Main Icon

باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6279

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْخِلَافَةُ بِالْمَدِينَةِ وَالْمُلْكُ بِالشَّامِ»

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الخلافة بالمدينة والملك بالشام»

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ خلافت مدینہ میں ہے اور سلطنت شام میں ۱؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی خلافتِ راشدہ کا دارالخلافہ مدینہ منورہ میں ہوگا،یہ حکم اکثریہ ہے کلی نہیں کیونکہ حضرت علی نے اپنا دار الخلافہ کوفہ کو مقرر فرمالیا اور اسلام کی سلطنت کادارالخلافہ شام میں ہے چنانچہ امیر معاویہ کا دارالخلافہ دمشق رہا۔اس سے دو مسئلہ معلوم ہوئے: ایک یہ کہ امیر معاویہ اسلام کے سلطان برحق ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی پیش گوئی فرمائی۔دوسرے یہ کہ امیر معاویہ امام حسن سے صلح فرمانے کے بعد بھی سلطان ہی رہے خلیفہ نہیں ہوئے خلافت تو امام حسن پر ختم ہوچکی کہ حضور نے اسے ملک فرمایا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6279