- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 3
- زکوۃ کا بیان
- حدیث نمبر 1934
باب: بہترین صدقہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1934
زکوۃ کا بیان - جلد 3
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "تَصَدَّقْنَ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ" قَالَتْ: فَرَجَعْتُ إِلَى عَبْدِ اللّٰهِ، فَقُلْتُ: إِنَّكَ رَجُلٌ خَفِيفُ ذَاتِ الْيَدِ، وَإِنَّ رَسُولَ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَدْ أَمَرَنَا بِالصَّدَقَةِ، فَأْتِهِ فَاسْأَلْهُ، فَإِنْ كَانَ ذٰلِكَ يُجْزِئُ عَنِّي وَإِلَّا صَرَفْتُهَا إِلَى غَيْرِكُمْ، قَالَت: فَقَالَ لِي عَبْدُ اللّٰهِ: بَلِ ائْتِيهِ أَنْتِ، قَالَتْ: فَانْطَلَقْتُ، فَإِذَا امْرَأَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ بِبَابِ رَسُولِ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-، حَاجَتِيْ حَاجَتُهَا، قَالَتْ: وَكَانَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَدْ أُلْقِيَتْ عَلَيْهِ الْمَهَابَةُ. فَقَالَتْ: فَخَرَجَ عَلَيْنَا بِلَالٌ، فَقُلْنَا لَهُ: ائْتِ رَسُولَ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَأَخْبِرْهُ أَنَّ امْرَأتَيْنِ بِالْبَابِ تَسْأَلَانِكَ: أتُجْزِئُ الصَّدَقَةُ عَنْهُمَا عَلَى أَزْوَاجِهِمَا وَعَلَى أَيْتَامٍ فِي حُجُورِهِمَا؟ وَلَا تُخْبِرْهُ مَنْ نَحْنُ. قَالَتْ: فَدَخَلَ بِلَالٌ عَلَى رَسُولِ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَسَأَلَهُ، فَقَالَ لَهٗ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ هُمَا؟ " قَالَ: امْرَأةٌ مِنَ الأَنْصَارِ وَزَيْنَبُ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-:"أَيُّ الزَّيَانِبِ؟ ". قَالَ: امْرَأةُ عَبْدِ اللّٰهِ، فَقَالَ لَهٗ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَهُمَا أَجْرَانِ: أَجْرُ الْقَرَابَةِ، وَأَجْرُ الصَّدَقَةِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَاللَّفْظ لِمُسْلِمٍ.
وعن زينب امرأة عبد الله بن مسعود قالت: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "تصدقن يا معشر النساء ولو من حليكن" قالت: فرجعت إلى عبد الله، فقلت: إنك رجل خفيف ذات اليد، وإن رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم- قد أمرنا بالصدقة، فأته فاسأله، فإن كان ذلك يجزئ عني وإلا صرفتها إلى غيركم، قالت: فقال لي عبد الله: بل ائتيه أنت، قالت: فانطلقت، فإذا امرأة من الأنصار بباب رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-، حاجتي حاجتها، قالت: وكان رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم- قد ألقيت عليه المهابة. فقالت: فخرج علينا بلال، فقلنا له: ائت رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم- فأخبره أن امرأتين بالباب تسألانك: أتجزئ الصدقة عنهما على أزواجهما وعلى أيتام في حجورهما؟ ولا تخبره من نحن. قالت: فدخل بلال على رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم- فسأله، فقال له رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "من هما؟ " قال: امرأة من الأنصار وزينب، فقال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-:"أي الزيانب؟ ". قال: امرأة عبد الله، فقال له رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم: "لهما أجران: أجر القرابة، وأجر الصدقة". متفق عليه. واللفظ لمسلم.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت زینب زوجہ عبد اللہ ابن مسعود سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اے عورتوں کی جماعت صدقہ کرو اگرچہ اپنے زیور سے ہی ہو ۱؎فرماتی ہیں میں عبد اللہ کی طرف لوٹی ہوئی بولی کہ تم کچھ مسکین و تنگدست ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو صدقہ کا حکم دیا ہے تم وہاں حاضر ہو کر پوچھ آؤ اگر تم کو میرا صدقہ کرنا درست ہوا تو خیر ۲؎ورنہ میں آپ لوگوں کے سواء کسی اور جگہ خرچ کروں ۳؎فرماتی ہیں کہ مجھ سے عبداللہ بولے کہ تم ہی وہاں جاؤ ۴؎میں چلی تو حضور کے دروازہ پاک پر ایک اور انصاری بی بی بھی تھیں جنہیں میرے جیسا ہی کام تھا ۵؎فرماتی ہیں کہ رسولﷲصلی اللہ علیہ وسلم پر قدرتی ہیبت دی گئی تھی۶؎فرماتی ہیں کہ ہمارے پاس حضرت بلال آئے ہم نے ان سے عرض کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جاؤ عرض کرنا کہ دروازے پر دو بیبیاں ہیں جو حضور سے پوچھتی ہیں ۷؎کہ کیا ان کا اپنے خاوندوں اور یتیموں پر خرچ کر دینا جو ان کی پرورش میں ہوں صدقہ بن جائے گا ۸؎اور یہ نہ بتانا کہ ہم کون ہیں ۹؎فرماتی ہیں کہ حضرت بلال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مسئلہ پوچھا ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا وہ کون ہیں عرض کیا کہ ایک انصاری بی بی اور زینب ہیں ۱۰؎فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کونسی زینب عرض کیا عبداللہ کی زوجہ ۱۱؎تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں دو ہرا ثواب ہے ایک ثواب قرابت کا دوسرا صدقہ کا ۱۲؎(مسلم،بخاری)اور لفظ مسلم کے ہیں۔
شرح حدیث
۱∞؎غالبًا حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد عید کے دن تھا،چونکہ اس زمانہ میں عورتیں بھی نماز عید کے لیے عیدگاہ جاتی تھیں اور ان کے لیے بعد نماز مخصوص وعظ ہوتا تھا اس وعظ میں آپ سے یہ سنا۔اس حدیث سے معلوم ہوتا ہےکہ عورتوں کے استعمالی زیور پر زکوۃ فرض ہےاور یہ زکوۃ خود عورت پر فرض ہے نہ کہ اس کے خاوند پر خواہ میکے سے زیور ملا ہو یا سسرال والوں نے دیا ہو بشرطیکہ مالک کردیا ہولہذا یہ حدیث امام اعظم کی دلیل ہے،امام شافعی کے ہاں پہننے کے زیور میں زکوۃ نہیں۔ان شاء اللهاس کی تحقیق مصارف زکوۃ میں ہوگی۔اس صورت میں زیور سے مراد چاندی سونے کا زیور ہےکیونکہ پہننے کے موتی،مرجان،لعل،ہیرے پر زکوۃ نہیں۔
۲؎یعنی اگر تم کو میرا صدقہ دینا درست ہو تب تو میں تم ہی کو صدقہ دے دوں ورنہ کسی اورکو دوں۔اس سے معلوم ہوا کہ غنی عورت کا خاوند اور غنی خاوند کی بیوی ایک دوسرے کے غنی سے غنی نہ مانے جائیں گے جیسے امیر کی بالغ اولاد باپ کی غنا سے غنی نہیں ہوتی۔دیکھو حضرت ابن مسعود کی بیوی غنیہ تھیں مگر خود ابن مسعود مسکین تھے۔
۳؎حضرت ابن مسعود کی کچھ اولاد بھی تھی جو دوسری بیوی سے تھی اور اب حضرت زینب ان کی پرورش فرماتی تھیں۔غیر کممیں ان سب سے خطاب ہے یعنی اگر تمہیں اور تمہارے ان بچوں کو میرا صدقہ لینا درست ہو تو میں تمہیں دے دوں ورنہ دوسروں کو دوں۔
۴؎مجھے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھتے شرم آتی ہے کہ اس سے بعض لوگ مجھے طمعی سمجھیں گے۔اس سے معلوم ہوا کہ خاوند اپنی بیوی سے باہر کا کام بھی کراسکتا ہے جب کہ حجاب و پردہ سے ہو،یہ بھی معلوم ہوا کہ مسئلہ خود نہ پوچھنا کسی دوسرے سے پوچھوالینا بھی درست ہے جب اس سے کچھ مانع ہو۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مذی کا مسئلہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سے خود نہ پوچھا بلکہ حضرت مقداد سے پوچھوایا۔
۵؎یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازہ پر ایک بی بی اور بھی یہ ہی پوچھنے کھڑی تھیں مجھے اس سے خوشی ہوئی کہ ہم دو ہوگئے۔
۶؎یعنی رب العلمین نے دلوں میں آپ کی ہیبت ڈال دی تھی جس کی وجہ سے ہرشخص بغیر اجازت خدمت میں حاضر ہونے،عرض معروض کرنے کی ہمت نہ کرتا تھا اور حاضرین بارگاہ بھی ایسے خاموش اور با ادب بیٹھتے تھے جیسے ان کے سروں پر پرندے ہیں،حالانکہ سرکار انتہائی خلیق اور بہت رحیم و کریم تھے۔شعر
ہیبت حق است ایں از خلق نیست ہیبت ایں مردِ صاحب دلق نیست
اسی وجہ سے یہ دونوں بیبیاں دروازے پر کھڑی رہ گئیں،بارگاہ پاک میں باریاب نہ ہوئیں۔
۷؎یعنی خود تو شرم و ہیبت کی وجہ سے حاضر نہیں ہوتیں میری معرفت یہ مسئلہ پوچھوا رہی ہیں۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ مسئلہ براہ راست پوچھنا بھی جائز اورکسی کی معرفت پوچھوانا بھی۔دوسرے یہ کہ دینی باتوں میں ایک کی خبر معتبر ہے گواہی قائم کرنے کی ضرورت نہیں۔دیکھو حضرت بلال ان بیبیوں کو جو بھی مسئلہ آکر بتاتے یہ قبول کرلیتیں۔فقہاء فرماتے ہیں کہ جب مطلع گرد آلود ہو تو رمضان کے چاند میں ایک کی خبر قبول ہے اور محدثین کہتے ہیں کہ حدیثوں میں خبر واحد معتبر ہے،ان کے دلائل قرآنی آیات اور احادیث صحیحہ ہیں ان میں ایک حدیث یہ بھی ہے۔
۸؎شاید یتیموں سے ان کے خاوندوں کی وہ اولاد مراد ہے جن کی والدہ فوت ہوچکی تھیں،یعنی ان کی سوتیلی اولاد۔انہیں یتیم کہنا مجازًا ہے ورنہ انسان یتیم وہ نابالغ ہوتا ہے جس کا باپ فوت ہوجائے اور جانوروں میں وہ بچہ یتیم جس کی ماں مرجائے۔ان بیبیوں کا خیال یہ تھا کہ چونکہ یہ سب لوگ ہمارے ساتھ ہی رہتے سہتے ہیں اور ساتھ کھاتے پیتے ہیں اگر انہیں صدقہ دیا گیا تو اس کا کچھ حصہ ہمارے کھانے میں بھی آجائے گا لہذا ناجائز ہونا چاہئیے۔
۹؎تاکہ حاضرین میں ہمارا نام نہ لیا جائے اور ہمارا سوال ریا نہ بن جائے یا ہم بلا نہ لی جائیں۔
۱۰؎حضرت بلال کا جواب نہایت ایمان افروز ہے کیونکہ ان بیبیوں نے کہا تھا کہ ہمارا نام نہ بتانا حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نام بتاؤ تو حکم رسول و حکم امتی میں تعارض ہوا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو ترجیح ہوئی اور امتی کا حکم قابل عمل نہ رہا ۔مرقات نے یہاں فرمایا کی حضرت بلال پر نام بتادینا فرض شرعی ہوگیاکیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ماننا فرض ہے،انہیں دوسری بی بی کا نام معلوم نہیں تھا ورنہ وہ بھی بتادیتے۔
۱۱؎یعنی مدینہ منورہ میں بہت عورتوں کا نام زینب ہے صاف بتاؤ کونسی زینب ہیں تب حضرت بلال نے عرض کیا کہ عبد اللہ کی بیوی،اگرچہ عبد اللہ نام کے بہت صحابہ تھے عبد اللہ ابن عمر،عبداللہ ابن عباس،عبد اللہ ابن زبیر،عبد اللہ ابن عمرو ابن عاص وغیرہم مگر ان سب میں عبد اللہ ابن مسعود بہت مشہور فقیہ ترین تھے،علم فقہ کی باعث فقط عبد اللہ کہنے پر لوگوں کے ذہن انہیں کی طرف جاتے تھے اسی لیے حضرت بلال نے ابن مسعود نہ فرمایا بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا پھر نہ پوچھنا کون عبد اللہ اسی جلالت شان کی طرف اشارہ کررہا ہے۔ہمارے امام اعظم ابوحنیفہ اکثر فقیہات میں حضرت عبداللہ ابن مسعود ہی کے پیروکار ہیں۔
۱۲؎سارے آئمہ اس پر متفق ہیں کہ خاوند اپنی بیوی کو اپنی زکوۃ نہیں دے سکتا مگر اس میں اختلاف ہے کہ بیوی خاوند کو زکوۃ دے سکتی ہے یا نہیں۔ہمارے امام اعظم فرماتے ہیں کہ نہیں دے سکتی،دیگر آئمہ فرماتے ہیں کہ دے سکتی ہے،ان بزرگوں کی دلیل یہ حدیث ہے۔امام اعظم فرماتے ہیں کہ یہاں صدقہ نفل مراد ہے صدقہ فرض کی تصریح نہیں ممانعت کی صریح حدیث آگے آرہی ہے،نیز عورت و خاوند کے مال قریبًا مشترک ہوتے ہیں تو جب خاوند بیوی کو زکوۃ نہ دے سکا تو بیوی خاوند کو زکوۃ کیسے دے سکتی ہے۔صدقہ کا لفظ صدقہ نفلی پر عام شائع ہے۔چنانچہکتاب الزکوۃکی آخری حدیث میں آئے گا کہ ایک عورت نے اپنی ماں کو صدقہ دیا یعنی صدقہ نفلی۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1934