Main Icon

باب: بہترین صدقہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1938

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "جُهْدُ الْمُقِلِّ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

عن أبي هريرة قال: يا رسول الله! أي الصدقة أفضل؟ قال: "جهد المقل، وابدأ بمن تعول". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے انہوں نے عرض کیا یا رسولکونسا صدقہ بہتر ہے فرمایا غریب آدمی کی مشقت ۱؎اور ان سے شروع کرو جن کی پرورش کرتے ہو۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱؎یعنی غریب آدمی محنت مزدوری کرے پھر اس میں سے خیرات بھی کرے اس کا بڑا درجہ ہے۔خیال رہے کہ بعض لحاظ سے غنی کی خیرات افضل ہے جب کہ وہ توکل میں کامل نہ ہو اور بعض لحاظ سے فقیر کی خیرات افضل ہے جب کہ وہ اس کے گھر والے صبروتوکل میں کامل ہوں لہذا یہ حدیث گزشتہ حدیث کے خلاف نہیں کہ صدقہ غنٰے بہتر ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ اگر ہاتھ کا فقیر دل کا غنی تھوڑی سی خیرات کرے تو ہاتھ کے غنی کی بہت سی خیرات سے افضل ہے لہذا وہاں غنی والی حدیث میں دل کی غنا مراد ہوسکتی ہے تب بھی احادیث میں تعارض نہیں۔
۲
؎یعنی کوئی شخص اپنے بال بچوں کو بھوکا رکھ کر خیرات نہ کرے پہلے ان کا پیٹ بھرو،تن ڈھکو،پھر خیرات کرو۔یہ مطلب نہیں کہ اپنی زکوۃ پہلے اپنے بال بچوں کو دو،پھر دوسروں کوکیونکہ اپنی زکوۃ ا اپنی اولا اور بیوی کو نہیں لگتی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1938