Main Icon

باب: بہترین صدقہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1935

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ: أَنَّهَا أَعْتَقَتْ وَلِيدَةً فِي زَمَانِ رَسُولِ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-، فَذَكَرَتْ ذٰلِكَ لِرَسُولِ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَقَالَ: "لَوْ أَعْطَيْتِهَا أَخْوَالَكِ كَانَ أَعْظَمَ لِأَجْرِكَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن ميمونة بنت الحارث: أنها أعتقت وليدة في زمان رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-، فذكرت ذلك لرسول الله -صلی اللہ عليه وسلم- فقال: "لو أعطيتها أخوالك كان أعظم لأجرك". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت میمونہ بنت حارث سے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک لونڈی آزاد کی پھر رسول اللہ سے اس کا تذکرہ کیا تو فرمایا کہ اگر تم لونڈی اپنے مامؤوں کو دے دیتیں تو تمہیں بڑا ثواب ملتا ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اس لیے کہ آزاد کرنے میں صرف صدقہ کا ثواب ہے اور انہیں دینے میں صدقہ کا بھی ثواب ہوتا اور صلہ رحمی کا بھی۔معلوم ہوا کہ صلہ رحمی غلام آزاد کرنے سے بھی افضل ہے۔خیال رہے کہولیدہوہ لونڈی کہلاتی ہے جو اپنے مملوک غلام اور لونڈی کے پیٹ سے پیدا ہو یعنی خانہ زاد اور یہ میمونہ ام المؤمنین ہیں، حضرت عبد اللہ ابن عباس کی خالہ۔(اشعہ ومرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1935