Main Icon

باب: بہترین صدقہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1939

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "الصَّدَقَةُ عَلَى الْمِسْكِينِ صَدَقَةٌ، وَهِيَ عَلَى ذِي الرَّحِم ثِنْتَانِ:صَدَقَةٌ وَصِلَةٌ".رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ.

وعن سليمان بن عامر قال: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم: "الصدقة على المسكين صدقة، وهي على ذي الرحم ثنتان:صدقة وصلة".رواه أحمد والترمذي والنسائي وابن ماجه والدارمي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سلیمان ابن عامر سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ عام مسکین پر صدقہ کرنا ایک صدقہ ہے اور وہ ہی صدقہ اپنے قرابت دار پر دو صدقے ہیں ایک صدقہ دوسرا صلہ رحمی ۱؎(احمد،ترمذی،نسائی، ابن ماجہ،دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎پہلے مسکین سے مراد اجنبی مسکین ہے یعنی اجنبی مسکین کو خیرات دینے میں صرف خیرات کا ثواب ہے اور اپنے عزیز مسکین کو خیرات دینے میں خیرات کا بھی ثواب ہے اور صلہ رحمی کا بھی۔صلہ رحمی یعنی اہل قرابت کا حق ادا کرنا بھی عبادت ہے،بہترین عبادت،پھر جس قدر رشتہ قوی اسی قدر اس کے ساتھ سلوک کرنا زیادہ ثواب ہے اس لیے رب تعالٰی نے اہل قرابت کا ذکر پہلے فرمایا کہ ارشاد فرمایا:"فَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰی حَقَّہٗ وَ الْمِسْکِیۡنَ وَابْنَ السَّبِیۡلِ

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1939