Main Icon

باب: بہترین صدقہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1941

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ؟رَجُلٌ مُمْسِكٌ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ، أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِالَّذِي يَتْلُوهُ؟ رَجُلٌ مُعْتَزِلٌ فِي غُنَيْمَةٍ لَهٗ يُؤَدِّي حَقَّ اللّٰهِ فِيهَا. أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِشَرِّ النَّاسِ؟ رَجُلٌ يُسْأَلُ بِاللّٰهِ وَلَا يُعْطِي بِهِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَالدَّارِمِيُّ.

وعن ابن عباس قال: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "ألا أخبركم بخير الناس؟رجل ممسك بعنان فرسه في سبيل الله، ألا أخبركم بالذي يتلوه؟ رجل معتزل في غنيمة له يؤدي حق الله فيها. ألا أخبركم بشر الناس؟ رجل يسأل بالله ولا يعطي به". رواه الترمذي والنسائي والدارمي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تمہیں بہترین آدمی نہ بتاؤں ۱؎وہ شخص ہے جو اللہ کی راہ میں اپنے گھوڑے کی لگام تھامے رہے ۲؎کیا تمہیں نہ بتاؤں کہ اس کے بعدکون ہے وہ شخص ہے جو اپنی بکریوں میں رہے ان میں سے اللہ کا حق ادا کرتا رہے ۳؎کیا میں تمہیں بدترین آدمی نہ بتاؤں وہ شخص ہے جو اللہ کے نام پر مانگا جائے اور اس پر بھی نہ دے۴؎(ترمذی،نسائی، دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎سرکار کا یہ پوچھنا سامعین کو شوق دلانے کے لیے ہوتا تھا کہ اس سے ان کو انتظار ہوجائے اور جو چیز انتظار کے بعد معلوم ہوتی ہے وہ یاد رہتی ہے اور یہاں خیروشر سے اضافی خیروشر مراد ہے لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ بہترین بندہ مؤمن ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"اُولٰٓئِکَ هُمْ خَیۡرُ الْبَرِیَّۃِ"اور بدترین انسان کافر ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"اُولٰٓئِکَ هُمْ شَرُّ الْبَرِیَّۃِ
۲
؎یعنی ہر وقت جہاد کے لیے تیار رہے اعلان جنگ کا منتظر رہے،چونکہ اس زمانہ میں گھوڑا جہاد کا بڑا ہتھیار تھا اس لیے اس کا خصوصیت سے ذکر فرمایا آج توپ وبندوق کی مشق کرنے،ہوائی سروس کا آدمی جب تیاریٔ جہاد کے لیے یہ سب کچھ کرے وہ اس میں داخل ہوگا۔شیخ نے فرمایا کہ یہ کلام حصر کے لیے نہیں بلکہ شمول کے لیے ہے یعنی یہ مجاہد بھی بہترین لوگوں میں سے ہے۔
۳
؎عرب میں جانوروں والے لوگ جنگل میں اپنے گھر بنالیتے تھے وہاں ہی جانوروں میں رہتے تھے ان کی حفاظت بھی کرتے تھے اور اپنا گزارہ بھی۔انہیں اس لیے افضل فرمایا گیا کہ یہ بستی کے اکثر فتنوں سے محفوظ رہتے ہیں لوگوں سے اختلاط بہت سے گناہوں کا سبب ہے۔
۴
؎اس جملہ کے دو مطلب ہوسکتے ہیں:ایک یہ کہ وہ شخص بدترین ہے جس سے فقیر اللہ کے نام پر کچھ مانگے اور وہ نہ دے اس صورت میں دینے سے مراد مطلقًا دینا ہوگا اگرچہ ایک پیسہ ہی ہو یا بحالت مجبوری فقیر کو دعا خیر دینا ہی ہو۔ایک یہ کہ وہ سائل بھکاری بدترین شخص ہے جو لوگوں سے اللہ کے نام پر مانگے اور لوگ اسے کچھ دیں نہیں کیونکہ یہ سائل اللہ تعالٰی کے نام کی توہین کرتا ہے کہ پیسہ پیسہ کے لیے اللہ کا نام ہرکس وناکس کے سامنے لیتا ہے۔(اشعۃ اللمعات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1941