- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 1
- ایمان کا بیان
- حدیث نمبر 85
باب: تقدیر پر ایمان لانے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 85
ایمان کا بیان - جلد 1
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَ عَنْ عَليٍّرَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلّٰى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ كُتِبَ مَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ، وَمَقْعَدُهُ مِنَ الْجَنَّةِ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ! أَفَلَا نَتَّكِلُ عَلٰی كِتَابِنَا وَنَدَعُ الْعَمَلَ قَالَ: "اِعْمَلُوْا فَكُلٌّ مُيَسِّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهٗ أمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ فَسَيُيَسَّرُ لِعَمَلِ السَّعَادَةِ، وَأَمَّا مِنْ أَهْلِ الشَّقَاوَةِ فَسَيُيَسَّرُ لِعَمَلِ الشَّقَاوَةِ"، ثُمَّ قَرَأَ: فَأَمَّا مَنْ أَعْطٰى وَاتَّقٰى وَصَدَّقَ بِالْحُسْنٰى اَلْآيَہْ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
و عن عليرضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ما منكم من أحد إلا وقد كتب مقعده من النار، ومقعده من الجنة"، قالوا: يا رسول الله! أفلا نتكل علی كتابنا وندع العمل قال: "اعملوا فكل ميسر لما خلق له أما من كان من أهل السعادة فسييسر لعمل السعادة، وأما من أهل الشقاوة فسييسر لعمل الشقاوة"، ثم قرأ: فأما من أعطى واتقى وصدق بالحسنى الآيہ (متفق عليه)
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت علی ۱؎سے فرماتے فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم میں ایسا کوئی نہیں جس کا ایک ٹھکانہ دوزخ میں ۲؎اور ایک ٹھکانہ جنت میں نہ لکھاجاچکا ہو لوگوں نےعرض کیا یارسول الله ہم اپنی تحریر پر بھروسہ کیوں نہ کرلیں اور عمل چھوڑدیں ۳؎فرمایا عمل کیئے جاؤ ہر ایک کو وہی اعمال آسان ہوں گے جس کے لیئے پیدا ہو۴؎اگر خوش نصیبوں سے ہے تو اسے خوش نصیبی کے اعمال آسان ہوں گے اور اگر بدنصیبوں سے ہے تو اسے بدنصیبی کے اعمال میسر ہوں گے ۵؎پھرحضور نے یہ آیت تلاوت کی لیکن جو خیرات کرے اور پرہیزگاراور ایماندار ہواالایہ۶؎(مسلم،بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎آپ کا نام شریف علی ابن ابی طالب،کنیت ابوالحسن اور ابو تراب،لقب حیدر کرّار ہے،قرشی ہیں،ہاشمی ہیں،مطلبی ہیں،اسلام کے خلیفہ چہارم ہیں اور بچوں میں سب سے پہلے ایمان لانے والے کہ آٹھ یا دس سال کی عمر میں ایمان لائے۔حضور کے ساتھ سواء غزوۂ تبوک کے باقی تمام غزووں میں شریک رہے،آپ کے فضائل حدّو شمار سے زیادہ ہیں،آپ ہی نسل جناب مصطفے کی اصل ہیں،اخی الرسول، زوج بتول ہیں،یعنی آپ کا ایک ہاتھ چار یار میں ہے،دوسرا پنجتن پاک میں شاہ خیبر شکن ہیں شعر
شیر شمشیر زن شاہ خیبر شکن پرتودستِ قدرت پہ لاکھوں سلام
آپ ۱۸ ذی الحجہ ۳۵ھبروز جمعہ یعنی عین شہادت عثمان کے دن خلیفہ ہوئے،چار سال نو مہینہ خلافت کی اور ۶۳ سال کی عمر پاکر ۱۷ رمضان ۴۰ ھجمعہ کے دن کوفہ کی جامع مسجد میں شہید کیے گئے۔عبدالرحمن ابن مُلجم مرادی نے ایک عورت قطام کے عشق میں مبتلا ہو کر اسی کے کہنے پر شہید کیا۔ شہادت سے تیسرے دن وفات پائی،امام حسن و حسین و عبد الله ابن جعفر نے آپ کو غسل دیا،امام حسن نے نماز پڑھائی،کوفہ کے قبرستان نجف میں دفن ہوئے،قبر انور زیارت گاہِ خلق ہے فقیر نے بھی زیارت کی ہے۔آپ کی نو بیویاں ہوئیں:(۱)فاطمہ زہرا،(۲)ام بنین،(۳)لیلی بنت مسعود،(۴)اسماء بنت عمیص،(۵)امامہ بنت ابی العاص،(۶)خولہ بنت جعفر، (۷)صہبا بنت ربیعہ،(۸)اُم سعید بنت عروہ،(۹)محیاء بنت امرؤ القیس ان بیویوں سے۱۲ بیٹے اور نولڑکیاں ہوئیں۔جن میں سے حسن،حسین،زینب،اُم کلثوم حضرت فاطمہ زہرا سے ہیں۔
۲؎یہاں"و"بمعنی"اَوْ"ہے یعنی لوح محفوظ میں ہرشخص کے متعلق پہلے ہی لکھا جاچکا ہے کہ جنتی ہے،یا دوزخی،جنتی ہے تو کس درجہ کا،اور دوزخی ہے توکس طبقہ کا،یہاں یہی مرادہے جیساکہ اگلے مضمون سے واضح ہے۔
۳؎کیونکہ ہوگا وہی جو لکھا جاچکا عمل خواہ کیسے ہی کرے فیصلہ الٰہی نہیں بدلتا۔
۴؎یعنی دنیا میں اعمال عمومًا انجام کی علامتیں ہیں۔جنّتی کو نیکیاں آسان اور گناہ بھاری معلوم ہوتے ہیں۔دوزخی کو اس کا اُلٹا،مگر یہ قاعدہ اکثریہ ہے کلّیہ نہیں،کبھی عمر بھر کا مجرم جنتی ہوکرمرتا ہے اور کبھی اس کے برعکس بھی لہذا یہ حدیث گزشتہ حدیثِ سہل ابن سعد کے خلاف نہیں۔
۵؎یعنی لوح محفوظ میں کام اور انجام دونوں لکھے جاچکے ہیں کہ فلاں نیکیاں کرے گا اور جنت میں جائے گا اور فلاں کفر وغیرہ کرے گا لہذاجہنمی ہوگا۔بندوں پر رب تعالٰی کی اطاعت فرض ہے،نیز کوئی شخص دوزخی اور جنتی ہونے پر مجبور نہیں۔
۶؎یہ آیت اگرچہ ابوبکر صدیق کے ایمان اور سخاوت کے متعلق نازل ہوئی لیکن چونکہ عبارت عام ہے اس لئے ہر جگہ منطبق ہوسکتی ہے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 85