Main Icon

باب: تقدیر پر ایمان لانے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 83

ایمان کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلّٰى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِنَّ الْعَبْدَ لَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ النَّارِ وَإِنَّهُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ الْجنَّةِ وَإنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ وَإِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالْخَوَاتِيْمِ» (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن سهل بن سعد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «إن العبد ليعمل عمل أهل النار وإنه من أهل الجنة ويعمل عمل أهل الجنة وإنه من أهل النار وإنما الأعمال بالخواتيم» (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہےسہل ابن سعدسے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ بعض بندے کرتوت تو دوزخیوں کے سےکرتے ہیں لیکن ہوتے ہیں جنتی اور بعض عمل توجنتیوں کے سے کرتے ہیں لیکن ہوتے ہیں دوزخی اعمال کا اعتبار صرف انجام سے ہے۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ ساعدی ہیں،انصاری ہیں،آپ کا نام پہلے حزن تھا،حضور نے سہل رکھا،کنیت ابوالعباس یا ابویحیی ہے،خود بھی صحابی اور والد ماجد بھی صحابی ہیں،حضورکی وفات کے وقت آپ کی عمرپندرہ سال تھی،
۹۱
ہجری میں مدینہ منورہ میں وفات پائی،مدینہ طیبہ میں سب سے آخری صحابی آپ ہی ہیں کہ ان کی وفات سے مدینہ طیّبہ صحابہ سے خالی ہوگیا۔
۲
؎یعنی مرتے وقت جیسا کام ہوگا ویسا ہی انجام ہوگا لہذا چاہیئے کہ بندہ ہروقت ہی نیک کام کرے کہ شاید وہی اس کا آخری وقت ہو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 83