- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 3
- زکوۃ کا بیان
- حدیث نمبر 1945
باب: بہترین صدقہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1945
زکوۃ کا بیان - جلد 3
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ أَبُو طَلْحَة أَكْثَرَ الأَنْصَارِ بِالْمَدِينَةِ مَالًا مِنْ نَخْلٍ، وَكَانَ أَحَبُّ أَمْوَالِهِ إِلَيْهِ بَيْرُحَاءَ، وَكَانَتْ مُسْتَقْبِلَةَ الْمَسْجِدِ، وَكَانَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَاءٍ فِيهَا طَيِّبٍ، قَالَ أَنَسٌ: فَلَمَّا نزَلَتْ هَذِهِ الآيةُ:لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ قَامَ أَبُو طَلْحَة إِلَى رَسُولِ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! إِنَّ اللّٰهَ تَعَالَى يَقُولُ: لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ وَإِنَّ أَحَبَّ مَالِي إِلَيَّ بَيْرَحَاءُ، وَإِنَّهَا صَدَقَةٌ لِلَّهِ تعالي أَرْجُو بِرَّهَا وَذُخْرَهَا عِنْدَ اللّٰهِ، فَضَعْهَا يَا رَسُولَ اللّٰهِ حَيْثُ أَرَاكَ اللّٰهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-:"بَخٍ بَخٍ، ذٰلِكَ مَالٌ رَابِحٌ، وَقَدْ سَمِعْتُ مَا قُلْتَ، وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَجْعَلَهَا فِي الأَقْرَبِينَ". فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: أَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللّٰهِ! فَقَسَّمَهَا أَبُو طَلْحَةَ فِي أَقَارِبِهِ وَبَنِي عَمِّهِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عن أنس قال: كان أبو طلحة أكثر الأنصار بالمدينة مالا من نخل، وكان أحب أمواله إليه بيرحاء، وكانت مستقبلة المسجد، وكان رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم يدخلها ويشرب من ماء فيها طيب، قال أنس: فلما نزلت هذه الآية:لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون قام أبو طلحة إلى رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم- فقال: يا رسول الله! إن الله تعالى يقول: لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون وإن أحب مالي إلي بيرحاء، وإنها صدقة لله تعالي أرجو برها وذخرها عند الله، فضعها يا رسول الله حيث أراك الله، فقال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-:"بخ بخ، ذلك مال رابح، وقد سمعت ما قلت، وإني أرى أن تجعلها في الأقربين". فقال أبو طلحة: أفعل يا رسول الله! فقسمها أبو طلحة في أقاربه وبني عمه. متفق عليه.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ حضرت ابوطلحہ مدینہ میں تمام انصار سے زیادہ باغوں والے تھے اور انہیں زیادہ پیارا مال باغ بیرحاء تھا ۱؎جو مسجد شریف کے سامنے تھا رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لے جاتے تھے اور وہاں کا بہترین پانی پیتے تھے ۲؎حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت"لَنۡ تَنَالُوا الْبِرَّ"الخ نازل ہوئی ۳؎تو حضرت ابوطلحہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں کھڑے ہوکر بولے یا رسول اللہ رب تعالٰی فرماتا ہے کہ تم بھلائی اس وقت تک نہیں پاسکتے جب تک کہ اپنا پسندیدہ مال خرچ نہ کرو اور مجھے بہت پسندیدہ مال باغ بیرحاء ہے اب وہ اللہ کے لیے صدقہ ہے میں اللہ کے پاس اس کا ثواب اور اس کا ذخیرہ چاہتا ہوں۴؎یا رسول اللہ آپ اسے وہاں خرچ کریں جہاں رب تعالٰی آپ کی رائے قائم فرمائے ۵؎رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خوب خوب یہ تو بڑا نفع کا مال ہے ۶؎جو تم نے کہا میں نے سن لیا میری رائے یہ ہے کہ تم اسے اپنے اہل قرابت میں وقف کردو ۷؎ابوطلحہ بولے یا رسول اللہ میں یہ ہی کرتا ہوں پھر اسے ابوطلحہ نے اپنے عزیزوں اور چچا زادوں میں تقسیم کردیا ۸؎(مسلم، بخاری)
شرح حدیث
۱؎حضرت طلحہ کے ایک باغ کا نام ہے۔اس نام کے محدثین نے آٹھ معنے کئے ہیں:جن میں سے ایک یہ کہحاءایک آدمی کا نام تھا جس نے یہ کنواں کھدوایا تھا،چونکہ یہ کنواں اس باغ میں تھا لہذا باغ کا نام بھی یہ ہی ہوا،وہ کنواں اب تک موجود ہے۔فقیر نے اس کا پانی پیا ہے۔دوسرے یہ کہ بیرحاء بروزن فعیل ہے ایک ہی لفظ ہےبراحسے مشتق،بمعنی کھلی زمین پہلی صورت میں اس کے معنے ہوں گے حاء کا کنواں دوسری صورت میں معنے ہوں گے کھلا باغ۔(ازمرقات وغیرہ)
۲؎یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی یہاں کا پانی بہت محبوب تھا اسی لیے حجاج باخبر ضرور اس کا پانی برکت کے لیے پیتے ہیں۔
۳؎جس میں ارشاد ہوا کہ تم بھلائی یعنی رضائے الٰہی یا جنت اس وقت تک نہیں پاسکتے جب تک کہ اپنی پیاری چیز خرچ نہ کرو۔اس آیت کی مکمل تفیسر ہماری تفسیر"نور العرفان"میں ملاحظہ فرمایئے۔
۴؎حضرت ابوطلحہ کے اس عرض و معروض کا مقصد یہ تھا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے اس عمل خیر پر گواہ ہوجائیں اور مسلمانوں میں اس وقف کا اعلان ہوجائے۔خیال رہے کہ دوسرے نفلی صدقات اکثر خفیہ دینا بہتر ہیں مگر وقف کا ہر طرح اعلان کردینا سخت ضروری ہے تاکہ آئندہ اس موقوف چیز پر کوئی ناجائز قبضہ نہ کرسکے حتی کہ مسجد کی عمارت میں مینار گنبد وغیرہ ایسے نشانات قائم کردیئے جائیں جس سے وہ دور سے ہی مسجد معلوم ہو اس میں ریا نہیں بلکہ وقف کا باقی رکھنا ہے،نیز آپ کا اپنا دلی اخلاص ظاہرکرنا ریاء کے لیے نہ تھا بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دعا حاصل کر نے کے لیے تھا لہذا حدیث پاک پر کوئی اعتراض نہیں۔
۵؎یعنی حضورانور صلی اللہ علیہ وسلم جہاں چاہیں اس باغ کی آمدنی لگادیں کہ وہاں خرچ ہوتی رہے،چونکہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کا چاہنا اپني نفس کی طرح سے نہیں ہوتا بلکہ رب تعالٰی کی طرف سے ہوتاہے اسی لیے اس طرح عرض کیا"حَیْثُ اَرَاكَ الله"صحابہ کرام اپنے صدقے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک سے خرچ کراتے تھے تاکہ اس ہاتھ کی برکت سے قبول ہوجائیں،رب تعالٰی ٰ فرماتا ہے:"خُذْ مِنْ اَمْوٰلِہِمْ صَدَقَۃً تُطَہِّرُهُمْ وَتُزَکِّیۡہِمۡ بِہَا"یعنی آپ ان کے مالوں کے صدقے وصول فرمالیں اور ان کے ذریعہ انہیں پاک و صاف فرمادیں آج مسلمان ختم و فاتحہ میں عرض کرتے ہیں نذر اللہ نیاز رسول اللہ اس کا ماخذ یہ حدیث بھی ہے۔
۶؎عربی میں نہایت خوشی کے اظہار کے وقت کہا جاتا ہےبخ بخیعنی خوب خوب۔رابح ربحسے بنا،بمعنی نفع،رب تعالٰی فرماتا ہے:"فَمَا رَبِحَتۡ تِّجٰرَتُہُمْ"یعنی یہ مال بہت نفعے والا ہے جیسےلابندودھ والا اورتامرچھواروں والا یعنی اے ابوطلحہ! تمہیں اس باغ کے وقف سے بہت نفع ہوگا۔معلوم ہوتا ہے کہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کو اعمال کی قبولیت کی بھی خبر ہے اور یہ بھی کہ کس کا کون سا عمل کس درجہ کا قبول ہے یہ باغ کیوں قبول نہ ہوتا باغ بھی اچھا تھا وقف کرنے والےبھی اچھے یعنی صحابی اور جن کی طفیل وقف کیا گیا وہ اچھوں کے شہنشاہ صلی اللہ علیہ وسلم۔
۷؎یعنی اپنے عزیز و اقارب فقراء کو اس کا مصرف بنادو کہ ہمیشہ وہ اس کی آمدنی کھایا کریں تاکہ تمہیں صدقہ کے ساتھ اہل قرابت کے حقوق ادا کرنے کا بھی ثواب ملتا رہے۔خیال رہے کہ بعض اوقاف وہ ہوتے ہیں جن سے امیروغریب حتی کہ وقف کرنے والا بھی نفع حاصل کرسکتا ہے جیسے کنواں،مسجد،قبرستان،مسافر خانہ۔
۸؎اس کے دو معنے ہوسکتے ہیں:ایک یہ کہ باغ تو وقف رہا مگر اس کی تولیت تقسیم کردی گئی کہ اتنے حصے کے فلاں متولی کہ خود کھائیں اور دوسروں کو کھلائیں اور اتنے حصے کے فلاں۔دوسرے یہ کہ خود باغ ہی کو تقسیم کردیا کہ ان لوگوں کو ان حصوں کا مالک بنادیا مگر اشعۃ اللمعات میں شیخ نے فرمایا کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانہ امارت میں ان کے اہل قرابت سے وہ باغ خرید لیا اور وہاں اپنی عمارتیں بنائیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تقسیم بطریق تملیک تھی بطریق تقسیم تولیت نہ تھی حضرت حسان ابن ثابت و ابی ابن کعب کو بھی اس سے حصہ ملا تھا۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1945