Main Icon

باب: بہترین صدقہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1933

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! أَلِيَ أَجْرٌ أَنْ أُنْفِقَ عَلَى بَنِي أَبِي سَلَمَةَ؟ إِنَّمَا هُمْ بَنِيَّ، فَقَالَ: "أَنَفِقِي عَلَيْهِمْ فَلَكِ أَجْرُ مَا أَنْفَقْتِ عَلَيْهِمْ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أم سلمة قالت: قلت: يا رسول الله! ألي أجر أن أنفق على بني أبي سلمة؟ إنما هم بني، فقال: "أنفقي عليهم فلك أجر ما أنفقت عليهم". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ام سلمہ سے ۱؎فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یارسول اللہ اگر میں ابوسلمہ کے بچوں پر جو گویا میرے ہی بچے ہیں خرچ کروں تو کیا مجھے ثواب ملے گا فرمایا ان پر خرچ کرو تمہیں ان پر خرچ کا ثواب ہے ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎ام سلمہ کے پہلے خاوند کا نام عبد اللہ ابن عبدالاسد تھا،کنیت ابو سلمہ،ان کی وفات کے بعد آپ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت سے مشرف ہوئیں،ابو سلمہ کی کچھ اولاد دوسری بیوی سے تھی جو ام سلمہ کی سوتیلی اولاد تھی،عمر،زینت اور کچھ اولاد خود ام سلمہ کے بطن سےتھی یعنی سلمہ کی حقیقی اولادمحمد،درّہ۔یہاں سوال سوتیلی اولاد کے متعلق ہے ورنہ آپ بنی ابی سلمہ نہ فرماتیں لہذا حدیث پر کوئی ا عتراض نہیں۔
۲
؎کیونکہ وہ یتیم بھی ہیں اور تمہارے عزیز ترین بھی،ان پر خرچ کرنا یتیم کو پالنابھی ہے اور عزیز کا حق ادا کرنا بھی،اپنے فوت شدہ خاوند کی روح کو خوش کرنابھی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1933