- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 1
- ایمان کا بیان
- حدیث نمبر 95
باب: تقدیر پر ایمان لانے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 95
ایمان کا بیان - جلد 1
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: سُئِلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَنْ هَذِهٖ الآيَةِ: وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ اَلْآيَةْ ، قَالَ عُمَرُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلّٰى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْأَلُ عَنْهَا فَقَالَ: "إِنَّ الله خَلَقَ آدَمَ، ثُمَّ مَسَحَ ظَهْرَهُ بِيَمِينِهِ، فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ ذُرِّيَّةً، فَقَالَ: خَلَقْتُ هَؤُلَاءِ لِلْجَنَّةِ، وَبِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَعْمَلُونَ، ثُمَّ مَسَحَ ظَهْرَهُ، فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ ذُرِّيَّةً، فَقَالَ: خَلَقْتُ هَؤُلَاءِ لِلنَّارِ وَبِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ يَعْمَلُونَ"، فقَالَ رَجُلٌ فَفِيمَ الْعَمَلُ يَا رَسُولَ الله؟ فَقَالَ رَسُولُ الله صَلّٰى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِنَّ الله إِذَا خَلَقَ الْعَبْدَ لِلْجَنَّةِ، اسْتَعْمَلَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَمُوتَ عَلَى عَمَلٍ مِنْ أَعْمَالِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَيُدْخِلُهُ بِهِ الْجَنَّةَ، وَإِذَا خَلَقَ الْعَبْدَ لِلنَّارِ، اسْتَعْمَلَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ حَتَّى يَمُوتَ عَلَى عَمَلٍ مِنْ أَعْمَالِ أَهْلِ النَّارِ فَيُدْخِلُهُ بِهِ النَّارَ". رَوَاهُ مَالِكٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ
وعن مسلم بن يسار قال: سئل عمر بن الخطاب عن هذه الآية: وإذ أخذ ربك من بني آدم من ظهورهم ذريتهم الآية ، قال عمر: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يسأل عنها فقال: "إن الله خلق آدم، ثم مسح ظهره بيمينه، فاستخرج منه ذرية، فقال: خلقت هؤلاء للجنة، وبعمل أهل الجنة يعملون، ثم مسح ظهره، فاستخرج منه ذرية، فقال: خلقت هؤلاء للنار وبعمل أهل النار يعملون"، فقال رجل ففيم العمل يا رسول الله؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "إن الله إذا خلق العبد للجنة، استعمله بعمل أهل الجنة حتى يموت على عمل من أعمال أهل الجنة، فيدخله به الجنة، وإذا خلق العبد للنار، استعمله بعمل أهل النار حتى يموت على عمل من أعمال أهل النار فيدخله به النار". رواه مالك والترمذي وأبو داود
حدیث ترجمہ
روایت ہے مسلم ابن یسار سے ۱؎فرماتے ہیں کہ عمر ابن الخطاب سے آیت کے متعلق پوچھا گیا جب آپ کے رب نے اولاد آدم کی پیٹھوں سے ان کی ذریت نکالی۲؎الایۃ،∞حضرت عمر نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا آپ سے یہ ہی سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ الله نے حضرت آدم کو پیدا فرمایا پھر ان کی پیٹھ کواپنے ہاتھ سے ملا ۳؎تو اس سے ان کی اولادنکلی۴؎تو فرمایا کہ انہیں میں نے جنت کی لیئے بنایا یہ جنتیوں کے کام کریں گے۵؎پھر ان کی پشت ملی تو اس سے اولادنکلی۶؎تو فرمایا انہیں میں نے آگ کے لیئے بنایا یہ لو گ دوزخیوں کے کام کریں گے ۷؎ایک شخص بولا پھر عمل کا ہے میں رہا یارسول الله ۸؎حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یقینًا الله جس بندے کو جنت کے لیئے پیدا فرماتا ہے تو اس سے جنتیوں کے کام لیتا ہے یہاں تک کہ وہ جنتیوں کے اعمال میں سے کسی عمل پر مرتا ہے اس بنا پر اسے داخل فرماتا ہے جنت میں ۹؎اور جب بندے کو دوزخ کے لیئے پیدا فرماتا ہے تو اس سے دوزخیوں کے کام لیتا ہے۱۰؎تاآنکہ وہ دوزخیوں کے کاموں میں سے کسی کام پرمرتا ہے جس کی وجہ سے اسے دوزخ میں داخل فرماتا ہے ۱۱؎(مالک ترمذی،ابوداؤد)
شرح حدیث
۱∞؎آپ جُہَنِّی ہیں،جلیل القدر تابعی ہیں،اولیائے کاملین میں سے ہیں، ۱۰۰ھمیں آپ کا انتقال ہوا،حضرت عمر فاروق سے آپ کی ملاقات نہیں ہوئی،آپ تک یہ حدیث پہنچی ہے۔
۲؎کہ اس کا مطلب کیا ہے اور اس نکالنے کی نوعیت کیا تھی۔
۳؎یہ عبارت متشابہات میں سے ہے یعنی ان کی پشت مبارک پر توجہ قدرت فرمائی ورنہ رب ہاتھ کے ظاہری معنے اور داہنے بائیں سے پاک ہے،نطفہ مرد کی پیٹھ میں رہتا ہے،اس لیے توجہ پشت پر فرمائی گئی۔
۴؎اس طرح کہ ہر رونگٹے کی جڑ سے پسینہ کے قطروں کی طرح ظاہر ہوئی،یہ واقعہ آدم علیہ السلام کے جنت میں جانے سے پہلے نعمان پہاڑ پر قریب عرفات شریف یا مکہ معظمہ اور طائف کے درمیان ہوا،بعض نے فرمایا کہ جنت سے تشریف لانے کے بعد ہوا اور یہ روحیں سفید رنگ کی تھیں۔
۵؎یعنی اپنی خوشی وارادے سے نیکیاں کریں گے،ایمان پر مریں گے،جنت میں جائیں گے۔لہذا وہ لوگ ان اعمال میں مجبور نہیں۔خیال رہے کہ یہاں جنت کسبی مراد ہے،وہبی،عطائی طور پر بغیر اعمال بھی جنت ملے گی،جیسے مسلمانوں کے چھوٹے بچے یا مرتے وقت ایمان قبول کرنے والا۔
۶؎سیاہ رنگ والی یہ کفار کی روحیں تھیں۔
۷؎اس طرح کہ کفر پر مریں گے زندگی خواہ کفر پر گزری ہو یا ایمان پر۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آدم علیہ السلام کو اور حاضرین فرشتوں کو تمام جنتی اور دوزخی دکھائے گئے،بتادیئے گئے،انہی کو بتانے کے لیے یہ واقعہ کیا گیا ہمارے حضور کا علم آدم علیہ السلام سے کہیں زیادہ ہے لہذا حضور بھی ہر ایک کا انجام اور سعادت شقاوت جانتے ہیں،علوم خمسہ رب نے آپ کو بخشے۔یہ بھی معلوم ہوا کہ آدم علیہ السلام کی پشت میں اپنی تمام اولاد کی روحیں اور ان کے اجزاءاصلیہ موجود تھے۔بعض روایات میں ہے کہ مؤمنوں کی روحیں سفید تھیں انبیاء کی روحیں نہایت چمکدار۔
۸؎کیونکہ اگر ہم جنتیوں میں سے ہیں تو کچھ بھی کریں جنت ہی پائیں گے،جنتی دوزخی ہونا جبری چیزہوئی ناکہ اختیاری۔
۹؎یہ قاعدہ اکثریہ ہے کلیہ نہیں۔پہلے گزر چکا کہ بعض لوگ عمر بھر دوزخیوں کے کام کرتے ہیں،مرتے وقت نیک اعمال کرکے مرتے ہیں۔
۱۰؎کام لینے کے معنی یہ ہیں کہ بندے کے دل کا رجحان برائیوں کی طرف ہوتا ہے جس سے وہ اپنی خوشی اور اختیار سے بدکاریاں کرتا ہے لہذا بندہ خلق میں مجبور ہے کسب میں مختار اورمستحق عذاب نار۔
۱۱؎لہذا ہمیشہ نیکیاں کرنے کی کوشش کرو۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 95