Main Icon

باب: بہترین صدقہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1943

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنِ اسْتَعَاذَ مِنْكُمْ بِاللّٰهِ فَأَعِيذُوهُ، وَمَنْ سَأَلَ بِاللّٰهِ فَأَعْطُوهُ، وَمَنْ دَعَاكُمْ فَأَجِيبُوهُ، وَمَنْ صَنَعَ إِلَيْكُمْ مَعْرُوفًا فَكَافِئُوهُ، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا مَا تُكَافِئُوهُ فَادْعُوا لَهٗ حَتَّى تُرَوْا أَنْ قَدْ كَافَأتُمُوهُ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.

وعن ابن عمر قال: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "من استعاذ منكم بالله فأعيذوه، ومن سأل بالله فأعطوه، ومن دعاكم فأجيبوه، ومن صنع إليكم معروفا فكافئوه، فإن لم تجدوا ما تكافئوه فادعوا له حتى تروا أن قد كافأتموه". رواه أحمد وأبو داود والنسائي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو تم سے اللہ کی پناہ لے اسے پناہ دے دو ۱؎اور جو اللہ کے نام پر مانگے اسے کچھ دو اور جوتمہیں دعوت دے اس کی دعوت قبول کرو ۲؎اور جو کوئی تمہارے ساتھ بھلائی کرے اس کا بدلہ کرو ۳؎اگر بدلہ کی چیز نہ پاؤ تو اس کو دعائیں دو ۴؎حتی کہ سمجھ لو کہ تم نے اس کا بدلہ کردیا ۵؎(احمد،ابوداؤد، نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جو تمہاری سختی یا غیر کی سختی سے تمہارے پاس اللہ کی پناہ مانگے تو اسے دیدو کہ اگر تم کسی کو مارنا چاہتے ہو تو معافی دے دو یا کوئی دوسرا اس پر سختی کرنا چاہتا ہے اور تم دفع کرسکتے ہو تو کر دو،یہ حکم اپنے ذاتی معاملات میں ہے،قوم یا دین کے مجرم کو ہرگز معاف نہیں کرسکتے اگرچہ وہ کیسی ہی پناہ لے تاکہ امن و دین میں خلل نہ پڑے لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ آپ نے فاطمہ مخزومیہ کو جس نے چوری کرلی تھی معافی نہ دی۔
۲
؎بشرطیکہ وہ دعوت ممنوعات شرعیہ سے خالی ہو لہذا جس ولیمہ میں ناچ گانا خاص کھانے کی جگہ ہو وہاں نہ جائے ایسے ہی میت کے کھانے پر رسمی دعوت قبول نہ کرے لہذا یہ فرمان فتویٰ فقہاء کے خلاف نہیں۔
۳
؎اس طرح کہ وہ جس قسم کا سلوک تم سے کرے قولی،عملی ،مالی تم بھی اس سے ویسا سلوک کرو۔رب تعالٰی فرماتاہے:"هَلْ جَزَآءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ"اور فرماتاہے:"وَ اَحْسِنْ كَمَاۤ اَحْسَنَ اللّٰهُ اِلَیْكَ"۔یہ حکم ہم جیسے کم ہمت لوگوں کے لیے ہے ہمت والے تو اپنے دشمنوں کی برائی کا بدلہ معافی اور بھلائی سے کرتے ہیں۔شعر
لیا ظلم کا عفو ہے انتقام علیہ الصلوۃ علیہ السلام
۴
؎اس طرح کہ کہو"جزاك الله"یا اس کا کھانا کھا کر کہو"اللھم اطعم من اطعمنا واسق من سقانا" وغیرہ حضرت عائشہ صدیقہ کو جب کوئی سائل دعائیں دیتا تو آپ پہلے اسے دعائیں دیتیں پھر بھیک عطا فرماتیں کسی نے پوچھا کہ آپ عطا سے پہلے دعا کیوں دیتی ہیں فرمایا کہ میرا صدقہ عوض سےبچارہے،رضی اللہ عنہا۔ (مرقات)
۵
؎اس بنا پر حضرات صوفیاء فرماتے ہیں کہ ہمیشہ ہی درود شریف پڑھنا چاہئیے کیونکہ کوئی شخص نہ تو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے احسانات کا بدلہ کرسکتا ہے اور نہ بقدر احسان دعائیں ہی دے سکتا ہے کہ ان کے احسانات ہر آن بے شمار پہنچ رہے ہیں،ہر کلمہ،ہر تلاوت،ہر نماز بلکہ ہر نیک عمل میں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم پر احسانات ہیں لہذا مرتے مرتے ان کو دعائیں دو یعنی درود پاک پڑھو۔شعر
حی و باقی جس کی کرتا ہے ثنا مرتے دم تک اس کی مدحت کیجئے
جس کا حسن اللہ کو بھی بھاگیا اس کے پیارے سے محبت کیجئے

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1943