Main Icon

باب: بہترین صدقہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1945

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ أَبُو طَلْحَة أَكْثَرَ الأَنْصَارِ بِالْمَدِينَةِ مَالًا مِنْ نَخْلٍ، وَكَانَ أَحَبُّ أَمْوَالِهِ إِلَيْهِ بَيْرُحَاءَ، وَكَانَتْ مُسْتَقْبِلَةَ الْمَسْجِدِ، وَكَانَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَاءٍ فِيهَا طَيِّبٍ، قَالَ أَنَسٌ: فَلَمَّا نزَلَتْ هَذِهِ الآيةُ:لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ قَامَ أَبُو طَلْحَة إِلَى رَسُولِ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! إِنَّ اللّٰهَ تَعَالَى يَقُولُ: لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ وَإِنَّ أَحَبَّ مَالِي إِلَيَّ بَيْرَحَاءُ، وَإِنَّهَا صَدَقَةٌ لِلَّهِ تعالي أَرْجُو بِرَّهَا وَذُخْرَهَا عِنْدَ اللّٰهِ، فَضَعْهَا يَا رَسُولَ اللّٰهِ حَيْثُ أَرَاكَ اللّٰهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-:"بَخٍ بَخٍ، ذٰلِكَ مَالٌ رَابِحٌ، وَقَدْ سَمِعْتُ مَا قُلْتَ، وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَجْعَلَهَا فِي الأَقْرَبِينَ". فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: أَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللّٰهِ! فَقَسَّمَهَا أَبُو طَلْحَةَ فِي أَقَارِبِهِ وَبَنِي عَمِّهِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

عن أنس قال: كان أبو طلحة أكثر الأنصار بالمدينة مالا من نخل، وكان أحب أمواله إليه بيرحاء، وكانت مستقبلة المسجد، وكان رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم يدخلها ويشرب من ماء فيها طيب، قال أنس: فلما نزلت هذه الآية:لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون قام أبو طلحة إلى رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم- فقال: يا رسول الله! إن الله تعالى يقول: لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون وإن أحب مالي إلي بيرحاء، وإنها صدقة لله تعالي أرجو برها وذخرها عند الله، فضعها يا رسول الله حيث أراك الله، فقال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-:"بخ بخ، ذلك مال رابح، وقد سمعت ما قلت، وإني أرى أن تجعلها في الأقربين". فقال أبو طلحة: أفعل يا رسول الله! فقسمها أبو طلحة في أقاربه وبني عمه. متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ حضرت ابوطلحہ مدینہ میں تمام انصار سے زیادہ باغوں والے تھے اور انہیں زیادہ پیارا مال باغ بیرحاء تھا ۱؎جو مسجد شریف کے سامنے تھا رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لے جاتے تھے اور وہاں کا بہترین پانی پیتے تھے ۲؎حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت"لَنۡ تَنَالُوا الْبِرَّ"الخ نازل ہوئی ۳؎تو حضرت ابوطلحہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں کھڑے ہوکر بولے یا رسول اللہ رب تعالٰی فرماتا ہے کہ تم بھلائی اس وقت تک نہیں پاسکتے جب تک کہ اپنا پسندیدہ مال خرچ نہ کرو اور مجھے بہت پسندیدہ مال باغ بیرحاء ہے اب وہ اللہ کے لیے صدقہ ہے میں اللہ کے پاس اس کا ثواب اور اس کا ذخیرہ چاہتا ہوں۴؎یا رسول اللہ آپ اسے وہاں خرچ کریں جہاں رب تعالٰی آپ کی رائے قائم فرمائے ۵؎رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خوب خوب یہ تو بڑا نفع کا مال ہے ۶؎جو تم نے کہا میں نے سن لیا میری رائے یہ ہے کہ تم اسے اپنے اہل قرابت میں وقف کردو ۷؎ابوطلحہ بولے یا رسول اللہ میں یہ ہی کرتا ہوں پھر اسے ابوطلحہ نے اپنے عزیزوں اور چچا زادوں میں تقسیم کردیا ۸؎(مسلم، بخاری)

شرح حدیث

۱؎حضرت طلحہ کے ایک باغ کا نام ہے۔اس نام کے محدثین نے آٹھ معنے کئے ہیں:جن میں سے ایک یہ کہحاءایک آدمی کا نام تھا جس نے یہ کنواں کھدوایا تھا،چونکہ یہ کنواں اس باغ میں تھا لہذا باغ کا نام بھی یہ ہی ہوا،وہ کنواں اب تک موجود ہے۔فقیر نے اس کا پانی پیا ہے۔دوسرے یہ کہ بیرحاء بروزن فعیل ہے ایک ہی لفظ ہےبراحسے مشتق،بمعنی کھلی زمین پہلی صورت میں اس کے معنے ہوں گے حاء کا کنواں دوسری صورت میں معنے ہوں گے کھلا باغ۔(ازمرقات وغیرہ)
۲
؎یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی یہاں کا پانی بہت محبوب تھا اسی لیے حجاج باخبر ضرور اس کا پانی برکت کے لیے پیتے ہیں۔
۳
؎جس میں ارشاد ہوا کہ تم بھلائی یعنی رضائے الٰہی یا جنت اس وقت تک نہیں پاسکتے جب تک کہ اپنی پیاری چیز خرچ نہ کرو۔اس آیت کی مکمل تفیسر ہماری تفسیر"نور العرفان"میں ملاحظہ فرمایئے۔
۴
؎حضرت ابوطلحہ کے اس عرض و معروض کا مقصد یہ تھا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے اس عمل خیر پر گواہ ہوجائیں اور مسلمانوں میں اس وقف کا اعلان ہوجائے۔خیال رہے کہ دوسرے نفلی صدقات اکثر خفیہ دینا بہتر ہیں مگر وقف کا ہر طرح اعلان کردینا سخت ضروری ہے تاکہ آئندہ اس موقوف چیز پر کوئی ناجائز قبضہ نہ کرسکے حتی کہ مسجد کی عمارت میں مینار گنبد وغیرہ ایسے نشانات قائم کردیئے جائیں جس سے وہ دور سے ہی مسجد معلوم ہو اس میں ریا نہیں بلکہ وقف کا باقی رکھنا ہے،نیز آپ کا اپنا دلی اخلاص ظاہرکرنا ریاء کے لیے نہ تھا بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دعا حاصل کر نے کے لیے تھا لہذا حدیث پاک پر کوئی اعتراض نہیں۔
۵
؎یعنی حضورانور صلی اللہ علیہ وسلم جہاں چاہیں اس باغ کی آمدنی لگادیں کہ وہاں خرچ ہوتی رہے،چونکہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کا چاہنا اپني نفس کی طرح سے نہیں ہوتا بلکہ رب تعالٰی کی طرف سے ہوتاہے اسی لیے اس طرح عرض کیا"حَیْثُ اَرَاكَ الله"صحابہ کرام اپنے صدقے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک سے خرچ کراتے تھے تاکہ اس ہاتھ کی برکت سے قبول ہوجائیں،رب تعالٰی ٰ فرماتا ہے:"خُذْ مِنْ اَمْوٰلِہِمْ صَدَقَۃً تُطَہِّرُهُمْ وَتُزَکِّیۡہِمۡ بِہَا"یعنی آپ ان کے مالوں کے صدقے وصول فرمالیں اور ان کے ذریعہ انہیں پاک و صاف فرمادیں آج مسلمان ختم و فاتحہ میں عرض کرتے ہیں نذر اللہ نیاز رسول اللہ اس کا ماخذ یہ حدیث بھی ہے۔
۶
؎عربی میں نہایت خوشی کے اظہار کے وقت کہا جاتا ہےبخ بخیعنی خوب خوب۔رابح ربحسے بنا،بمعنی نفع،رب تعالٰی فرماتا ہے:"فَمَا رَبِحَتۡ تِّجٰرَتُہُمْ"یعنی یہ مال بہت نفعے والا ہے جیسےلابندودھ والا اورتامرچھواروں والا یعنی اے ابوطلحہ! تمہیں اس باغ کے وقف سے بہت نفع ہوگا۔معلوم ہوتا ہے کہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کو اعمال کی قبولیت کی بھی خبر ہے اور یہ بھی کہ کس کا کون سا عمل کس درجہ کا قبول ہے یہ باغ کیوں قبول نہ ہوتا باغ بھی اچھا تھا وقف کرنے والےبھی اچھے یعنی صحابی اور جن کی طفیل وقف کیا گیا وہ اچھوں کے شہنشاہ صلی اللہ علیہ وسلم۔
۷
؎یعنی اپنے عزیز و اقارب فقراء کو اس کا مصرف بنادو کہ ہمیشہ وہ اس کی آمدنی کھایا کریں تاکہ تمہیں صدقہ کے ساتھ اہل قرابت کے حقوق ادا کرنے کا بھی ثواب ملتا رہے۔خیال رہے کہ بعض اوقاف وہ ہوتے ہیں جن سے امیروغریب حتی کہ وقف کرنے والا بھی نفع حاصل کرسکتا ہے جیسے کنواں،مسجد،قبرستان،مسافر خانہ۔
۸
؎اس کے دو معنے ہوسکتے ہیں:ایک یہ کہ باغ تو وقف رہا مگر اس کی تولیت تقسیم کردی گئی کہ اتنے حصے کے فلاں متولی کہ خود کھائیں اور دوسروں کو کھلائیں اور اتنے حصے کے فلاں۔دوسرے یہ کہ خود باغ ہی کو تقسیم کردیا کہ ان لوگوں کو ان حصوں کا مالک بنادیا مگر اشعۃ اللمعات میں شیخ نے فرمایا کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانہ امارت میں ان کے اہل قرابت سے وہ باغ خرید لیا اور وہاں اپنی عمارتیں بنائیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تقسیم بطریق تملیک تھی بطریق تقسیم تولیت نہ تھی حضرت حسان ابن ثابت و ابی ابن کعب کو بھی اس سے حصہ ملا تھا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1945