں پر دو سو گائیں اور بکریوں والوں پر دو ہزار بکریوں کا فیصلہ فرمایا ۵؎اور فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ دیت مقتول کے وارثوں کے درمیان میراث ہے ۶؎اور رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے فیصلہ فرمایا کہ عورت کی دیت اس کے عصبہ وارثوں کے درمیان ہے ۷؎اور قاتل کسی چیز کا وارث نہیں ۸؎(ابوداؤد، نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎عدلع کے فتح اور کسرہ سے بمعنی برابر اور ہم قیمت یعنی چارسو دینار یا اس کے برابر اور ہم قیمت درہم۔
۲
؎ھاجت ھجسے بنا بمعنی ظہور،رخصبمعنی ارزانی یعنی جب اونٹوں میں ارزانی ظاہر ہوتی اور انکی قیمت گر جاتی۔
۳
؎یہ حدیث ان لوگوں کی دلیل ہے جو کہتے ہیں کہ دیت صرف اونٹ سے ہے اگر کسی اور چیز سے ادا کی جائے تو اونٹ کی ہی قیمت کا لحاظ ہوگا،یہ ہی امام شافعی رحمۃ اعلیہ کا پرانا قول تھا جس سے انہوں نے رجوع فرمالیا۔
۴
؎عمرو ابن شعیب کے دادا عبداابن عمرو ابن عاص۔
۵
؎یہ جملہ حضرات صاحبین رحمۃ اعلیہما کی دلیل ہے کہ دیت صرف اونٹ یا سونے چاندی سے نہیں بلکہ گایوں بکریوں سے بھی ہوتی ہے یہ اختلاف ہم ابھی پچھلی حدیث کی شرح میں عرض کرچکے ہیں وہاں مطالعہ فرمایئے۔
۶
؎یعنی دیت کا مال جو قاتل کی طرف سے و صول ہو گا وہ مقتول کے ورثاء کو بقدر میراث ملے گا جیسے اس کے دوسرے اموال میراث تھے۔
۷
؎اس جملہ کے دو معنے ہوسکتے ہیں:ایک یہ کہ قاتلہ عورت پر جو دیت واجب ہوگی وہ اس کے عصبہ وارث ادا کریں گے جیسے قاتل مرد کی دیت کا حال ہے۔دوسرے یہ کہ مقتولہ عورت کی دیت جو قاتل کی طرف سے وصول ہوگی وہ اس مقتولہ کے واثوں میں بقدر میراث تقسیم ہوگی جیسے مقتول مرد کی دیت کا حال ہے۔غرضکہ مسئلہ دیت میں عورت بالکل مرد کی طرح ہے۔خیال رہے کہ یہ آزاد مردوعورت کا ذکر ہے غلام و لونڈی کا یہ حکم نہیں،قاتل غلام و لونڈی کی دیت ان کے مال فروخت کرکے انکی قیمت سے ادا کی جائے گی اس کے رشتہ دار ورثاء سے وصول نہ کی جائے گی،یوں ہی مقتول غلام ولونڈی کی دیت ان کا مالک وصول کرے گا نہ کہ اس کے رشتہ دار ورثاء لہذا حدیث بالکل ظاہر ہے اس پر کوئی اعتراض نہیں۔
۸
؎یہ اسلام کا قانون کلی ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے عزیز قرابتدار کو قتل کردے تو وہ اس کی میراث سے یکسر محروم ہے۔چند چیزیں محرومی کا سبب ہیں:اختلاف دین،غلامیت اور قتل،کفار کے لیے اختلاف دارین یعنی ملکوں کا اختلاف بھی۔اس کی تفصیل کے لیے ہماری کتاب"علم المیراث"کا مطالعہ فرمایئے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3500