Main Icon

باب: تقدیر پر ایمان لانے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 121

ایمان کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَخَذَ اللهُ الْمِيْثَاقَ مِنْ ظَھْرِ آدَمَ بِنَعْمَانَ يَعْنِيْ عَرَفَةَ فَاَخْرَجَ مِنْ صُلْبِہٖ کُلَّ ذُرِّيَّةِ ذَرَاهَا فَنَثَرَهُمْ بَيْنَ يَدَيْهِ كَالذَّرِّ ثُمَّ كَلَّمَهُمْ قِبَلًا قَالَ: (أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلٰى شَهِدْنَا أَنْ تَقُوْلُوْا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هٰذَا غَافِلِيْنَ أَوْ تَقُوْلُوْا إِنَّمَا أَشْرَكَ آبَاؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّةً مِنْ بَعْدِهِمْ أَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُوْنَ) رَوَاهُ أَحْمَدُ

وعن ابن عباس رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: أخذ الله الميثاق من ظھر آدم بنعمان يعني عرفة فاخرج من صلبہ کل ذرية ذراها فنثرهم بين يديه كالذر ثم كلمهم قبلا قال: (ألست بربكم قالوا بلى شهدنا أن تقولوا يوم القيامة إنا كنا عن هذا غافلين أو تقولوا إنما أشرك آباؤنا من قبل وكنا ذرية من بعدهم أفتهلكنا بما فعل المبطلون) رواه أحمد

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرماتے ہیں اللہ تعالٰی نے پشت آدم سے نعمان یعنی عرفات میں عہد لیا ۱؎اس طرح کہ ان کی پشت سے ساری اولاد نکالی انہیں حضرت آدم کے ساتھ چیونٹیوں کی طرح بکھیردیا ۲؎پھر ان کے آمنے سامنے گفتگو فرمائی فرمایا کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب بولے ہاں ہم گواہ ہیں ۳؎کہ کہیں قیامت کے دن یہ کہہ دو کہ ہم اس سے غافل تھے یا کہہ دو کہ شرک تو صرف ہمارے باپ دادوں نے کیا ہم تو ان کے بعد کی پیداوار تھے تو کیا تو ہم کو جھوٹوں کے جرموں سے ہلاک فرماتا ہے ۴؎(احمد)

شرح حدیث

۱∞؎نعمان پہاڑ مکہ معظمہ اور طائف کے درمیان سے شروع ہوکر عرفات تک پہنچتا ہے اس پہاڑ پر یہ واقعہ ہوا لہذا یہ حدیث بھی درست ہے کہ عرفات میں یہ عہد لیا گیا اور یہ بھی کہ طائف کے قریب لیا گیا۔
۲
؎تاکہ آدم علیہ السلام سب کو جان پہچان لیں اور یہ معاہدہ سن لیں اور دیکھ لیں۔
۳
؎رب اور بندوں کی یہ گفتگو بلاواسطہ اس طرح ہوئی کہ بندوں نے رب کو دیکھا جیسا کہ"قُبُلًا"سےمعلوم ہوا،یہ اقرارِ ربوبیت سارے بندوں سے لیا گیا جن میں انبیاء،اولیاء،مؤمنین،کفار سب شامل تھے۔حضور علیہ السلام کی اتباع کا عہد صرف انبیاء سے لیا گیا اور تبلیغ کا معاہدہ علمائے بنی اسرائیل سے،یہ تینوں عہد قرآن حکیم میں موجود ہیں۔
۴
؎یعنی توحید سے تمہیں یہاں خبردار کردیا گیا تم سے اس کا اقرار لے لیا گیا،اس کی یاد دہانی کے لئے انبیاء اور کتابیں بھیجی جائیں گی،لہذا اب کوئی بھی معذور نہ ہوگا۔اس سےمعلوم ہوا کہ عقیدۂ توحید ہرشخص پر لازم ہے اور کفّار کے چھوٹے فوت شدہ بچے دوزخی نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 121