Main Icon

باب: تقدیر پر ایمان لانے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 89

ایمان کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ الله بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صَلّٰى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِنَّ قُلُوبَ بَنِيْ اٰدَمَ كُلَّهَا بَيْنَ أُصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ الرَّحْمٰنِ كَقَلْبٍ وَاحِدٍ يَصْرِفُهُ كَيْفَ يَشَاءُ"، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ -صَلّٰى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "اَللّٰهُمَّ مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ صَرِّفْ قُلُوبَنَا عَلَى طَاعَتِكَ".رَوَاهُمُسْلِمٌ.

وعن عبد الله بن عمرو قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "إن قلوب بني ادم كلها بين أصبعين من أصابع الرحمن كقلب واحد يصرفه كيف يشاء"، ثم قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم -: "اللهم مصرف القلوب صرف قلوبنا على طاعتك".رواهمسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے عبد الله بن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ لوگوں کے سارے دل ۱؎الله کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہیں ۲؎ایک دل کی طرح جیسےچاہتا ہے انہیں پھیر تا ہے ۳؎پھرفرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اے الله اے دلوں کے پھیرنے والے ہمارے دل اپنی فرمانبرداری کی طرف پھیر دے ۴؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎اس میں انبیاء،و اولیاءمؤمنين،کفار سبھی داخل ہیں کوئی بھی رب کے قبضہ سے خارج نہیں چونکہ عام احکام شرعیہ کے مکلف صرف انسان ہیں اس لیے خصوصیت سے انسانوں کے دل کا ذکر ہوا،ورنہ فرشتوں اور جنات وغیرہم کے دل بھی رب کے قبضہ میں ہیں۔
۲
؎یہ عبارت متشابہات میں سے ہے کیونکہ رب تعالٰی انگلیوں،ہاتھوں وغیرہ اعضاء سے پاک ہے،مقصد یہ ہے کہ تمام کے دل الله کے قبضہ میں ہیں کہ نہایت آسانی سے پھیر دیتا ہے،جیسے کہا جاتا ہے تمہارا کام میری انگلیوں میں ہے،یا میں سوالات کا جواب چٹکیوں سے دے سکتا ہوں۔متشابہات کی پوری بحث ہماری تفسیر نعیمی کے تیسرے پارے میں دیکھو۔
۳
؎برائی یا بھلائی کی طرف کہ بندہ اپنے ارادہ سے اچھے یا بُرے کام کرنے لگتا ہے۔لہذا بندہ مجبور نہیں کام ارادہ سے ہیں،ارادہ رب کی طرف سے،ورنہ سزا،جزا کا مستحق نہ ہوتا اور اختیاری اور غیراختیاری افعال میں فرق نہ ہوتا،رعشہ میں ہاتھ بے اختیارہلتاہے اور لکھتے وقت اختیار سے،کُتے کو پتھر مارو تو کتا تمہیں کاٹتا ہے نہ کہ پتھر کو،حالانکہ لگتا پتھر ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ پتھر غیرمختار ہے،مارنے والا مختارہے،اگر ہم اپنے کو پتھر کی طرح مجبورسمجھیں تو جانور سے بڑھ کر بے وقوف ہیں،بہرحال اس حدیث سے جبر ثابت نہیں ہوتا۔
۴
؎یہ دعا کفار ومؤمن،نیک کارو بد کار سب ہی کے لیئے ہے یعنی بدکاروں کے دل نیکی کی طرف پھیر دے اور نیک کاروں کے دل نیکی پر قائم رکھ۔خیال رہے کہ یہ دعا درحقیقت دوسروں کے لئے ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم سید المعصومین ہیں ان سے گناہ ناممکن ہے،ان کے لیئے ہدایت رب تعالٰی نے ایسی لازم کردی ہے جیسے سورج کے لیے روشنی یا آگ کے لیے گرمی،اُن کی شان تو بہت بلند ہے۔ان کے خاص غلاموں سے ہدایت اور تقویٰ لازم ہے،رب تعالٰی صحابہ کرام کے بارے میں فرماتا ہے: "وَ اَلْزَمَہُمْ کَلِمَۃَ التَّقْوٰی"۔عصمتِ انبیاء کی بحث ہماری کتاب"جاءالحق"اورعظمت صحابہ کی بحث ہماری کتاب "امیر معاویہ" میں دیکھو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 89