Main Icon

باب: بہترین صدقہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1946

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْہ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ أَنْ تُشْبعَ كَبِدًا جَائِعًا". رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ".

وعنہ قال: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "أفضل الصدقة أن تشبع كبدا جائعا". رواه البيهقي في "شعب الإيمان".

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ بہترین صدقہ یہ ہے کہ تم کسی بھوکے کلیجے کو سیر کردو ۱؎(بیہقی فی شعب الایمان)

شرح حدیث

۱∞؎بھوکے کلیجے سے مراد ہر بھوکا جاندار ہے انسان ہو یا دیگر جانور پھر انسانوں میں مؤمن ہویا کافر۔(مرقات و اشعہ)مگر اس سے موذی جانور علیحدہ ہیں جیسے شیر،بھیڑیا،سانپ وغیرہ۔بعض مشائخ کے ہاں لنگر عام جاری ہوتا ہے جہاں ہر آنے والا کھاتا ہے،بعض بزرگوں کے ہاں جانوروں،کبوتروں،کووں وغیرہ کو دانہ ڈالا جاتا ہے،بعض لوگ مدینہ منورہ کے کبوتروں کے لیے حجاج کے ہاتھ دانہ بھیجتے ہیں ان سب کی اصل یہ حدیث ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1946