Main Icon

باب: بہترین صدقہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1934

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "تَصَدَّقْنَ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ" قَالَتْ: فَرَجَعْتُ إِلَى عَبْدِ اللّٰهِ، فَقُلْتُ: إِنَّكَ رَجُلٌ خَفِيفُ ذَاتِ الْيَدِ، وَإِنَّ رَسُولَ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَدْ أَمَرَنَا بِالصَّدَقَةِ، فَأْتِهِ فَاسْأَلْهُ، فَإِنْ كَانَ ذٰلِكَ يُجْزِئُ عَنِّي وَإِلَّا صَرَفْتُهَا إِلَى غَيْرِكُمْ، قَالَت: فَقَالَ لِي عَبْدُ اللّٰهِ: بَلِ ائْتِيهِ أَنْتِ، قَالَتْ: فَانْطَلَقْتُ، فَإِذَا امْرَأَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ بِبَابِ رَسُولِ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-، حَاجَتِيْ حَاجَتُهَا، قَالَتْ: وَكَانَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَدْ أُلْقِيَتْ عَلَيْهِ الْمَهَابَةُ. فَقَالَتْ: فَخَرَجَ عَلَيْنَا بِلَالٌ، فَقُلْنَا لَهُ: ائْتِ رَسُولَ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَأَخْبِرْهُ أَنَّ امْرَأتَيْنِ بِالْبَابِ تَسْأَلَانِكَ: أتُجْزِئُ الصَّدَقَةُ عَنْهُمَا عَلَى أَزْوَاجِهِمَا وَعَلَى أَيْتَامٍ فِي حُجُورِهِمَا؟ وَلَا تُخْبِرْهُ مَنْ نَحْنُ. قَالَتْ: فَدَخَلَ بِلَالٌ عَلَى رَسُولِ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَسَأَلَهُ، فَقَالَ لَهٗ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ هُمَا؟ " قَالَ: امْرَأةٌ مِنَ الأَنْصَارِ وَزَيْنَبُ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-:"أَيُّ الزَّيَانِبِ؟ ". قَالَ: امْرَأةُ عَبْدِ اللّٰهِ، فَقَالَ لَهٗ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَهُمَا أَجْرَانِ: أَجْرُ الْقَرَابَةِ، وَأَجْرُ الصَّدَقَةِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَاللَّفْظ لِمُسْلِمٍ.

وعن زينب امرأة عبد الله بن مسعود قالت: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "تصدقن يا معشر النساء ولو من حليكن" قالت: فرجعت إلى عبد الله، فقلت: إنك رجل خفيف ذات اليد، وإن رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم- قد أمرنا بالصدقة، فأته فاسأله، فإن كان ذلك يجزئ عني وإلا صرفتها إلى غيركم، قالت: فقال لي عبد الله: بل ائتيه أنت، قالت: فانطلقت، فإذا امرأة من الأنصار بباب رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-، حاجتي حاجتها، قالت: وكان رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم- قد ألقيت عليه المهابة. فقالت: فخرج علينا بلال، فقلنا له: ائت رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم- فأخبره أن امرأتين بالباب تسألانك: أتجزئ الصدقة عنهما على أزواجهما وعلى أيتام في حجورهما؟ ولا تخبره من نحن. قالت: فدخل بلال على رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم- فسأله، فقال له رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "من هما؟ " قال: امرأة من الأنصار وزينب، فقال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-:"أي الزيانب؟ ". قال: امرأة عبد الله، فقال له رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم: "لهما أجران: أجر القرابة، وأجر الصدقة". متفق عليه. واللفظ لمسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت زینب زوجہ عبد اللہ ابن مسعود سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اے عورتوں کی جماعت صدقہ کرو اگرچہ اپنے زیور سے ہی ہو ۱؎فرماتی ہیں میں عبد اللہ کی طرف لوٹی ہوئی بولی کہ تم کچھ مسکین و تنگدست ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو صدقہ کا حکم دیا ہے تم وہاں حاضر ہو کر پوچھ آؤ اگر تم کو میرا صدقہ کرنا درست ہوا تو خیر ۲؎ورنہ میں آپ لوگوں کے سواء کسی اور جگہ خرچ کروں ۳؎فرماتی ہیں کہ مجھ سے عبداللہ بولے کہ تم ہی وہاں جاؤ ۴؎میں چلی تو حضور کے دروازہ پاک پر ایک اور انصاری بی بی بھی تھیں جنہیں میرے جیسا ہی کام تھا ۵؎فرماتی ہیں کہ رسولصلی اللہ علیہ وسلم پر قدرتی ہیبت دی گئی تھی۶؎فرماتی ہیں کہ ہمارے پاس حضرت بلال آئے ہم نے ان سے عرض کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جاؤ عرض کرنا کہ دروازے پر دو بیبیاں ہیں جو حضور سے پوچھتی ہیں ۷؎کہ کیا ان کا اپنے خاوندوں اور یتیموں پر خرچ کر دینا جو ان کی پرورش میں ہوں صدقہ بن جائے گا ۸؎اور یہ نہ بتانا کہ ہم کون ہیں ۹؎فرماتی ہیں کہ حضرت بلال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مسئلہ پوچھا ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا وہ کون ہیں عرض کیا کہ ایک انصاری بی بی اور زینب ہیں ۱۰؎فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کونسی زینب عرض کیا عبداللہ کی زوجہ ۱۱؎تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں دو ہرا ثواب ہے ایک ثواب قرابت کا دوسرا صدقہ کا ۱۲؎(مسلم،بخاری)اور لفظ مسلم کے ہیں۔

شرح حدیث

۱∞؎غالبًا حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد عید کے دن تھا،چونکہ اس زمانہ میں عورتیں بھی نماز عید کے لیے عیدگاہ جاتی تھیں اور ان کے لیے بعد نماز مخصوص وعظ ہوتا تھا اس وعظ میں آپ سے یہ سنا۔اس حدیث سے معلوم ہوتا ہےکہ عورتوں کے استعمالی زیور پر زکوۃ فرض ہےاور یہ زکوۃ خود عورت پر فرض ہے نہ کہ اس کے خاوند پر خواہ میکے سے زیور ملا ہو یا سسرال والوں نے دیا ہو بشرطیکہ مالک کردیا ہولہذا یہ حدیث امام اعظم کی دلیل ہے،امام شافعی کے ہاں پہننے کے زیور میں زکوۃ نہیں۔ان شاء اللهاس کی تحقیق مصارف زکوۃ میں ہوگی۔اس صورت میں زیور سے مراد چاندی سونے کا زیور ہےکیونکہ پہننے کے موتی،مرجان،لعل،ہیرے پر زکوۃ نہیں۔
۲
؎یعنی اگر تم کو میرا صدقہ دینا درست ہو تب تو میں تم ہی کو صدقہ دے دوں ورنہ کسی اورکو دوں۔اس سے معلوم ہوا کہ غنی عورت کا خاوند اور غنی خاوند کی بیوی ایک دوسرے کے غنی سے غنی نہ مانے جائیں گے جیسے امیر کی بالغ اولاد باپ کی غنا سے غنی نہیں ہوتی۔دیکھو حضرت ابن مسعود کی بیوی غنیہ تھیں مگر خود ابن مسعود مسکین تھے۔
۳
؎حضرت ابن مسعود کی کچھ اولاد بھی تھی جو دوسری بیوی سے تھی اور اب حضرت زینب ان کی پرورش فرماتی تھیں۔غیر کممیں ان سب سے خطاب ہے یعنی اگر تمہیں اور تمہارے ان بچوں کو میرا صدقہ لینا درست ہو تو میں تمہیں دے دوں ورنہ دوسروں کو دوں۔
۴
؎مجھے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھتے شرم آتی ہے کہ اس سے بعض لوگ مجھے طمعی سمجھیں گے۔اس سے معلوم ہوا کہ خاوند اپنی بیوی سے باہر کا کام بھی کراسکتا ہے جب کہ حجاب و پردہ سے ہو،یہ بھی معلوم ہوا کہ مسئلہ خود نہ پوچھنا کسی دوسرے سے پوچھوالینا بھی درست ہے جب اس سے کچھ مانع ہو۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مذی کا مسئلہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سے خود نہ پوچھا بلکہ حضرت مقداد سے پوچھوایا۔
۵
؎یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازہ پر ایک بی بی اور بھی یہ ہی پوچھنے کھڑی تھیں مجھے اس سے خوشی ہوئی کہ ہم دو ہوگئے۔
۶
؎یعنی رب العلمین نے دلوں میں آپ کی ہیبت ڈال دی تھی جس کی وجہ سے ہرشخص بغیر اجازت خدمت میں حاضر ہونے،عرض معروض کرنے کی ہمت نہ کرتا تھا اور حاضرین بارگاہ بھی ایسے خاموش اور با ادب بیٹھتے تھے جیسے ان کے سروں پر پرندے ہیں،حالانکہ سرکار انتہائی خلیق اور بہت رحیم و کریم تھے۔شعر
ہیبت حق است ایں از خلق نیست ہیبت ایں مردِ صاحب دلق نیست
اسی وجہ سے یہ دونوں بیبیاں دروازے پر کھڑی رہ گئیں،بارگاہ پاک میں باریاب نہ ہوئیں۔
۷
؎یعنی خود تو شرم و ہیبت کی وجہ سے حاضر نہیں ہوتیں میری معرفت یہ مسئلہ پوچھوا رہی ہیں۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ مسئلہ براہ راست پوچھنا بھی جائز اورکسی کی معرفت پوچھوانا بھی۔دوسرے یہ کہ دینی باتوں میں ایک کی خبر معتبر ہے گواہی قائم کرنے کی ضرورت نہیں۔دیکھو حضرت بلال ان بیبیوں کو جو بھی مسئلہ آکر بتاتے یہ قبول کرلیتیں۔فقہاء فرماتے ہیں کہ جب مطلع گرد آلود ہو تو رمضان کے چاند میں ایک کی خبر قبول ہے اور محدثین کہتے ہیں کہ حدیثوں میں خبر واحد معتبر ہے،ان کے دلائل قرآنی آیات اور احادیث صحیحہ ہیں ان میں ایک حدیث یہ بھی ہے۔
۸
؎شاید یتیموں سے ان کے خاوندوں کی وہ اولاد مراد ہے جن کی والدہ فوت ہوچکی تھیں،یعنی ان کی سوتیلی اولاد۔انہیں یتیم کہنا مجازًا ہے ورنہ انسان یتیم وہ نابالغ ہوتا ہے جس کا باپ فوت ہوجائے اور جانوروں میں وہ بچہ یتیم جس کی ماں مرجائے۔ان بیبیوں کا خیال یہ تھا کہ چونکہ یہ سب لوگ ہمارے ساتھ ہی رہتے سہتے ہیں اور ساتھ کھاتے پیتے ہیں اگر انہیں صدقہ دیا گیا تو اس کا کچھ حصہ ہمارے کھانے میں بھی آجائے گا لہذا ناجائز ہونا چاہئیے۔
۹
؎تاکہ حاضرین میں ہمارا نام نہ لیا جائے اور ہمارا سوال ریا نہ بن جائے یا ہم بلا نہ لی جائیں۔
۱۰
؎حضرت بلال کا جواب نہایت ایمان افروز ہے کیونکہ ان بیبیوں نے کہا تھا کہ ہمارا نام نہ بتانا حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نام بتاؤ تو حکم رسول و حکم امتی میں تعارض ہوا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو ترجیح ہوئی اور امتی کا حکم قابل عمل نہ رہا ۔مرقات نے یہاں فرمایا کی حضرت بلال پر نام بتادینا فرض شرعی ہوگیاکیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ماننا فرض ہے،انہیں دوسری بی بی کا نام معلوم نہیں تھا ورنہ وہ بھی بتادیتے۔
۱۱
؎یعنی مدینہ منورہ میں بہت عورتوں کا نام زینب ہے صاف بتاؤ کونسی زینب ہیں تب حضرت بلال نے عرض کیا کہ عبد اللہ کی بیوی،اگرچہ عبد اللہ نام کے بہت صحابہ تھے عبد اللہ ابن عمر،عبداللہ ابن عباس،عبد اللہ ابن زبیر،عبد اللہ ابن عمرو ابن عاص وغیرہم مگر ان سب میں عبد اللہ ابن مسعود بہت مشہور فقیہ ترین تھے،علم فقہ کی باعث فقط عبد اللہ کہنے پر لوگوں کے ذہن انہیں کی طرف جاتے تھے اسی لیے حضرت بلال نے ابن مسعود نہ فرمایا بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا پھر نہ پوچھنا کون عبد اللہ اسی جلالت شان کی طرف اشارہ کررہا ہے۔ہمارے امام اعظم ابوحنیفہ اکثر فقیہات میں حضرت عبداللہ ابن مسعود ہی کے پیروکار ہیں۔
۱۲
؎سارے آئمہ اس پر متفق ہیں کہ خاوند اپنی بیوی کو اپنی زکوۃ نہیں دے سکتا مگر اس میں اختلاف ہے کہ بیوی خاوند کو زکوۃ دے سکتی ہے یا نہیں۔ہمارے امام اعظم فرماتے ہیں کہ نہیں دے سکتی،دیگر آئمہ فرماتے ہیں کہ دے سکتی ہے،ان بزرگوں کی دلیل یہ حدیث ہے۔امام اعظم فرماتے ہیں کہ یہاں صدقہ نفل مراد ہے صدقہ فرض کی تصریح نہیں ممانعت کی صریح حدیث آگے آرہی ہے،نیز عورت و خاوند کے مال قریبًا مشترک ہوتے ہیں تو جب خاوند بیوی کو زکوۃ نہ دے سکا تو بیوی خاوند کو زکوۃ کیسے دے سکتی ہے۔صدقہ کا لفظ صدقہ نفلی پر عام شائع ہے۔چنانچہکتاب الزکوۃکی آخری حدیث میں آئے گا کہ ایک عورت نے اپنی ماں کو صدقہ دیا یعنی صدقہ نفلی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1934