Main Icon

باب: بہترین صدقہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1932

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "أَفْضَلُ دِينَارٍ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ دِينَارٌ يُنْفِقُهُ عَلَى عِيَالِهِ، وَدِينَارٌ يُنْفِقُهُ عَلَى دَابَّتِهِ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ، وَدِينَارٌ يُنْفِقُهُ عَلَى أَصْحَابِهِ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن ثوبان قال: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "أفضل دينار ينفقه الرجل دينار ينفقه على عياله، ودينار ينفقه على دابته في سبيل الله، ودينار ينفقه على أصحابه في سبيل الله". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ثوبان سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ بہترین اشرفی جو آدمی خرچ کرتاہے وہ اشرفی ہے جسے اپنے بال بچوں پر خرچ کرے اور وہ اشرفی ہے جسے اپنے اللہ واسطے کے گھوڑے پر خرچ کرے ۱؎اور وہ اشرفی ہے جسے اللہ کی راہ میں اپنے دوستوں پر خرچ کرے ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یہ ترجمہ بہت مناسب ہے۔فی سبیل اللهگھوڑے کی صفت ہے خرچ کے متعلق نہیں یعنی جو گھوڑا جہاد کے لیے پالا ہو اس پر خرچ کرنا بہتر ہے اور جو گھوڑا اپنی سواری وغیرہ کے لیے ہو وہ عیال میں داخل ہے یعنی بال بچے وغیرہ جن کی پرورش ہم پر لازم ہے۔
۲
؎ظاہر یہ ہے کہ یہاں دوستوں سے مراد سفرجہاد یا سفرِ حج کے ساتھی ہیں ان پر خرچ کرنا دوہرا ثواب ہے ساتھی سے سلوک اور حاجی یا غازی کی امداد۔خیال رہے کہ اس حدیث سے یہ تو معلوم ہوا کہ یہ تین خرچ دوسرے خرچوں سے افضل ہیں مگر ان تین میں سے کون دوسرے سے افضل ہے یہ پتہ نہ لگا کیونکہ واؤ جمع کے لیے آتا ہے ترتیب نہیں چاہتا لہذا ان میں سے ایک دوسرے کی افضَلیت موقعہ ومحل کے لحاظ سے ہوگی،اگر جہاد کی سخت ضرورت آپڑی ہے تو غازیوں پر خرچ افضل اور گھر والے بہت ہی ضرورت مند ہوں تو ان پر خرچ بہتر۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1932