Main Icon

باب: تقدیر پر ایمان لانے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 98

ایمان کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أبِيْ هُرَيْرَة قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُوْلُ اللهِ صَلّٰى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَتَنَازَعُ فِي الْقَدَرِ فَغَضِبَ حَتَّى احْمَرَّ وَجْهُهُ حَتَّى كَأَنَّمَا فُقِئَ وَجْنَتَيْهِ حَبَّ الرُّمَّانِ فَقَالَ أَبِهَذٰا: «أُمِرْتُمْ أَمْ بِهَذٰا أُرْسِلْتُ إِلَيْكُمْ إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ حِيْنَ تَنَازَعُوْا فِيْ هَذٰا الْأَمْرِ عَزَمْتُ عَلَيْكُمْ عَزَمْتُ عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَنَازَعُوْا فِيْهِ».رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن أبي هريرة قال: خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن نتنازع في القدر فغضب حتى احمر وجهه حتى كأنما فقئ وجنتيه حب الرمان فقال أبهذا: «أمرتم أم بهذا أرسلت إليكم إنما هلك من كان قبلكم حين تنازعوا في هذا الأمر عزمت عليكم عزمت عليكم أن لا تنازعوا فيه».رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے ابوہریرہ سے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے حالانکہ ہم مسئلہ تقدیر پر جھگڑ رہے تھے ۱؎تو آپ ناراض ہوئے حتی کہ چہرہ انور سرخ ہوگیا گویا کہ رخساروں میں انار کے دانے نچوڑ دیئے گئے ہیں ۲؎اور فرمایا کیا تمہیں اس کا حکم دیا گیا ہے یا میں اسی کے ساتھ تمہاری طرف بھیجا گیا ۳؎تم سے پہلے لوگوں نے جب اس مسئلہ میں جھگڑے کیئے تو ہلاک ہی ہوگئے ۴؎میں تم پر لازم کرتا ہوں لازم کرتا ہوں کہ اس مسئلہ میں نہ جھگڑو ۵؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎کہ جب جو کچھ ہم کرتے ہیں ارادۂ الٰہی سے کرتے ہیں،توہم مجبور ہوئے،پھر اس پر ثواب اور عذاب کیسا؟ وغیرہ جیسے آج کل کی عام گفتگوئیں۔
۲
؎یعنی غضب کے آثار چہرے پرنمودار ہوگئے۔حضور علیہ السلام کا یہ غصّہ نفس کے لئے نہ تھا بلکہ الله تعالٰی کے لئے اورصحابہ کو تعلیم دینے کی غرض سے تھا،یہ غصہ عبادت ہے جس پر بڑا ثواب۔اس سے معلوم ہوا کہ استاد شاگردوں پر اور پیرمریدوں پر ناراض ہوسکتا ہے۔
۳
؎یعنی جن چیزوں کی تمہیں ضرورت ہے اور جن کا سوال تم سے قبر و حشر میں ہوگاان کے حاصل کرنے کی کوشش کرو،مسئلہ تقدیر میں بحث کرنے کے تم مکلف نہیں،نہ تم سے اس کا سوال ہوگا۔
۴
؎یہود و نصاریٰ کی بعض جماعتیں یا دیگر انبیاء کی امتیں جو مسئلۂ قضاء قدر میں کج بحثیاں کرکے ایمان کھو بیٹھے اور عذاب الٰہی آگیا۔
۵
؎اس سے معلوم ہوا کہ مسئلۂ تقدیر میں بےسمجھے بوجھے کج بحثیاں کرنا اور عوام کے دل میں اس کے متعلق شبہات پیدا کرنا حرام ہے،ایسے ہی ناسمجھ لوگوں کا اس میں زیادہ غور و فکر کرنا بھی منع،لیکن اس مسئلے کی حقانیت پر دلائل قائم کرنا،معترضین کے شبہات دور کرنا منازعت نہیں بلکہ تبلیغ ہے،مگر یہ علماء کا کام ہے عوام کا نہیں،لہذا علم کلام میں مسئلۂ تقدیر کی بحث اس زد میں نہیں آتی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 98