- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 1
- ایمان کا بیان
- حدیث نمبر 115
باب: تقدیر پر ایمان لانے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 115
ایمان کا بیان - جلد 1
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنِ ابْنِ الدَّيْلَمِيِّ قَالَ: أَتَيْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ فَقُلْتُ لَهٗ: قَدْ وَقَعَ فِيْ نَفْسِيْ شَيْءٌ مِنَ الْقَدَرِ فَحَدِثْنِیْ لَعَلَّ اللهَ اَنْ یُّذْھِبَہٗ
مِنْ قَلْبِیْ فَقَالَ لَوْ اَنَّ اللهَ عَزَّوَجَلَّ عَذَّبَ أَهْلَ سَمَاوَاتِهٖ وأَهْلَ أَرْضِهٖ عَذَّبَهُمْ وَهُوَ غَيْرُ ظَالِمٍ وَلَوْ رَحِمَهُمْ كَانَتْ رَحْمَتُهٗ خَيْرًا لَهُمْ مِنْ أَعْمَالِهِمْ وَلَوْ أَنْفَقْتَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا فِيْ سَبِيلِ اللهِ مَا قَبِلَهُ اللّٰهُ مِنْكَ حَتّٰى تُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ وَتَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ وَأَنَّ مَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيْبَكَ وَلَوْ مُتَّ عَلٰى غَيْرِ هٰذَا لَدَخَلْتَ النَّارَ قَالَ ثُمَّ أَتَيْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ فَقَالَ مِثْلَ ذٰلِكَ قَالَ ثُمَّ أَتَيْتُ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ فَقَالَ مِثْلَ ذٰلِكَ قَالَ ثُمَّ أَتَيْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَحَدَّثَنِيْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ.
وعن ابن الديلمي قال: أتيت أبي بن كعب فقلت له: قد وقع في نفسي شيء من القدر فحدثنی لعل الله ان یذھبہ
من قلبی فقال لو ان الله عزوجل عذب أهل سماواته وأهل أرضه عذبهم وهو غير ظالم ولو رحمهم كانت رحمته خيرا لهم من أعمالهم ولو أنفقت مثل أحد ذهبا في سبيل الله ما قبله الله منك حتى تؤمن بالقدر وتعلم أن ما أصابك لم يكن ليخطئك وأن ما أخطأك لم يكن ليصيبك ولو مت على غير هذا لدخلت النار قال ثم أتيت عبد الله بن مسعود فقال مثل ذلك قال ثم أتيت حذيفة بن اليمان فقال مثل ذلك قال ثم أتيت زيد بن ثابت فحدثني عن النبي صلى الله عليه وسلم مثل ذلك. رواه أحمد وأبو داود وابن ماجه.
حدیث ترجمہ
روایت ہے ابن دیلمی سے ۱؎فرماتے ہیں میں ابی ابن کعب ۲؎کی خدمت میں حاضرہوا اورعرض کیامیرے دل میں تقدیر کےمتعلق کچھ شکوک پڑ گئے ۳؎مجھے کوئی حدیث سنائیے شاید الله میرے دل سے وہ دور فرمادے ۴؎فرمایا اگرالله تعالٰی اپنے آسمانی اور زمینی بندوں کو عذاب دے تو وہ ان پر ظالم نہیں ۵؎اور اگر ان پر رحم فرمادے تو اس کی رحمت ان کے اعمال سے بہتر ہے ۶؎اور اگر تم احد برابر سونا الله کی راہ میں خیرات کرو تو الله قبول نہ کرے گا،جب تک تم تقدیر پر ایمان نہ لاؤ ۷؎اور یہ نہ جان لو کہ جو تمہیں پہنچا وہ تم سے بچ سکتا نہ تھا اور جو تم سے بچ گیا وہ تمہیں پہنچ سکتا نہ تھا ۸؎اور اگر تم اس کے سواکسی اور عقیدے پر مرے تو دوزخ میں جاؤ گے فرماتے ہیں پھر میں عبدالله ابن مسعود کے پاس گیا تو انہوں نے بھی یہ ہی فرمایا پھر میں حذیفہ ابن یمان کے پاس گیا تو انہوں نے بھی یہ ہی فرمایا پھر میں زید ابن ثابت ۹؎کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کی ۱۰؎(احمد،ابوداؤد،ابن ماجہ)
شرح حدیث
۱∞؎آپ کا نام ابوعبدالله یاابوعبدالرحمان ہے،ابن فیروز دیلمی حمیری فارسی النسل ہیں،آپ کے والد فیروز نے اسودعنسی کو قتل کیا جو مدعی نبوت تھا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مرضِ وفات شریف میں جب اس قتل کی خبرپہنچی تو فرمایا کہ اسے نیک بندے نے قتل کیا،امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ۵۰ھمیں انتقال ہوا،دیلمی صحابی ہیں اور ان کے بیٹے ابوعبدالرحمن تابعی،دیلم ایک پہاڑ کانام ہے۔
۲؎آپ قراءصحابہ میں سے ہیں،انصاری ہیں،خزرجی ہیں،کاتبِ وحی رہے ہیں،ان چھ صحابہ میں سے ہیں جو حضور کے زمانہ پاک میں حافظِ قرآن تھے۔اور حضور نے آپ کی کنیت ابوالمنذر رکھی تھی اور عمر فاروق نے ابوطفیل،حضورآپ کوسیدالانصار اور حضرت عمر سیّدالمسلمین کہتے تھے،مدینہ منورہ میں خلافت فاروقی ۱۹ھمیں وفات پائی۔
۳؎کہ جب ہر چیزلکھی جاچکی اور وہ ہو کے رہے گی تو شریعت کے احکام کس لیے ہیں اور سزا جزا کیوں ہے شاید یہ شبہات قدریوں کی صحبت سے پیش آئے ہوں۔
۴؎اس سے معلوم ہوا کہ علماء کی خدمت میں،جانا اُن سے مسائل پوچھنا،اپنے شکوک نکالنا سنت صحابہ ہے رب تعالٰی فرماتا ہے: "فَاسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ"۔
۵؎یعنی کیوں اور کیسے میں غور نہ کرو بلکہ یہ ایمان رکھو کہ رب مالک حقیقی ہے اپنی ملکیت میں جو چاہے تصرف کرے۔ہم بکری ذبح کرلیتے ہیں،درختوں کو کاٹ کر جلا لیتے ہیں،کمہار ایک مٹی کو پیالہ بناتا ہے جو پانی میں رہے،دوسری کو ہانڈی جو آگ پر جلے،جب یہ کوئی ظالم نہیں،تو اگر رب تعالٰی ہمیں بے قصور جہنم میں ڈال دے تو ظالم کیوں ہو؟خیال رہے کہ یہ فرضی گفتگو ہے جیسے رب تعالٰی فرماتا ہے:"إِنْ كَانَ لِلرَّحْمَنِ وَلَدٌ فَأَنَا أَوَّلُ الْعَابِدِينَ"ورنہ انبیائےکرام اور جن سے جنت کا وعدہ ہوچکا اُن کا عذاب پانا ایسا ہی ناممکن ہے جیسا رب کا شریک،رب تعالٰی جھوٹ سے پاک ہے،یہاں صرف یہ فرمایا گیا کہ بفرضِ محال اگر انہیں عذاب دے تو بھی ظالم نہیں کہ ظالم وہ جو دوسرے کی ملک میں بلا وجہ تصرف کرے۔
۶؎یعنی اگر سارے بندوں کفارمرتدین وغیرہم کوبخش دے تو یہ اس کا رحم ہے،یہ کلام بھی فرضی ہے ورنہ ابلیس، فرعون،ابوجہل وغیرہ کا جنتی ہونا ناممکن ہے رب تعالٰی فرماتا ہے:"لَا یَدْخُلُوۡنَ الْجَنَّۃَ حَتّٰی یَلِجَ الْجَمَلُ فِیۡ سَمِّ الْخِیَاطِ"۔
۷؎اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ تقدیر کا انکار کفر ہے اور منکر کافر اسی لیے بعض علماء نے قدریوں کو کافر کہا ہے۔دوسرے یہ کہ کافر کی کوئی نیکی قبول نہیں جیسے بے وضو کی نماز درست نہیں۔تیسرے یہ کہ زمانۂٔ صحابہ میں اس قسم کے مسائل چھڑ گئے تھے جن کی تردید صحابۂ کبار کرتے تھے۔
۸؎یعنی ہر مصیبت اور راحت رب تعالٰی کے ارادہ سے ہے اسباب کچھ بھی ہوں لہذا یہ نہ کہو کہ اگر اسے بخار نہ آتا تو نہ مرتا،یا اگر میں فلاں کام کرلیتا تو بیمار نہ ہوتا،موت بھی رب کی طرف سے ہے اور بخار بھی،بیماری بھی رب تعالٰی کی طرف سے ہے اور وہ کام بھی۔
۹؎آپ انصاری ہیں،کاتبِ وحی ہیں،علمِ فرائض کے بڑے عالم ہیں،صدیق اکبر رضی الله عنہ کے زمانہ میں قرآن کے جامع،عہد عثمانی میں مصحفوں میں قرآن کے ناقلین میں آپ بھی ہیں،۵۶ سال کی عمر پا کر ۴۵ھمیں مدینہ پاک میں وفات پائی۔
۱۰؎لہذا یہ حدیث مرفوع ہے اگرچہ ان تین صحابہ نے اس رفع کا اظہار نہ فرمایا۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 115