- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 1
- ایمان کا بیان
- حدیث نمبر 118
باب: تقدیر پر ایمان لانے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 118
ایمان کا بیان - جلد 1
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَمَّا خَلَقَ اللَّهُاللّٰهُ آدَمَ مَسَحَ ظَهْرَهٗ فَسَقَطَ عَنْ ظَهْرِهٖ كُلُّ نَسَمَةٍ هُوَ خَالِقُهَا مِنْ ذُرَّيَّتِهٖ إِلٰى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَجَعَلَ بَيْنَ عَيْنَيْ كُلِّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ وَبِيصًا مِنْ نُوْرٍ، ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلٰى آدَمَ فَقَالَ: أَيْ رَبِّ مَنْ هٰؤُلَاءِ؟ قَالَ: ذُرِّيَّتُكَ، فَرَأٰى رَجُلًا مِنْهُمْ فَأَعْجَبَهٗ وَبِيْصُ مَا بَيْنَ عَيْنَيْهِ قَالَ: أَيْ رَبِّ مَنْ هٰذَا؟ قَالَ: دَاوُدُ، فَقَالَ: أَيْ رَبِّ كَمْ جَعَلْتَ عُمْرَهٗ؟ قَالَ: سِتِّيْنَ سَنَةً، قَالَ: رَبِّ زِدْهُ مِنْ عُمْرِيْ أَرْبَعِيْنَ سَنَةً"، قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "فَلَمَّا انْقَضٰى عُمَرُ آدَمَ إِلَّا أَرْبَعِيْنَ جَاءَهٗ مَلَكُ الْمَوْتِ، فَقَالَ آدَمُ: أَوَ لَمْ يَبْقَ مِنْ عُمُرِيْ أَرْبَعُوْنَ سَنَةً؟ قَالَ: أَوَ لَمْ تُعْطِهَا اِبْنَكَ دَاوُدَ؟ قَالَ: فَجَحَدَ آدَمُ، فَجَحَدَتْ ذُرَّيتُهٗ، وَنَسِيَ آدَمُ فَأَكَلَ مِنَ الشَّجَرَةِ فَنَسِيَتْ ذُريَّتُهٗ، وَخَطَأَ آدَمُ وَخَطأَتْ ذُرِّيَّتُهٗ".رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لما خلق اللهالله آدم مسح ظهره فسقط عن ظهره كل نسمة هو خالقها من ذريته إلى يوم القيامة، وجعل بين عيني كل إنسان منهم وبيصا من نور، ثم عرضهم على آدم فقال: أي رب من هؤلاء؟ قال: ذريتك، فرأى رجلا منهم فأعجبه وبيص ما بين عينيه قال: أي رب من هذا؟ قال: داود، فقال: أي رب كم جعلت عمره؟ قال: ستين سنة، قال: رب زده من عمري أربعين سنة"، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "فلما انقضى عمر آدم إلا أربعين جاءه ملك الموت، فقال آدم: أو لم يبق من عمري أربعون سنة؟ قال: أو لم تعطها ابنك داود؟ قال: فجحد آدم، فجحدت ذريته، ونسي آدم فأكل من الشجرة فنسيت ذريته، وخطأ آدم وخطأت ذريته".رواه الترمذي
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب الله نے حضرت آدم کو پیدا کیا تو ان کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا تو ان کی پشت سے تاقیامت ان کی اولاد کی روحیں نکلیں جنہیں الله پیدافرمانے والا ہے اور ان میں سے ہر انسان کی دو آنکھوں کے بیچ نور کی چمک دی ۱؎پھر انہیں آدم پر پیش فرمایا وہ بولے اے رب یہ کون ہیں فرمایاتمہاری اولاد۲؎ان میں ایک شخص کو دیکھاتو ان کی آنکھوں کے درمیان کی چمک پسند آئی ۳؎بولے اے رب یہ کون ہے فرمایا حضرت داؤد بولے اے رب ان کی عمرکتنی مقرر فرمائی ہے فرمایا ساٹھ سال۴؎عرض کیا مولا میری عمر میں سے چالیس سال انہیں بڑھادے ۵؎حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب آدم کی عمر ماسوائے چالیس سال پوری ہوئی تو ان کی خدمت میں فرشتہ موت حاضر ہوا ۶؎آدم بولے کیا ابھی میری عمر کے چالیس سال باقی نہیں فرمایا کہ وہ تم اپنے فرزند داؤد کو نہ دے چکے ۷؎حضرت آدم انکاری ہوئے اس لئے انکی اولاد انکار کرنے لگی۸؎حضرت آدم بھول کر درخت سے کھا گئے لہذا ان کی اولاد بھولنے لگی حضرت آدم نے خطا کی تو انکی اولاد خطائیں کرنے لگی ۹؎(ترمذی)
شرح حدیث
۱∞؎فطری نوریعنی فطرۃ سلیمہ کا نور چہرے پرنمودار ہوا،خیال رہے کہ سقط یعنی گرا ہوا حمل اس میں داخل نہیں کیونکہ اس میں روح پھونکی ہی نہ گئی،جس بچہ میں روح پھونکی جائے وہ دکھایا گیا،یہ تمام کارروائی حضرت آدم کو مطلع فرمانے کے لئے کی گئی،رب تعالٰی تو ہمیشہ سےعلیم وخبیر ہے۔
۲؎اس سے معلوم ہوا کہ آدم علیہ ا لسلام نے اپنی ساری اولاد کو دیکھ بھی لیا،پہچان بھی لیا اور ا ن کے انجام سے اطلاع بھی پالی کہ فلاں جنتی ہے فلاں دزوخی ۔
۳؎اس سے معلوم ہوا کہ ان کی چمکیں مختلف تھیں اور حضرت آدم کو داؤد علیہ السلام کی چمک پسند آنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان کی چمک ہمارے حضور کی چمک سے زیادہ یا افضل ہو،حسن واقعی اور چیز ہے۔پسند آنا کچھ اور لیلےٰ سے بڑھ کرحسینہ اورعورتیں موجودگی تھیں مگر عاشق کی آنکھ میں وہی مرغوب تھی۔(اشعۃ اللمعات)
۴؎معلوم ہوا کہ الله تعالٰی اپنے مقبولوں کو اپنے خاص علوم عطا فرماتا ہے کیونکہ مقدارعمرعلوم خمسہ میں سے ہے جو رب العالمین نےسیدنا آدم کے پوچھنے پر بتادی۔
۵؎آدم علیہ السلام کی عمر ایک ہزارسال تھی،آپ نے عرض کیا کہ میری عمر نو سو ساٹھ سال کردے اورداؤد علیہ السلام کی عمر پورے سو۱۰۰سال،یہ دعا رب نے قبول فرمالی۔معلوم ہوا کہ نبی کی دعا سے عمریں گھٹ بڑھ جاتی ہیں،ان کی شان تو بہت ارفع ہے شیطان کی دعا سے اس کی عمر بڑھ گئی کہ اُس نے عرض کیا تھا"اَنۡظِرْنِیۡۤ اِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوۡنَ"رب تعالٰی نے اس کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا:"فَاِنَّکَ مِنَ الْمُنۡظَرِیۡنَ"الآیہ"فَاِنَّکَ"کیفسےمعلوم ہوتاہے کہ یہ زیادتی عمر اس کی دعا سے ہوئی،رہی وہی آیت کریمہ"اِذَا جَآءَ اَجَلُہُمْ فَلَا یَسْتَاۡخِرُوۡنَ سَاعَۃً وَّلَایَسْتَقْدِمُوۡنَ"وہ اس حدیث کے خلاف نہیں کیونکہ آیت میں تقدیر مبرم یعنی علمِ الٰہی کا ذکر ہے،اور یہاں تقدیرمعلق کی تحریر کا ذکر یا آیت کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے اختیار سے اپنی عمر کم و بیش نہیں کرسکتا،اور حدیث کا مطلب یہ ہے کہ بندوں کی دعا سے عمریں رب گھٹا بڑھا دیتا ہے۔آخر عیسیٰ علیہ السلام مردوں کو زندہ فرماتے تھے انہیں آپ کی دعا سے نئی عمریں مل جاتی تھیں سچ ہے دعا سے تقدیر پلٹ جاتی ہے۔
۶؎یعنی جب آپ کے نو سو ساٹھ سال پورے ہوئے تو حضرت عزرائیل نے حاضر ہو کر آپ کو موت کا پیغام سنایا،معلوم ہوا کہ انبیاء کی وفات ہماری طرح جبرًا نہیں ہوتی،بلکہ فرشتۂ موت ظاہر ظہور خدمت میں حاضر ہوتےہیں اور ان کی اجازت سے جان قبض کرتے ہیں ان کی وفات اختیاری ہے۔
۷؎معلوم ہوا کہ آدم علیہ السلام کو اپنی عمرمعلوم تھی کہ کل اتنی ہوگی یہ علوم خمسہ میں سے ہے یہ بھی معلوم ہوا انبیائے کرام کی وفات ان کی رضا سےسمجھا بجھا کر ہوتی ہے۔ہم سے ملک الموت کبھی حساب کتاب نہیں کرتے۔
۸؎یعنی آدم علیہ السلام اپنا یہ عطیہ بھول گئے اس بنا پر کہا کہ مجھے اپنا یہ عطیہ دینا یاد نہیں،یاد کا انکار ہے نہ کہ دینے کا،رب کی خبر کا انکار کفر ہوجاتاہے لہذاحدیث پر کوئی اعتراض نہیں،انبیائے کرام کی بھول بھی رب کی طرف سے ہوتی ہے جس میں ہزارہاحکمتیں ہیں۔
۹؎یعنی آدم علیہ السلام سے درخت کی تعیین میں اجتہادی خطا ہوئی اورسمجھے کہ رب نے خاص اس درخت کے پھل سے منع فرمایا ہے اور میں دوسرے درخت سے پھل کھارہا ہوں حالانکہ ممانعت جنس درخت سے تھی۔(مرقاۃ)یا وہ سمجھے کہ مجھے کھانے سے منع نہیں کیا گیا بلکہ قریب جانے سے کچھ بھی ہو،ہوا دھوکہ ہی،وہی خطا اورنسیان آج تک انسانوں میں چلی آرہی ہے۔اس حدیث میں یہ نہیں بتایا گیا کہ پھر فیصلہ کیا ہوا ظاہر یہ ہے کہ آدم علیہ السلام کو بھی ہزار سال عمر دی گئی اور داؤد علیہ السلام کو بھی سو۱۰۰ برس،آپ کی زبان خالی نہ گئی،اگر آدم علیہ السلام ویسے ہی فرمادیتے کہ مجھے ہزار سال دنیا میں اور رہنا ہے تو آپ کی بات مان لی جاتی،جیسا کہ موسیٰ علیہ السلام کی وفات کے واقعہ سے معلوم ہوگا۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 118