Main Icon

باب:دیتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3503

قصاص کابیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الجَنينِ بغُرَّةٍ: عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ أَوْ فَرَسٍ أَوْ بَغْلٍ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَقَالَ: رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ وَخَالِدٌ الْوَاسِطِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، وَلَمْ يَذْكُرْ: أَوْ فَرَسٍ أَوْ بَغْلٍ.

وعن محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال: قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم في الجنين بغرة: عبد أو أمة أو فرس أو بغل. رواه أبو داود وقال: روى هذا الحديث حماد بن سلمة وخالد الواسطي عن محمد بن عمرو، ولم يذكر: أو فرس أو بغل.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت محمد ابن عمرو سے ۱؎وہ ابوسلمہ سے ۲؎وہ ابوہریرہ سے راوی فرماتے ہیں کہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے کچے بچے کے متعلق ۳؎غلام یا لونڈی ۴؎یا گھوڑے یا خچر ۵؎کا فیصلہ فرمایا۔(ابوداؤد) فرمایا یہ حدیث حماد ابن سلمہ اور خالد واسطی نے محمد ابن عمرو سے ۶؎روایت کی اور گھوڑے کا ذکر نہ فرمایا ۷؎

شرح حدیث

۱∞؎محمد ابن عمرو ابن حسن ابن علی ابن ابی طالب،آپ تابعی ہیں،حضور جابر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہے ان سے احادیث روایت کیں۔
۲
؎آپ اپنی کنیت میں مشہور ہیں،عبدالرحمن ابن عوف کے بھتیجے ہیں،زہری ہیں،قریشی ہیں،مدینہ منورہ کے سات مشہور فقہاء میں سے ہیں،تابعین میں سے ہیں،حضرت ابن عباس،ابوہریرہ،عبداابن عمر رضی اللہ عنہم وغیرہ سے ملاقات ہے،آپ سے بہت احادیث مروی ہیں۔
۳
؎یعنی اگرکوئی کسی حاملہ عورت کے پیٹ پر ایسی چوٹ مار دے جس سےاس کے پیٹ کا بچہ گر جائے۔
۴
؎لفظغرہکے لغوی معنے ہیں چمک دار چیز پھر ہر اعلیٰ چیز کو غرہ کہا جانے لگا اب غرہ سے مراد انسان ہوتا ہے کیونکہ وہ اشرف المخلوقات ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنۡسٰنَ فِیۡۤ اَحْسَنِ تَقْوِیۡمٍ" یہاںغرہمبدل منہ ہے اورعبد او امۃبدل۔
۵
؎امام نووی شارح مسلم نے اور مرقات شرح مشکوۃ نے اس جگہ فرمایا کہ حدیثامۃپرختم ہوگئی۔لفظفرساوربغلکی زیادتی عیسیٰ ابن یونس راوی کیطرف سے ہے یہ زیادتی باطل محض ہے کیونکہ لفظغرہصرف انسان پر بولا جاتا ہے گھوڑے خچر وغیرہ کو غرہ نہیں کہتے۔
۶
؎حماد ابن سلمہ علماءبصرہ میں بڑے پائے کے عالم ہیں،حمید طویل کے بھانجہ ہیں،حضرت شعبہ امام مالک ابن مبارک اور وکیع کے استاذ حدیث ہیں، ۱۶۷ھ؁ ∞ میں وفات پائی اور خالد واسطی طحان حافظ حدیث بہت متقی پرہیزگار ہیں آپ نے تین باراپنے وزن کی چاندی خیرات کی۔(اشعۃ اللمعات)
۷
؎یہ زیادتی شاذ ہے اور یہ حدیث ضعیف۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3503