- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 1
- ایمان کا بیان
- حدیث نمبر 81
باب: تقدیر پر ایمان لانے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 81
ایمان کا بیان - جلد 1
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ الله صَلّٰى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «اِحْتَجَّ اٰدَمُ وَمُوْسٰى عِنْدَ رَبِّهِمَا فَحَجَّ آدَمُ مُوْسٰى قَالَ مُوْسٰى أَنْتَ اٰدَمُ الَّذِيْ خَلَقَكَ اللّٰهُ بِيَدِهٖ وَنَفَخَ فِيْكَ مِنْ رُوْحِهٖ وَأَسْجَدَ لَكَ مَلَائِكَتَهٗ وَأَسْكَنَكَ فِيْ جَنَّتِهٖ ثُمَّ أَهَبَطْتَ النَّاسَ بِخَطِيْئَتِكَ إِلیٰ الأَرْضِ قَالَ اٰدَمُ أَنْتَ مُوسَى الَّذِيْ اصْطَفَاكَ اللّٰهُ بِرِسَالَتِهٖ وَبِكَلَامِهٖ وَأَعْطَاكَ الْأَلْوَاحَ فِيْهَا تِبْيَانُ كُلِّ شَيْءٍ وَقَرَّبَكَ نَجِيًّا فَبِكَمْ وَجَدَتَ اللهَ كَتَبَ التَّوْرَاةَ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ قَالَ مُوسٰى بِأَرْبَعِيْنَ عَامًا قَالَ اٰدَمُ فَهَلْ وَجَدْتَ فِيْهَا (وَعَصٰٓى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى)
قَالَ نَعَمْ قَالَ أَفَتَلُوْمُنِيْ عَلٰى أَنْ عَمِلْتُ عَمَلًا كَتَبَهُ اللّٰهُ عَلَيَّ أَنْ أَعْمَلَهُ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِيْ بِأَرْبَعِينَ سَنَةٍ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلّٰى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَجَّ اٰدَمُ مُوسٰى» .رَوَاهُمُسْلِمٌ
وعن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «احتج ادم وموسى عند ربهما فحج آدم موسى قال موسى أنت ادم الذي خلقك الله بيده ونفخ فيك من روحه وأسجد لك ملائكته وأسكنك في جنته ثم أهبطت الناس بخطيئتك إلی الأرض قال ادم أنت موسى الذي اصطفاك الله برسالته وبكلامه وأعطاك الألواح فيها تبيان كل شيء وقربك نجيا فبكم وجدت الله كتب التوراة قبل أن أخلق قال موسى بأربعين عاما قال ادم فهل وجدت فيها (وعصى ادم ربه فغوى)
قال نعم قال أفتلومني على أن عملت عملا كتبه الله علي أن أعمله قبل أن يخلقني بأربعين سنة قال رسول الله صلى الله عليه وسلم فحج ادم موسى» .رواهمسلم
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت آدم و موسیٰ نے اپنے رب کے نزدیک ۱؎مناظرہ کیا تو آدم علیہ السلام حضرت موسیٰ (علیہ السلام )پر غالب رہے حضرت موسیٰ نے فرمایا کہ آپ وہ آدم ہیں جنہیں الله نے اپنے دستِ قدرت سے پیدا کیا اور آپ میں اپنی روح پھونکی ۲؎اور اپنے فرشتوں سے آپ کو سجدہ کرایا ۳؎آپ کو جنت میں رکھا۴؎پھر آپ نے اپنی لغزش کی وجہ سے لوگوں کو نیچے اتاردیا ۵؎حضرت آدم نے فرمایا کہ آپ ہی وہ موسیٰ ہیں جنہیں الله نے اپنی پیغمبری اور ہمکلامی کے لیئے چنا ۶؎اور آپ کوتختیاں بخشیں جن میں ہر چیز کاکھلا بیان ہے ۷؎اورآپ کوخصوصی ہمکلامی سے قرب بخشا فرمایئے کہ آپ نے میری پیدائش سے کتنے پہلے توریت کو پایا کہ رب نے لکھ دیا تھا۸؎حضرت موسیٰ نے فرمایا چالیس سال پہلے۹؎حضرت آدم نے فرمایا تو کیا آپ نے توریت میں یہ بھی دیکھا ۱۰؎کہ آدم نے اپنے رب کی فرمانبرداری سےلغزش کی تو کامیاب نہ ہوئے فرمایا ہاں آپ نے فرمایا تو کیا آپ اس لغزش پر ملامت کرتے ہیں ۱۱؎جس کا کرلینا میرے مقدر میں میری پیدائش سے چالیس سال پہلے لکھا جاچکا تھا ۱۲؎فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ حضرت آدم موسیٰ علیہ السلام پر غالب رہے۱۳؎(مسلم)
شرح حدیث
۱∞؎یا تو عالم ارواح میں،یا موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں آدم علیہ السلام کو زندہ فرما کر اور ان سے ملاقات کرا کے،یا اس طرح کہ حضائرقدس میں اُن کی ملاقات ہوئی۔مرقات میں ہے کہ انبیائے کرام اپنی قبروں میں زندہ ہیں نمازیں پڑہتے ہیں۔دیکھو ہمارے حضور نے معراج میں تمام نبیوں سے ملاقات کی اور انہیں نماز پڑھائی۔اس سے معلوم ہوا کہ حضور کی نگاہ عالم ارواح پر بھی ہے کہ وہاں کے حالات ملاحظہ فرماتے اور لوگوں کو سناتے ہیں کیونکہ ظاہر یہی ہے کہ حضور یہ دیکھا ہوا واقعہ بیان فرمارہے ہیں۔
۲؎یعنی آپ کا جسم شریف بلاواسطہ فرشتہ اور بغیرتوسل ماں باپ دستِ قدرت سے بنایا اور اپنے تمام کمالات کا مظہر کیا اور اپنی پیدا کی ہوئی روح آپ کے جسم میں جاری فرمائی۔یہاں اضافت شرافت کی ہے ورنہ خدائے تعالٰی خود روح سے پاک ہے،حقیقتِ روح رب ہی جانے مگر معلوم ہوتا ہے کہ وہ پھونکنے کے قابل چیز ہے کیونکہ ہر جگہ اس کے لیئے پھونکنے کا لفظ ہی آتا ہے۔اولیاء الله کا جھاڑ پھونک ان جیسی احادیث اور آیات سے ماخوذ ہے۔
۳؎سارے فرشتوں سے مقربین ہوں،یا مدبّراتِ امر،زمین کے ہوں یا آسمان کے،تعظیمی سجدہ زمین پر پیشانی رکھ کر نہ فقط رکوع اور نہ صرف جھکنا۔رب تعالٰی فرماتا ہے:"فَقَعُوۡا لَہٗ سٰجِدِیۡنَ"یہ سجدۂ عبادت نہ تھا کہ خدا کو ہوتا اور آدم علیہ السلام قبلہ ہوتے جیسا کہلَكَکے لام سے معلوم ہوا،ورنہ شیطان کبھی ا س سے انکار نہ کرتا۔
۴؎عارضی طور پر تربیت دینے کے لئے تاکہ زمین کو اس طرح آباد کریں ورنہ آپ کی پیدائش زمین کی خلافت کے لیئے تھی اس کی تحقیق ہماری تفسیر نعیمی میں دیکھو۔
۵؎یعنی خطاء اجتہادی اور بُھول سے گندم کھالیا جس کی وجہ سے آپ زمین پر تشریف لائے۔اور نسل یہاں چلی،اگر آپ وہیں رہتے تو ہم سب وہیں پیدا ہوتے۔
لطیفہ: ایک گستاخ نے کسی عالم سے کہا کہ دادا کا گناہ ہم بھگت رہے ہیں،گندم انہوں نے کھایا سزا ہمیں ملی،وہ ہمیں نیچے اتار لائے،عالم نے کہا غلط،بلکہ تجھ جیسے مردودوں نے انہیں نیچے اتارا،رب جانتا تھا کہ ان کی پشت میں تجھ جیسے بے ایمان بھی ہیں حکم دیا کہ اے آدم ان خبیثوں کو زمین پر پھینک آؤ،پھر واپس آجانا۔موسیٰ علیہ السلام کی یہ عرض و معروض گستاخی کے طور پرنہیں،انبیاء جدّ امجد کی گستاخی سے معصوم ہیں۔
۶؎زمین پر رہ کر بلاواسطۂ فرشتہ رب تعالٰی سے کلام کرنا موسیٰ علیہ السلام کی خصوصیّت ہے،اسی لیئے آپ کا لقب کلیم الله ہے،لامکان میں پہنچ کر ربّ کا دیدار اور اس سے کلام ہمارے حضور کی خصوصیّت ہےکیونکہ آپ حبیب الله ہیں۔
۷؎یعنی توریت شریف جو زبرجد کی تختیوں پر لکھی ہوئی عطا فرمائی گئی اس میں احکام شرعیہ اور سارے علوم غیبیہ کا کھلا بیان تھا۔خیال رہے کہ بوقتِ عطا توریت میں ہدایت بھی تھی اور ہر چیز کا بیان بھی مگر جب موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ سے قوم کی بچھڑا پرستی پر غصّہ کی وجہ سے زمیں پر گرگئیں۔تو ہدایت و رحمت تو رہ گئی"تَبْیَانُ کُلِّ شَیْءٍ"اس میں سے اٹھالی گئی،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَلَمَّا سَكَتَ عَنْ مُوسَى الْغَضَبُ أَخَذَ الْأَلْوَاحَ وَفِي نُسْخَتِهَا هُدًى وَرَحْمَةٌ لِلَّذِينَ هُمْ لِرَبِّهِمْ يَرْهَبُونَ"۔دیکھو یہاںتبیانکا ذکر نہیں۔ خلاصہ یہ کہ توریت میں سارے علوم غیبیہ تھے مگرباقی نہ رہے لیکن قرآن شریف میں سارے علوم غیبیہ تھے بھی اور باقی بھی رہے۔رب تعالٰی فرماتا ہے:"نَزَّلْنَا عَلَیۡکَ الْکِتٰبَ تِبْیٰنًا لِّکُلِّ شَیۡءٍ"لہذا موسیٰ علیہ السلام کا علم ہمارے حضور کے برابر نہیں ہوسکتا۔
۸؎یعنی آپ کو تو خبر ہے کہ میری پیدائش سے کتنا عرصہ پہلے توریت شریف لوح محفوظ میں،یا فرشتوں کے صحائف میں،یا ان تختیوں میں لکھی جاچکی تھی۔تیسرے معنی زیادہ ظاہر ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی نگاہ اس عالم کی پیدائش سے پہلے واقعات کو بھی دیکھتی ہے کہ جو واقعہ آدم علیہ السلام کی پیدائش سے قبل ہوچکا وہ موسیٰ علیہ السلام کی نگاہ میں ہے جیسا کہوَجَدتَّسے معلوم ہوتا ہے۔
۹؎اگرتختیوں میں لکھنا مراد ہے تو سال سے اس دنیا کے سال مراد ہوں گے،اور اگر لوح محفوط میں لکھنا مراد ہے تو رب تعالٰی کے سال مراد ہوں گے جو ایک سال یہاں کے ہزار سال سے بھی زیادہ ہے،لہذا یہ حدیث پچھلی حدیث کے خلاف نہیں کہ لوح محفوظ کی تحریر آسمان زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار سال پہلے ہوئی(ازاشعہ و مرقاۃ)۔خیال رہے کہ توریت کلام الٰہی قدیم ہے اس کے نقوش کا لکھنا حادث اسی کا یہاں ذکر ہے۔
۱۰؎یعنی غلط فہمی سے جس مقصد کے لیئے گندم کھایاتھا انہیں وہ حاصل نہ ہوا ہمیشگی اورموت سے بچ جانا۔خیال رہے کہ انبیائےکرام نبوت سے پہلے اوربعدگناہ صغیرہ اور کبیرہ سب سےمعصوم ہیں۔(مرقاۃ)ہاں خطاءلغزش اجتہادی غلطی ہوسکتی ہے اور عتاب الٰہی جو اُن کی لغزشوں پر آتا ہے اس میں ہزارہاحکمتیں ہوتی ہیں لہذایہاں"عصےٰ"اور"غوےٰ"کے وہی معنٰے ہیں جوفقیرنے عرض کیے۔
۱۱؎یعنی ملامت کے انداز میں گفتگو کررہے ہو ورنہ موسیٰ علیہ السلام آپ کو نہ ملامت کرسکتے تھے نہ کی۔بیٹے کو باپ پر خصوصًا بنی باپ پرشاگردکو استاد پر ملامت کرنے کا حق نہیں۔
۱۲؎اور رب تعالٰی نے بھی اس کی معافی کا اعلان فرمادیا۔خیال رہے کہ یہاں موسیٰ علیہ السلام کی نظر ظاہر پر تھی اور آدم علیہ السلام کا جواب حقیقت پرمبنی ہے آج ہم جیسے گنہگار تقدیر کی آڑ لےکر اپنے گناہوں سے بری نہیں ہوسکتے،یعنی اے موسیٰ!میری یہ خطا اور جنت سے زمین پر آنا،یہاں یہ باغ و بہار لگانا سب رب تعالٰی کے ارادہ اور اسکی مرضی سے تھا جس میں ہزاروں اسرار تھے تم صاحبِ اسرار ہو کر مجھ سے یہ سوال کیوں کرتے ہو؟۔
۱۳؎کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام )کا سوال شریعت پر اور حضرت آدم کا جواب حقیقت پر مبنی ہے حقیقت غالب رہتی ہے،حقیقت والے خضر علیہ السلام نے بچے کو بلا گناہ قتل کردیا اور ان پرکوئی فتویٰ جاری نہ ہوا۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 81