Main Icon

باب: تقدیر پر ایمان لانے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 124

ایمان کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: يَا رَسُول اللّٰهِ، لَا يَزَالُ يُصِيْبُكَ فِيْ كُلِّ عَامٍ وَجَعٌ مِنَ الشَّاةِ الْمَسْمُومَةِ الَّتِيْ أَكَلْتَ، قَالَ:"مَا أَصَابَنِيْ شَيْءٌ مِنْهَا إِلَّا وَهُوَ مَكْتُوْبٌ عَلَيَّ وَآدَمُ فِي طِيْنَتِهٖ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ.

وعن أم سلمة قالت: يا رسول الله، لا يزال يصيبك في كل عام وجع من الشاة المسمومة التي أكلت، قال:"ما أصابني شيء منها إلا وهو مكتوب علي وآدم في طينته". رواه ابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت اُم سلمہ سے ۱؎انہوں نے عرض کیا کہ یارسول الله آپ کو ہرسال اس زہریلی بکری کی تکلیف ہوتی ہے جو آپ نے (خیبرمیں)کھالی تھی ۲؎فرمایا مجھے اس کے سوا کچھ نہیں پہنچی جو میرے مقدر میں اس وقت لکھ دی گئی جب حضرت آدم اپنے خمیر میں تھے ۳؎(ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام ہند بنتِ ابی اُمیہ ہے،پہلے ابو سلمہ کے نکاح میں تھیں، ۴ھمیں بیوہ ہوئیں اسی ۴ھاواخرماہ شوال میں حضور کے نکاح میں آئیں، ۵۹ھمیں مدینہ پاک میں وفات ہوئی،جنت البقیع میں دفن ہوئیں،۸۴سال عمر ہوئی،بہت صحابہ اور تابعین نے آپ سے احادیث روایت کیں۔
۲
؎کہ ایک یہودیہ نے خیبر میں دھوکہ سے بکری کا زہر آلودہ گوشت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کوکھلادیاتھا بعض صحابہ نے بھی کھالیا جو شہید ہوگئے،خدا کے فضل سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم محفوظ رہے مگر ہرسال زہر کی تکلیف عود کرتی تھی حتّٰی کہ وفات کے وقت بھی اس زہر کا اثر نمودار ہوگیا تھا۔ان شاء اللهاس کا مفصل ذکر"باب المعجزات"میں آئے گا۔
۳
؎لہذا یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اگر ہم خیبر نہ جاتے تو زہر نہ کھاتے خیبر جانا وہاں زہر کھالینا سب کچھ لکھا جاچکا تھا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 124