Main Icon

باب: تقدیر پر ایمان لانے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 113

ایمان کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِی الدَّرْدَآءِ قَالَ:قَالَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّی اللهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَرَغَ اِلٰی کُلِّ عَبْدِ مِنْ خَلْقِہٖ مِنْ خَمْسِ: مِنْ اَجَلِہٖ وَعَمَلِہٖ وَمَضْجَعِہٖ وَاَثَرِہٖ وَرِزْقِہٖ. رَوَاهُ أَحْمَدُ

عن ابی الدردآء قال:قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم : إن الله عز وجل فرغ الی کل عبد من خلقہ من خمس: من اجلہ وعملہ ومضجعہ واثرہ ورزقہ. رواه أحمد

حدیث ترجمہ

روایت ہے ابوالدرداءسے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ یقینًا اللہ تعالٰی اپنی مخلوق میں ہر بندہ کے متعلق پانچ چیزوں سے فارغ ہوچکا ہے ۲؎اس کی موت سے،اس کے عمل سے ۳؎ہر حرکت وسکون سے ۴؎اور اس کے رزق سے۔(احمد)

شرح حدیث

۱؎آپ کا نام شریف عویمر ابن عامر ہے،انصاری ہیں،خزرجی ہیں۔دردا ء ان کی بیٹی کا نام ہے یہ اپنے گھر والوں میں سب سے پیچھے ایمان لائے،فقیہ،عابد صحابی ہیں،شام میں قیام فرمایا، ۳۲ھمیں دمشق میں وفات پائی،وہیں مدفون ہیں۔
۲
؎یعنی اٹل فیصلہ فرماچکا ورنہ رب تعالٰی مشغولیت اور فراغت سے پاک ہے اگرچہ رب تعالٰی کا فیصلہ ہرقسم کا ہوچکا ہے مگر خصوصیت سے ان پانچوں کا ذکر اس لیے فرمایا کہ انسان کو ان کی فکر زیادہ رہتی ہے۔مطلب یہ ہے کہ تم ان فکروں میں زندگی برباد کیوں کرتے ہوجو فیصلہ ہوچکا وہ ہوکر رہے گا۔
۳
؎کہ کیا کرے گا اور کہاں اور کب مرے گا۔
۴
؎مضجعکے معنی ہیں پہلو رکھنے کی جگہ یعنی خوابگاہ،اثر،نشان،قدم کو کہتے ہیں یعنی کہاں رہے گا اور کہاں پھرے گا کہاں کہاں جائے گا اور کہاں دفن ہوگا یا دفن بھی نہ ہوگا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 113