Main Icon

باب: بہترین صدقہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1936

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَت: يَا رَسُول اللّٰه! إِنَّ لِي جَارَيْنِ فَإِلَى أَيِّهِمَا أُهْدِي؟ قَالَ:"إِلَى أَقْرَبِهِمَا مِنْكِ بَابًا". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

وعن عائشة قالت: يا رسول الله! إن لي جارين فإلى أيهما أهدي؟ قال:"إلى أقربهما منك بابا". رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یارسولمیرے دو پڑوسی ہیں ان میں سے کسے ہدیہ دیا کروں فرمایا جس کا دروازہ تم سے زیادہ قریب ہو ۱؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ پڑوسیوں کو ہدیہ دینا سنت ہے کہ اس سے محبت بڑھتی ہے۔دوسرے یہ کہ اس کی علت پڑوسیت ہے جس قدر پڑوسیت قوی ہوگی اسی قدر ہدیہ کا استحقاق زیادہ ہوگا۔ تیسرے یہ کہ پڑوس کا قرب دروازہ سے ہوتا ہے نہ چھت سے نہ دیوار سے۔اگر ایک شخص کے مکان کی دیوار اورچھت تو ہمارے مکان سے ملی ہو مگر دروازہ دور ہو اور دوسرے کی نہ چھت ملی ہو نہ دیوار مگر دروازہ قریب ہو تو زیادہ قریب یہ دوسرا ہی مانا جائے گا اور اس کی وجہ بھی ظاہر ہے کیونکہ دروازہ کی وجہ سے ملاقات ہوتی ہے اور اسی کے ذریعہ زیادہ خلط ملط رہتا ہے اور ایک کو دوسرے کے درد وغم میں شرکت کا زیادہ موقع ملتا ہے۔یہ حدیث اس آیتِ کریمہ کی تفسیرہے"وَالْجَارِ ذِی الْقُرْبٰی وَالْجَارِ الْجُنُبِ"۔حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ دور والے پڑوسی کو بالکل نہ دو مطلب یہ ہے کہ سب کو دو مگر قریب کو ترجیح دو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1936