- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 5
- قصاص کابیان
- حدیث نمبر 3496
باب:دیتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3496
قصاص کابیان - جلد 5
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهٖ قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ ثُمَّ قَالَ: "أَيُّهَا النَّاسُ! إِنَّهُ لَا حِلْفَ فِي الإِسْلَامِ، وَمَا كَانَ مِنْ حِلْفٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَإِنَّ الإِسْلَامَ لَا يَزِيدُهُ إِلَّا شِدَّةً، الْمُؤْمِنُونَ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ، يُجيرُ عَلَيْهِمْ أَدْنَاهُمْ، وَيَرُدُّ عَلَيْهِم أَقْصَاهُمْ، يَردُّ سَرَايَاهُمْ عَلَى قَعِيدَتِهِمْ، لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ، دِيَةُ الْكَافِرِ نِصْفُ دِيَةِ الْمُسْلِمِ،لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ،وَلَا تُؤْخَذُ صدَقَاتُهُمْ إِلَّا فِي دُورِهِمْ" وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: "دِيَةُ الْمُعَاهِدِ نِصْفُ دِيَةِ الْحُرِّ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال: خطب رسول الله صلى الله عليه وسلم عام الفتح ثم قال: "أيها الناس! إنه لا حلف في الإسلام، وما كان من حلف في الجاهلية فإن الإسلام لا يزيده إلا شدة، المؤمنون يد على من سواهم، يجير عليهم أدناهم، ويرد عليهم أقصاهم، يرد سراياهم على قعيدتهم، لا يقتل مؤمن بكافر، دية الكافر نصف دية المسلم،لا جلب ولا جنب،ولا تؤخذ صدقاتهم إلا في دورهم" وفي رواية قال: "دية المعاهد نصف دية الحر". رواه أبو داود.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی فرماتے ہیں کہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے فتح مکہ کے دن خطبہ دیا تو فرمایا اے لوگو اسلام میں حلیف بنانا کچھ نہیں ۱؎اور جو حلف زمانہ جاہلیت میں ہوچکا ہو تو اسلام اس کی پختگی ہی بڑھائے گا ۲؎مگرمسلمان آپس میں دوسرے کے مقابل مددگار ہیں ۳؎کہ ان پر ان کا ادنی آدمی امان دے سکتا ہے ۴؎اور ان کا دور کا آدمی غنیمت واپس کرسکتا ہے ۵؎ان کے لشکر ان کے بیٹھے ہوؤں پر رد کریں گے ۶؎نہ قتل کیا جائے مؤمن کافر کے عوض ۷؎اور کافر کی دیت مسلمان کی دیت سے آدھی ہے۸؎نہ منگانا ہے اور نہ دور لے جانا ان کے صدقات نہ وصول کیے جائیں مگر ان کے گھروں میں ۹؎اور ایک روایت میں ہے فرمایا کہ ذمی کی دیت آزاد کی دیت سے آدھی ہے ۱۰؎(ابوداؤد)
شرح حدیث
۱∞؎حلفح کے کسرہ سے ہے بمعنی معاہدہ اسی سے ہے تحالف۔زمانہ جاہلیت میں بعض لوگ یا بعض قومیں دوسرے لوگوں یا قوموں سے معاہدہ کرلیتے تھے کہ آج تیرا خون میرا خون ہے تیری جان میری جان ہے تیرا مال میرا مال ہے کہ ہم میں سے جس پر حملہ ہو دوسرا مدد کرے یا ہم میں سے جوبھی کسی سے لڑے تو دوسرا امداد دے جس سے صلح کرے دوسرا صلح میں شریک ہو ہر ایک دوسرے کا بعد موت وارث ہوگا میری دیت تو دے گا تیری میں دوں گا میرا بدلہ تو لے گا تیرا میں لوں گا،ایسے لوگوں یا ایسی قوموں کو حلیف کہتے تھے۔شروع اسلام میں اس قسم کے معاہدے جاری رہے کہ ان کے ذریعہ لوگوں کے جان و مال محفوظ تھے ان کے بغیر کوئی شخص یا قوم محفوظ نہ رہ سکتے تھے۔فتح مکہ کے سال اس کو منسوخ کردیا گیا کہ ملکی حالات بدل چکے تھے لوگوں کے مال و جان محفوظ ہو گئے تھے۔
۲؎یعنی نئے معاہدے و حلف کرو مت،پچھلے معاہدے پورے کردو کہ وعدہ پورا کرنا ضر وری ہے،بعض شارحین نے فرمایا کہ اصل حلف اب بھی باقی ہے مگر حلف کی دو چیزیں منسوخ ہوگئیں ایک میراث کہ یہ رشتہ داروں کو ملے گی نہ کہ حلیف کو اور ایک تنا صرکہ اپنے حلیف کی ظلم پر مدد کرنا کہ اگرچہ وہ ظالم ہو اس کو مدد دینا،یہ ممنوع ہے۔(مرقات)بہرحال مظلوم کی اعانت پر معاہدہ اچھا ہے،قتل و غارت ڈکیتی ظلم پر معاہدہ سخت جرم ہے۔اس جملہ آخری کا یہ ہی مطلب ہے کہ جاہلیت کے معاہدہ کا اتنا حصہ باقی ہے کہ مظلوم کی اعانت ہو دوسرا حصہ ممنوع۔
۳؎یعنی اسلام خود ایک حلف و معاہدہ ہے کہ ہر مسلمان دوسرے مسلمان مظلوم کی مدد کرے،اسلام نے مشرقی مغربی جنوبی شمالی مسلمانوں کو بھائی بھائی بنا کر ان میں عالمگیر اخوت پیدا فرمادی،اس سے بہتر کون سا حلف ہے اورکون سا معاہدہ ہے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوۡنَ اِخْوَۃٌ"۔
۴؎یعنی اگر معمولی مسلمان کسی کافر کو امان دے دے تو تمام مسلمانوں پر اس کی امان کا احترام لازم ہے کہ پھر اسے نہ قتل کریں نہ لوٹیں۔خیال رہے کہ بحالت جنگ اگر سپہ سالار اعلان کردے کہ بغیر میری اجازت کسی کافر کو امان نہ دی جائے تو پھرکسی سپاہی وغیرہ کو امان دینے کا حق نہیں ورنہ پھر تو کفار نواز مسلمان تمام کفار کو امان دے کر مسلمانوں کو تباہ کرادیں گے۔
۵؎دوران جنگ اگر لشکر اسلام بحالت جنگ غنیمت حاصل کرے تو اس غنیمت میں اس لشکر کا بھی حصہ ہوگا جو یہاں سے دور ہے کہ وہ ان کی پشت و پناہ تھا،اس کا یہ مطلب نہیں کہ کفار سے چھنا ہوا مالِ غنیمت معمولی مسلمان واپس کرسکتا ہے کہ غنیمت تو تمام غازیوں کی ملک ہوچکی ہے۔
۶؎یعنی جنگ کرنے والا لشکر جو غنیمت حاصل کرے گا اس میں اس لشکر کا بھی حصہ دے گا جو ان کفار کے ملک میں بیٹھا ہوا ہے اگرچہ جنگ نہ کررہا ہے کیونکہ یہ لشکر ان مجاہدوں کی پشت و پناہ ہے بوقت ضرورت ان کی مدد کرتا،قعدہ کے معنے ہیں بیٹھے ہوئے سپاہی مورچوں میں۔
۷؎احناف کے نزدیک یہاں کافر سے مراد کافر حربی ہے یعنی حربی کافر کو اگر مسلمان قتل کرآئے یا قتل کرڈالے تو اس پر قصاص نہیں،امام شافعی کےہاں ذمی ومستامن کافر کو قتل کردینے پر بھی مسلمان سے قصاص نہیں لیا جائے گا ان کے ہاں کافر سے مراد مطلقًا کافر ہے مگر امام اعظم کا فرمان قوی ہے،حضور ذمی کفار کے متعلق فرماتے ہیںفدماء ھم کدماءناان کے خون ہمارے خون کی طرح ہیں۔
۸؎امام مالک و احمد کے ہاں کافر ذمی کی دیت مسلمان کی دیت سے آدھی ہے یعنی پچاس اونٹ،امام شافعی کے ہاں تہائی ہے یعنی۳۳-۳/۱ اونٹ مگر امام اعظم کے ہاں پوری دیت ہے سو اونٹ،امام اعظم کی دلیل وہ ہی حدیث ہےفدماءھم کدماءنا۔حضرت ابوبکروعمر و عثمان نے ذمی کی دیت ہزار دینار دلوائی یعنی پوری دیت،حضرت علی نے فرمایا کہ ذمی کفار نے جزیہ اسی لیے دیا کہ ان کا خون ہمارے خون کی مثل ہوجائے۔ دارقطنی نے ابن شہاب سے روایت کی کہ حضرت صدیق و فاروق یہودی عیسائیوں کی دیت مسلم مقتول کے برابر دلواتے تھے،ابوداؤد نے اپنی مراسیل میں ربیعہ ابن عبدالرحمن سے روایت کی کہ حضرت ابوبکروعمر و عثمان نے کفار ذمیوں کی دیت مسلمان کے برابر رکھی،حضرت معاویہ نے اپنی شروع امارت میں یوں ہی کیا پھر بعد میں آپ نے آدھی دیت مقتول کے وارثوں کو دلوائی اور آدھی بیت المال میں داخل فرمائی۔(مرقات و اشعہ)ابن ابی شیبہ نے علقمہ،مجاہد،عطاء،شعبی،نخعی، زہری وغیرہم سے یہ ہی روایت کی کہ ذمی کافر کی دیت مسلم کے برابر ہے،یہ حدیث منسوخ ہے۔(مرقات)
۹؎اس کی شر حکتاب الزکوۃمیں گزرچکی کہ عامل نہ تو یہ کرے کہ ایک جگہ بیٹھ جائے اور مال والوں کے جانور وغیرہ وہاں ہی منگاکر ان کی زکوۃ وصول کرے نہ مال والے عامل کی خبر سن کر اپنے مال دور بھیج دیں تاکہ عامل کو زکوۃ وصول کرنے میں دشواری ہو بلکہ مال و جانور اپنی جگہ رہیں عامل وہاں ہی پہنچ کر زکوۃ وصول کرے۔
۱۰؎یعنی ذمی غلام کی دیت آزاد ذمی یا آزاد مسلمان کی دیت سے آدھی ہے لہذا یہ فرمان امام اعظم کے خلاف نہیں کہ غلام کی دیت آزاد سے آدھی ہوتی ہے اور اگر معاہد سے مراد ذمی آزاد ہے تو اس کے جواب وہ ہی ہیں جو ابھی گزر گئے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3496