- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 1
- ایمان کا بیان
- حدیث نمبر 122
باب: تقدیر پر ایمان لانے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 122
ایمان کا بیان - جلد 1
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ فِي قَوْلِ اللّٰهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِيْ آدَمَ مِنْ ظُهُوْرِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ} الآيَةَ، قَالَ: جَمَعَهُمْ فَجَعَلَهُمْ أزْوَاجًاثُمَّ صَوَّرَهُمْ فَاسْتَنْطَقَهُمْ، فَتَكَلَّمُوا، ثُمَّ أَخَذَ عَلَيْهِمُ الْعَهْدَ وَالْمِيْثَاقَ، {وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلٰى}، قَالَ: فَإِنِّيْ أَشْهِدُ عَلَيْكُمُ السَّمٰوَاتِ السَّبْعَ وَالأَرَضِينَ السَّبْعَ، وَأُشْهِدُ عَلَيْكُمْ أَبَاكُمْ آدَمَ أَنْ تَقُوْلُوْا يَوْمَ الْقِيَامَةِ: لَمْ نَعْلَمْ بِهٰذَا، اِعْلَمُوْا أَنَّهٗ لَا إِلٰهَ غَيْرِيْ، وَلَا رَبَّ غَيْرِيْ، فَلَا تُشْرِكُوْا بِيْ شَيْئًا، إِنِّيْ سَأُرْسِلُ إِلَيْكُمْ رُسُلِيْ يُذكِّرُوْنَكُمْ عَهْدِيْ وَمِيثَاقِيْ، وَأُنْزِلُ عَلَيْكُمْ كُتُبِيْ، قَالُوْا: شَهِدْنَا بِأَنَّكَ رَبُّنَا وَإِلٰهُنَا، لَا رَبَّ لَنَا غَيْرُكَ فَأَقَرُّوْا بِذٰلِكَ، وَرُفِعَ عَلَيْهِمْ آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ، فَرَأَى الْغَنِيَّ وَالْفَقِيْرَ،َحَسَنَ الصُّوْرَةِ وَدُوْنَ ذٰلِكَ، فَقَالَ: رَبِّ لَوْلَا سَوَّيْتَ بَيْنَ عِبَادِكَ؟ . قَالَ: إِنِّيْ أَحْبَبْتُ أَنْ أُشْكَرَ، وَرَأَى الأَنْبِيَاءَ فِيهِمْ مِثْلَ السُّرُجِ، عَلَيْهِمُ النُّوْرُ، خُصُّوْا بِمِيثَاقٍ آخَرَ فِي الرِّسَالَةِ وَالنُّبُوَّةِ، وَهُوَ قَوْلُهٗ تَبَارَكَ وَتَعَالٰى وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّيْنَ مِيثَاقَهُمْ إِلٰى قَوْلِهٖ: عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ كَانَ فِي تِلْكَ الأَرْوَاحِ، فَأَرْسَلَهٗ إِلٰى مَرْيَمَ عَلَيْهَا السَّلامُ فَحُدِّثَ عَنْ أُبَيٍّ أَنَّهٗ دَخَلَ مِنْ فِيهَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ
وعن أبي بن كعب في قول الله عز وجل: {وإذ أخذ ربك من بني آدم من ظهورهم ذريتهم} الآية، قال: جمعهم فجعلهم أزواجاثم صورهم فاستنطقهم، فتكلموا، ثم أخذ عليهم العهد والميثاق، {وأشهدهم على أنفسهم ألست بربكم قالوا بلى}، قال: فإني أشهد عليكم السموات السبع والأرضين السبع، وأشهد عليكم أباكم آدم أن تقولوا يوم القيامة: لم نعلم بهذا، اعلموا أنه لا إله غيري، ولا رب غيري، فلا تشركوا بي شيئا، إني سأرسل إليكم رسلي يذكرونكم عهدي وميثاقي، وأنزل عليكم كتبي، قالوا: شهدنا بأنك ربنا وإلهنا، لا رب لنا غيرك فأقروا بذلك، ورفع عليهم آدم عليه السلام ينظر إليهم، فرأى الغني والفقير،حسن الصورة ودون ذلك، فقال: رب لولا سويت بين عبادك؟ . قال: إني أحببت أن أشكر، ورأى الأنبياء فيهم مثل السرج، عليهم النور، خصوا بميثاق آخر في الرسالة والنبوة، وهو قوله تبارك وتعالى وإذ أخذنا من النبيين ميثاقهم إلى قوله: عيسى ابن مريم كان في تلك الأرواح، فأرسله إلى مريم عليها السلام فحدث عن أبي أنه دخل من فيها. رواه أحمد
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابی ابن کعب سے رب تعالٰی کے اس فرمان کے متعلق جب آپ کے رب نے اولاد آدم کی پشت سے ان کی اولاد نکالی فرمایا انہیں جمع کیا انہیں جوڑے بنایا ۱؎پھر انہیں صورت وگویائی دی ۲؎تو وہ وہ بولے پھر ان سے عہد میثاق لیا اور انہیں خود انکی ذات پر گواہ بنایا۳؎کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں بولے ہاں فرمایا میں تم پر سات آسمانوں اور سات زمینوں کو اور تمہارے والد آدم کو گواہ بناتا ہوں ۴؎کہیں قیامت میں کہہ دو کہ ہم کو خبر نہ تھی جان لو میرے سوا نہ کوئی معبود ہے اور نہ کوئی رب کسی کو میرا شریک نہ ٹھہرانا ۵؎عنقریب تم تک اپنے پیغمبر بھیجوں گا جو تمہیں میرا عہد میثاقی یاد دلائیں گے ۶؎اور تم پر اپنی کتابیں اتاروں گا ۷؎بولے ہم اس کے گواہ ہیں کہ تو ہمارا رب ہمارا معبود ہے تیرے سوا نہ کوئی ہمارا رب ہے نہ معبود ۸؎پھر سب نے اس کا اقرار کیا ان پر آدم علیہ السلام کو انہیں دیکھنے کے لیے اٹھایا گیا ۹؎تو آپ نے امیرفقیرحسین وغیرہ دیکھے ۱۰؎تو عرض کیا اے رب تو نے اپنے بندوں میں برابری کیوں نہ کی فرمایا میں نے چاہا کہ شکر کیا جاؤں ۱۱؎ان میں نبیوں کو چراغوں کی طرح دیکھا جن پر نور تھا۱۲؎۱ ان سے دوسرا خصوصی عہد رسالت اور نبوت کےمتعلق لیا گیا وہ رب تعالٰی کا یہ فرمان ہے اور جب ہم نے نبیوں سے ان کا عہد لیاالخعیسیٰ ابن مریمکےقول تک ۱۳؎حضرت عیسیٰ بھی ان روحوں میں تھے انہیں بی بی مریم کی طرف بھیجا ابی سے خبر ملی کہ آپ حضرت مریم کے منہ سے داخل ہوئے ۱۴؎(احمد)
شرح حدیث
۱∞؎یعنی نر اور مادہ یا ان کی علیحدہ قسمیں کیں کافر،مؤمن،منافق سب الگ الگ۔
۲؎یعنی جس شکل و صورت پر دنیا میں ہوں گے وہی شکل انہیں دی گئی یا کافر کالے مؤمن سفید اور انبیاء نورانی بنائے گئے آدم علیہ السلام کی پہچان کے لیے۔
۳؎ایک کو دوسرے پر گواہ یا ہر ایک کے اعضا کو اس کے نفس پر گواہ۔
۴؎یعنی آسمان و زمین کی مخلو ق کو یا خود آسمان و زمین کو دوسرے معنے زیادہ قوی ہیں کیونکہ اُن میں سے ہر چیز میں سمجھ بوجھ ہے۔اب دریاؤں کے قطرے،زمین کے ذرے نیک و بد کو پہچانتے ہیں،قیامت میں زمین لوگوں کے اعمال کی گواہی دے گی۔اس سے معلوم ہوا کہ سارے انبیاء خصوصًا آدم علیہ السلام اپنی اولاد کے اعمال کی قیامت میں گواہی دیں گے،پتہ لگا کہ وہ حضرات ہماری ہر حرکت پر مطلع ہیں اس حدیث کی تفسیر وہ آیت ہے:"وَیَکُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَیۡکُمْ شَہِیۡدًا"۔
۵؎یعنی تمہارے لیے قیامت میں کوئی عذرباقی نہ چھوڑا تمہارے اس اقرار کے بھی صدہا گواہ ہیں اور دنیا کے سارے اعمال کےبھی بہت گواہ ہوں گے اب تم نہ یہ کرسکو گے کہ ہمیں یہ اقرار یاد نہ رہا تھا،نہ یہ کہ ہمیں خبر نہ تھی کہ ہماری ڈائری لکھی جارہی ہے اور انبیائے کرام زمین آسمان ہماے اعمال کو دیکھ کر ہمارے گواہ بن رہے ہیں۔
۶؎رب نے اپنا وعدہ پورا فرمادیا کہ از آدم علیہ السلام تا روزِقیامت دنیا ایک آن نبوت سے خالی نہ رہی۔خیال رہے کہ زمانۂ نبی اور ہے زمانۂ نبوت کچھ اور پیغمبر کی ظاہری زندگی کا زمانہ،زمانۂ نبی ہے اور ان کے دین کی بقاء کا زمانہ،زمانۂ نبوت ہے چنانچہ قیامت تک ہمارے حضور علیہ السلام کا زمانہ ہے۔
۷؎انبیائے کرام کے ذریعے سے،یہاں کتب سے مراد کلامِ الٰہی ہے خواہ صحیفے ہوں یا باقاعدہ کتابیں،چنانچہ آسمان سے سو۱۰۰صحیفے آئے اور چار کتابیں اور کوئی زمانہ کلام الٰہی سے بھی خالی نہ رہا،کس نبی پر کتنے صحیفے نازل ہوئے،یہ ہماری تفسیر نعیمی میں دیکھیئے۔
۸؎مرقات میں فرمایا کہ یہاں شہادت بمعنے علم ہے یعنی ہم نے مشاہدے سے تیری ربوبیت اور معبودیت جان پہچان لی یا بمعنے گواہی یعنی ہم ایک دوسرے کے اس اقرارِ توحید پر گواہ بن گئے۔
۹؎اس طرح کہ آدم علیہ السلام نے اونچے مقام پر کھڑے ہوکر ان سب کو جھانک کر دیکھا اور ایک ایک کو پہچان لیا جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ آدم علیہ السلام اپنی ساری اولاد کو جانتے پہچانتے ہیں،پھر ہمارے حضور کے علم کا کیا پوچھنا،حضرت آدم کا علم علمِ مصطفوی کے سمندر کا قطرہ ہے۔
۱۰؎غنی و فقیر سے مال،اعمال،ایمان سب کے غنی فقیر مراد ہیں یعنی آپ نے دل کے غنی و فقیر،کافر،متقی فاجر اور مال کے غنی و فقیر،مالدار و محتاج،شاہ و گدا،ایسے ہی خوبصورت اور بدصورت دیکھ لیئے۔(مرقاۃ)خیال رہے کہ غنا اور فقر دل کے اوصاف ہیں،حسن و جمال صورت کے حالات، الله تعالٰی نے اس دن تمام کی صورتوں پر ظاہری و باطنی حالات نمودار کردیئے تھے جس سے آدم علیہ السلام بے تکلف ہر شخص کے ہر حال کو ملاحظہ فرمارہے تھے۔خیال رہے کہ حضور اس سے پہلے ہی یہ سب کچھ مشاہدہ فرماچکے تھےجیسا کہ صحیح احادیث میں وارد ہے۔کیوں نہ ہوتا کہ حضور علیہ السلام الله تعالٰی کے گواہ اعظم اور ساری مخلوق کے شاہد اکبر ہیں۔
۱۱؎یعنی لوگوں کے حالات کا اختلاف ان کی شاکریت اور میری شکوریت کا ذریعہ ہے اس طرح کہ ہر شخص کو اپنے سے ادنی کو دیکھ کر میرا شکر کرے کہ خدایا تیرا شکر ہے میں اس سے بہتر ہوں،مثلًا غنی فقیر کی محتاجی کو دیکھ کر سجدہ شکر کرے اور فقیر غنی کے الجھاوے زیادتی حساب میں غور کرے توشکر کرے۔ایسے ہی حسین بدصورت کی قباحت کو دیکھ کر شکرکرے اور بدصورت حسن کی بلاؤں کو دیکھ کر حسن نہ ملنے پر شکر کرے،بادشاہ رعایا کی دست نگری کو دیکھے شکر کرے۔اور رعایا بادشاہ کی فکروں،محنتوں وغیرہ مصائب کو دیکھ کر شکر کرے،شکر اعلٰی درجے کی عبادت بلکہ ساری عبادات کی اصل ہے۔
۱۲؎نبی رسول سے عام ہے جس پر وحی آئے وہ نبی اور جن کو تبلیغ کا بھی حکم ہو وہ رسول،جو نبی شریعت بھی رکھتے ہوں وہ مرسل،نبی ایک لاکھ چوبیس ہزار ہیں،رسول ۳۱۳،مرسل ۴ ہر رسول نبی ہے اس کا عکس نہیں،آدم علیہ السلام نے تمام انبیاء کو ان کی شانوں اور کمالوں کے ساتھ دیکھا،بعض مثل چراغوں کے،بعض لالٹین،بعض گیس،بعض بجلی،بعض چاند اور ہمارے حضور (صلی اللہ علیہ وسلم )سورج کی طرح تھے،کسی کی روشنی چاند کی طر ح جمالی تھی اور کسی کی دھوپ کی طرح جلالی،سُرُجان سب کو شامل ہے۔
۱۳؎انبیائے کرام سے خصوصی عہد دولیے گئے تھے:ایک ادائے رسالت اور تبلیغ نبوت کا عہد،اس عہد میں ہمارے حضور بھی شامل تھے اس کا ذکر اس آیت کریمہ میں ہے۔اور دوسرا نبی آخر الزمان پر ایمان لانا اور ان کی مدد کرنا،اس میں ہمارے حضور شامل نہ تھے سب سے ہمارے حضور پر ایمان لانے کا معاہدہ لیا گیا اس کا ذکر اس آیت میں ہے "ثُمَّ جَآءَکُمْ رَسُوۡلٌ"الایہ۔۱۴؎یعنی تمام روحیں اپنے باپوں کی پشتوں میں واپس گئیں مگر عیسیٰ علیہ السلام کی روح حضرت مریم کے شکم میں آپ کی منہ شریف کے راستے داخل ہوئی کیونکہ آپ کی ولادت بغیر والد کے ہونے والی تھی۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 122