Main Icon

باب: بہترین صدقہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1940

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَقَالَ: عِنْدِي دِينَارٌ، قَالَ: "أَنْفِقْهُ عَلَى نَفْسِكَ"، قَالَ: عِنْدِي آخَرُ، قَالَ: "أَنْفِقْهُ عَلَى وَلَدِكَ"، قَالَ: عِنْدِي آخَرُ، قَالَ: "أَنْفِقْهُ عَلَى أَهْلِكَ"، قَالَ: عِنْدِي آخَرُ، قَالَ: "أَنْفِقْهُ عَلَى خَادِمِكَ"، قَالَ: عِنْدِي آخَرُ، قَالَ: "أَنْتَ أَعْلَمُ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.

وعن أبي هريرة قال: جاء رجل إلى النبي -صلی اللہ عليه وسلم- فقال: عندي دينار، قال: "أنفقه على نفسك"، قال: عندي آخر، قال: "أنفقه على ولدك"، قال: عندي آخر، قال: "أنفقه على أهلك"، قال: عندي آخر، قال: "أنفقه على خادمك"، قال: عندي آخر، قال: "أنت أعلم". رواه أبو داود والنسائي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا عرض کیا میرے پاس ایک اشرفی ہے ۱؎فرمایا اسے اپنے پر خرچ کر۲؎عرض کیا میرے پاس دوسری بھی ہے فرمایا اسے اپنے بچوں پر خرچ کر عرض کیا میرے پاس ایک اور بھی ہے فرمایا اسے اپنے گھر والوں ۳؎پر خرچ کر عرض کیا میرے پاس ایک اور بھی ہے فرمایا اسے اپنے خادم پر خرچ کر ۴؎عرض کیا میرے پاس ایک اور بھی ہے فرمایا تم جانو۵؎(ابوداؤد،نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں سائل کا سوال بطور مثال تھا یعنی اگر میرے پاس ایک ہی اشرفی ہو جو ایک ہی شخص کو کافی ہو تو میں کس پر خرچ کروں لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ سائل نے جھوٹ بولا کہ اس کے پاس تھیں تو زیادہ اشرفیاں اور کہا ایک اشرفی ہے۔
۲
؎کیونکہ سب سے پہلے ہم پر اپنے نفس کا حق ہے کہ اگر ہم جیتے رہیں گے تو سارے حق ادا کریں گے اور اگر ہم ہی مرگئے تو عبادات معاملات سب کچھ ختم ہوگئے،ذات صفات پر مقدم ہے۔
۳
؎اہل یعنی گھر والوں سے مراد بیوی ہے،قرآن کریم نے اہل بیت بیوی کو فرمایا ہے اولاد کا حق بیوی پر چند وجہ سے مقدم ہے: ایک یہ کہ بیوی عاقلہ بالغہ ہے بوقت ضرورت کماسکتی ہے مگر چھوٹے بچے بالکل باپ کے محتاج ہیں کہ کمانے پر قادر نہیں۔دوسرے یہ کہ بیوی کا خرچ اس پر لازم نہیں اگر طلاق دیدے تو ختم ہوگیا مگر اولاد کا خرچ لازم ہے کہ وہ اس کی ولدیت سے نہیں نکل سکتے۔ تیسرے یہ کہ بیوی بعد طلاق دوسرے کے نکاح میں جاکر اس سے خرچ لے سکتی ہے،چھوٹی اولاد دوسرے کو نہ باپ بنا سکے نہ اس سے خرچ لے سکے۔ یہاں اولاد سے فقیر اولاد مراد ہے اگر بیٹا غنی اور بالغ ہو تو بیوی اس پر مقدم ہوگی،چونکہ سائل کے ماں باپ نہ تھے اس لیے والدین کے خرچ کا ذکر نہ فرمایا۔
۴
؎خادم سے مراد خدمتگار ہے انسان ہو یا گھوڑا وغیرہ جانور کہ ان سب کا خرچہ مالک کے ذمہ ہے۔(اشعہ)
۵
؎یعنی تمہیں اختیار ہے اس بچے ہوئے دینار کو رکھ چھوڑو یا اپنے پڑوسی یا دوسرے عزیزوں پر خرچ کردو یا کسی اچھی جگہ لگادو۔سبحان الله !کیا نفیس ترتیب ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1940