Main Icon

باب: بہترین صدقہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1942

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُمِّ بُجَيْدٍ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "رُدُّوا السَّائِلَ وَلَوْ بِظِلْفٍ مُحْرَقٍ". رَوَاهُ مَالِكٌ وَالنَّسَائِيُّ، وَرَوَى التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ مَعْنَاهُ.

وعن أم بجيد قالت: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "ردوا السائل ولو بظلف محرق". رواه مالك والنسائي، وروى الترمذي وأبو داود معناه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے ام بجید سے ۱؎فرماتی ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ سائل کو دے کر لوٹاؤ اگرچہ جلی کھری ہی ہو ۲؎(مالک،نسائی)اورترمذی و ابوداؤد نے اس کے معنے روایت کئے۔

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام حوا بنت زید ابن سکن ہے مگر اپنی کنیت میں مشہور ہیں،انصاریہ ہیں،صحابیہ ہیں،آپ کے حالات پہلے بیان ہوچکے ہیں۔
۲
؎یہاں سائل سے مراد حاجت مند سائل ہے اور جلی کھری سے مراد نہایت معمولی چیز ہے جس کی کوئی قیمت نہ ہو یعنی اگر کوئی حاجت مند سائل آئے تو اسے خواہ معمولی چیز ہی بن پڑے دے دو۔خیال رہے کہ یہ حکم استحبابی ہے،آج کل کے پیشہ ور سائل اور جن سائلوں کو دینا منع ہے وہ اس میں داخل نہیں لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض سائلوں کو نہیں بھی دیا ہے کیونکہ وہاں سائل غیرحاجتمند تھے یا ایسی چیز مانگتے تھے جس کے وہ مستحق نہ تھے یا پیشہ بھیک سے انہیں روکنا مقصود تھا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1942