Main Icon

باب: بہترین صدقہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1931

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "دِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ، وَدِيْنَارٌ أَنْفَقْتَهُ فِي رَقَبَةٍ، وَدِينَارٌ تَصَدَّقْتَ بِهِ عَلَى مِسْكِينٍ، وَدِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ عَلَى أَهْلِكَ، أَعْظَمُهَا أَجْرًا الَّذِي أَنْفَقْتَهُ عَلَى أَهْلِكَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "دينار أنفقته في سبيل الله، ودينار أنفقته في رقبة، ودينار تصدقت به على مسكين، ودينار أنفقته على أهلك، أعظمها أجرا الذي أنفقته على أهلك". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو اشرفی تو اللہ کی راہ میں خرچ کرے ۱؎اور جو اشرفی تو گردن آزاد کرنے میں خرچ کردے ۲؎اور جو اشرفی تو کسی مسکین پر صدقہ کرے اور جو اشرفی تو اپنے گھر والوں پر خرچ کرے ان سب میں زیادہ ثواب اس کا ہے جو تو اپنے گھر والوں پر خرچ کرے ۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں اللہ تعالٰی کی راہ سے مراد حج و جہاد وغیرہ وہ مقامات ہیں جہاں کسی بندے کی رضا قطعًا مقصود نہ ہو۔
۲
؎اس میں مکاتب کی امداد،غلام کی آزادی،مقروض کو قرض سے آزاد کرانا،کسی مصیبت میں پھنسے ہوئے کو اس مصیبت سے نکالنا سب ہی داخل ہیں،نہایت جامع کلمہ ہے۔
۳
؎گھر والوں پر خرچ ان سب خیراتوں سے یا تو اس لیے بہتر ہے کہ وہ خیراتیں نفل تھیں اور یہ خرچ فرض ہے اکثر فرض نفل سے بہتر ہوتا ہے یا اس لیے کہ اس خرچ دینے میں صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی اہل قرابت کے حق کی ادائیگی اور دو نیکیاں ایک نیکی سے افضل ہیں اسی لیے بعض لوگ گیارھویں شریف وغیرہ کی شیرینی اکثر سیدوں کو دیتے ہیں کہ یہ حضرات اولاد رسول ہیں،اس میں خیرات بھی اور اولاد رسول کے حق کی ادائیگی بھی،ان کا ماخذ یہ حدیث ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1931