- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 1
- ایمان کا بیان
- حدیث نمبر 96
باب: تقدیر پر ایمان لانے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 96
ایمان کا بیان - جلد 1
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ عَبْدِ الله بْنِ عَمْرٍو قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ الله -صَلّٰى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَفِي يَدَيْهِ كِتَابَانِ فَقَالَ: "أَتَدْرُونَ مَا هَذَانِ الكِتَابَانِ؟ " قُلْنَا: لَا، يَا رَسُولَ اللهِ إِلَّا أَنْ تُخْبِرَنَا، فَقَالَ لِلَّذِيْ فِي يَدِهِ الْيُمْنَى: "هَذٰا كِتَابٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ، فِيهِ أَسْمَاءُ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَسْمَاءُ آبَائِهِم وقَبَائِلِهِمْ، ثُمَّ أُجْمِلَ عَلٰی آخِرِهِمْ، فَلَا يُزَادُ فِيهِمْ وَلَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ أَبَدًا ثُمَّ قَالَ لِلَّذِيْ فِي شِمَالِهٖ: "هَذَا كِتَابٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، فِيهِ أَسْمَاءُ أَهْلِ النَّارِ وَأَسْمَاءُ آبَائِهِمْ وَقَبَائِلِهِمْ، ثُمَّ أُجْمِلَ عَلَى آخِرهِمْ، فَلَا يُزَادُ فِيهِمْ وَلَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ أَبَدًا"، فَقَالَ أَصْحَابُهُ: فَفِيمَ الْعَمَلُ يَا رَسُوْلَ اللهِ إِنْ كَانَ أَمْرٌ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ؟ فَقَالَ: "سَدِّدُوْا وَقَارِبُوْا، فَإِنَّ صَاحِبَ الْجَنَّةِ يُخْتَمُ لَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَإِنْ عَمِلَ أَيَّ عَمَلٍ، وَإنَّ صَاحِبَ النَّارِ يُخْتَمُ لَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ وَإِنْ عَمِلَ أَيَّ عَمَلٍ"، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلّٰى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيْهِ فَنَبَذَهُمَا، ثُمَّ قَالَ: "فَرَغَ رَبُّكُمْ مِنَ الْعِبَادِ، فَرِيقٌ فِي الْجَنَّةِ وَفَرِيقٌ فِي السَّعِيرِ.رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
وعن عبد الله بن عمرو قال: خرج رسول الله -صلى الله عليه وسلم - وفي يديه كتابان فقال: "أتدرون ما هذان الكتابان؟ " قلنا: لا، يا رسول الله إلا أن تخبرنا، فقال للذي في يده اليمنى: "هذا كتاب من رب العالمين، فيه أسماء أهل الجنة وأسماء آبائهم وقبائلهم، ثم أجمل علی آخرهم، فلا يزاد فيهم ولا ينقص منهم أبدا ثم قال للذي في شماله: "هذا كتاب من رب العالمين، فيه أسماء أهل النار وأسماء آبائهم وقبائلهم، ثم أجمل على آخرهم، فلا يزاد فيهم ولا ينقص منهم أبدا"، فقال أصحابه: ففيم العمل يا رسول الله إن كان أمر قد فرغ منه؟ فقال: "سددوا وقاربوا، فإن صاحب الجنة يختم له بعمل أهل الجنة وإن عمل أي عمل، وإن صاحب النار يختم له بعمل أهل النار وإن عمل أي عمل"، ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم بيديه فنبذهما، ثم قال: "فرغ ربكم من العباد، فريق في الجنة وفريق في السعير.رواه الترمذي
حدیث ترجمہ
روایت ہے عبد الله بن عمرو سے فرماتے ہیں کہ ایک بار حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے کہ دستِ اقدس میں دو کتابیں تھیں ۱؎فرمایا کہ کیا جانتے ہو یہ کیا کتابیں ہیں ۲؎ہم نے عرض کیا یارسو ل الله آپ کے بغیر بتائے نہیں جانتے ۳؎تو داہنے ہاتھ کی کتاب کے بارے میں فرمایا کہ یہ کتاب رب العلمین کے پاس سے آئی ہے ۴؎جس میں تمام جنتیوں کے نام اور ان کے باپ دادوں اور قبیلوں کے نام ہیں پھر آخر تک کاٹوٹل لگادیا گیا ہے ۵؎لہذا ان میں کبھی زیادتی کمی نہیں ہوسکتی ۶؎پھر بائیں ہاتھ والی کتاب کے متعلق فرمایاکہ یہ کتاب الله رب العلمین کی طرف سے آئی ہے ۷؎اس میں دوزخیوں اور ان کے باپ دادوں اور قبیلوں کے نام ہیں پھر آخر تک کا ٹوٹل لگادیا گیااب ان میں کبھی زیادتی اور کمی نہیں ہوسکتی ۸؎صحابہ نے عرض کیا عمل کا ہے میں رہا یارسول الله اگر اس معاملہ سے فراغت ہوچکی۹؎فرمایا سیدھے رہو قرب الٰہی حاصل کرو۱۰؎کیونکہ جنتی کا خاتمہ جنتیوں کے عمل پر ہوتا ہے اگرچہ پہلے کوئی بھی کام کرے اور یقینًادوزخی کا خاتمہ دوزخیوں کے کام پرہوتا ہے اگرچہ پہلے کوئی عمل کرے۔پھرحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دستِ مبارک سے اشارہ فرما کر انہیں جھاڑ دیا ۱۱؎پھر فرمایا کہ تمہارا رب بندوں سے فارغ ہوچکا ایک ٹولہ جنتی اور دوسرا ٹولہ دوزخی ہے ۱۲؎(ترمذی)
شرح حدیث
۱∞؎یعنی ایک دائیں ہاتھ میں اور دوسری بائیں میں،حق یہی ہے کہ کتابیں حسی تھیں جنہیں صحابہ کرام دیکھ رہے تھے نہ کہ فقط خیالی اور وہمی جیسا کہ بعض نے وہم کیا ہے۔(مرقاۃ واشعۃ اللمعات)اگلی عبارت سےبھی یہی ظاہر ہے۔
۲؎یعنی یہ دونوں کتابیں جو تم میرے ہاتھ میں دیکھ رہے ہو کس مضمون کی ہیں اور ان میں کیا لکھا ہے،اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ کتابیں نظر آرہی تھیں ورنہھذانسے اشارہ نہ فرمایا جاتا۔نیز پھرصحابہ پوچھتے کہ حضورکون سی کتابیں اور وہ کہاں ہیں؟
۳؎یعنی کتابیں تو دیکھ رہے ہیں مگر اس کے مضمون سے بے خبر ہیں اگر آپ اطلاع بخشیں توخبردار ہوجائیں،معلوم ہوا کہ حضور کتابوں کو بھی دیکھ رہے ہیں اور ان کتابوں کے تفصیلی عالم بھی ہیں اور لوگوں کو وہ کتابیں پڑھا اور بتا بھی سکتے ہیں یہی صحابہ کا عقیدہ تھا۔
۴؎جس میں رب تعالٰی کے خصوصی علم کا اظہار ہے۔
۵؎اس طرح کہ ساری کتاب میں جنتیوں کے نام،پتے،کام تو فہرست میں ہیں اور آخر میں ٹوٹل کہ کل اتنے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ الله تعالٰی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر جنتی و دوزخی کا تفصیلی علم بخشا ان کے باپ،دادوں،قبیلوں اور اعمال پرمطلع کیا،یہ حدیث حضور کے علم کی تابندہ دلیل ہے جس میں کوئی تاویل نہیں ہوسکتی۔
۶؎یعنی رب نے اس میں تقدیر مبرم کی تفصیل فرمائی ہے اور مجھے اس کا علم بخشا ہے،تقدیر معلق اور مشابہ معلق میں زیادتی کمی ممکن ہے۔خیال رہے کہ لوح محفوظ میں محوواثبات کی تحریر بھی ہے اور اُمّ الکتاب میں صرف قضائے مبرم کی۔لوح محفوظ تک ملائکہ کا علم پہنچتا ہے مگر میرے حضور کا علم اُمّ الکتاب تک ہے۔(ازمرقات)یہاں صحابہ کرام کو اجمالی طور پر بتایا گیا۔
۷؎بلاواسطۂ فرشتہ یا بواسطۂ فرشتہ ام الکتاب سے نقل ہوکر جہاں کی فرشتوں کو بھی خبر نہیں کیونکہ یہ قضاء مبرم ہے جیسا کہ ہم پہلے عرض کرچکے..۔
۸؎اس سے پتہ لگا کہ الله نے اپنی قضاءمبرم پرحضور کومطلع فرمایا۔
۹؎یعنی انجام کا دارو مدار رب کی تحریر پر ہے نہ کہ ہمارے عمل پر،پھر اعمال کی ضرورت ہی کیا رہی۔
۱۰؎یعنی اعمال نیک اور عقائد صحیح اختیارکرو تاکہ تمہیں الله کا قرب حاصل ہو۔
۱۱؎یعنی ہاتھوں کو جھٹکا دیا جس سے دونوں کتابیں غائب ہوگئیں یا کتابوں کو عالمِ غیب کی طرف پھینکا،یہ پھیکنا ان کی اہانت کے لیے نہ تھا نہ اس سے وہ کتابیں زمین پر گریں۔
۱۲؎یہ قرآن پاک کی آیت سے اقتباس ہے اور بندوں سے مراد انسان ہیں کیونکہ جنت میں ثواب کے لیے انسانوں کے سوا کوئی نہ جائے گا یہ آدم علیہ السلام کی میراث ہے انہی کی اولادکو ملیگی۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 96