Main Icon

باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6276

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

عَن ابْنِ حَوَالَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَيَصِيرُ الأَمْرُ إِلٰى أَنْ تَكُونُوا جُنُودًا مُجَنَّدَةً جُنْدٌ بِالشَّامِ وَجُنْدٌ بِالْيَمَنِ وَجُنْدٌ بِالْعِرَاقِ» . فَقَالَ ابْنُ حَوَالَةَ: خِرْ لِي يَا رَسُولَ اللّٰهِ. إِنْ أَدْرَكْتُ ذٰلِكَ. فَقَالَ: «عَلَيْك بِالشَّامِ فَإِنَّهَا خِيَرَةُ اللّٰهِ مِنْ أَرْضِهٖ يَجْتَبِي إِلَيْهَا خِيَرَتَهٗ مِنْ عِبَادِهٖ فَأَمَّا إِنْ أَبَيْتُمْ فَعَلَيْكُمْ بِيَمَنِكُمْ وَاسْقُوا مِنْ غُدَرِكُمْ فَإِنَّ اللّٰهَ تَوَكَّلَ لِي بِالشَّامِ وَأَهْلِهٖ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُد

عن ابن حوالة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «سيصير الأمر إلى أن تكونوا جنودا مجندة جند بالشام وجند باليمن وجند بالعراق» . فقال ابن حوالة: خر لي يا رسول الله. إن أدركت ذلك. فقال: «عليك بالشام فإنها خيرة الله من أرضه يجتبي إليها خيرته من عباده فأما إن أبيتم فعليكم بيمنكم واسقوا من غدركم فإن الله توكل لي بالشام وأهله» . رواه أحمد وأبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے ابن حوالہ سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ معاملہ اس حد تک ہوجاوے گا کہ تم لوگ متفرق لشکر ہوجاؤ گے کوئی لشکر شام میں اور کوئی لشکر یمن میں اور کوئی لشکر عراق میں ہوگا۲؎ابن حوالہ نے کہا یارسول الله میرے لیے کوئی جگہ اختیار فرمایئے اگر میں یہ وقت پاؤں۳؎تو فرمایا کہ تم شام کو اختیار کرنا کیونکہ وہ الله کی زمین میں بہترین زمین ہے ۴؎کھچ آئیں گے اس کی طرف۵؎اس کے بہترین بندے لیکن اگر تم نہ کرسکو تو اپنے یمن کو اختیار کرنا اور تالابوں سے پانی پینا ۶؎کیونکہ الله عزوجل نے میرے لیے شام اور شام والوں کی ضمان دی ہے ۷؎(احمد،ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎ابن حوالہ صحابی ہیں،اسدی ہیں،شام میں رہے،وہاں ہی انتقال ہوا، ۸۵؁ ∞پچاسی میں وفات ہوئی۔(جامع الاصول،اشعہ)
۲
؎یعنی ایک وقت ایسا آوے گا جب کہ مسلمان متفرق ہوکر اپنے وطن چھوڑ کر جگہ جگہ کھو جائیں گے۔
۳
؎اگرچہ حضرت حوالہ کو یہ خبرتھی کہ یہ واقعہ قریب قیامت ہوگا اس وقت میں حیات نہ ہوں گا مگر پھر یہ سوال فرمایا تاکہ اس کا جواب لوگ سن لیں اور اس وقت جو مسلمان ہوں وہ اس پر عمل کریں۔
۴
؎ارض اللهسے مراد زمین کے وہ علاقے ہیں جن میں اس وقت لوگ پھیل جائیں گے یعنی اس وقت تمام زمین سے شام بہتر ہوگی لہذا اس پر یہ اعتراض نہیں کہ بہترین زمین تو مکہ معظمہ ہے اور مدینہ منورہ اور بیت المقدس ہے یا خیر سے مراد ہے امن کی جگہ یعنی اس وقت امن کی جگہ شام ہوگی۔
۵
؎یعنی اس وقت الله کے مقبول بندے شام میں جمع ہوجائیں گے دوسرے علاقوں میں ایسے مبارک اجتماع نہ ہوں گے۔معلوم ہوا کہ جہاں الله کے مقبول بندوں کا اجتماع ہو وہ جگہ بہترین جگہ ہوجاتی ہے،مقبولوں کے قرب سے زمین بھی اشرف ہوجاتی ہے۔
۶
؎غدرجمع ہےغدیرکی بمعنی تالاب یعنی یمن کے تالابوں سے خود بھی پانی پینا اور اپنے جانوروں کو بھی پانی پلانا کہ وہاں کا پانی بھی برکت والا ہوگا یا یہ مطلب ہے کہ کوئی کسی کو وہاں کے تالابوں کے پانی سے نہ روکے اس پر سب کا حق ہوگا۔اس سے معلوم ہوا کہ الله تعالٰی کے مقبول بندوں کے قریب کا پانی بھی برکت والا ہو جاتا ہے۔حضرت خضر علیہ السلام کے قریب والا پانی آبِ حیات ہے جہاں بھنی ہوئی مچھلی زندہ ہوگئی،رب فرماتاہے:"فَاتَّخَذَ سَبِیۡلَہٗ فِی الْبَحْرِ سَرَبًا"۔۷؎یعنی رب تعالٰی نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ اس زمانہ میں ہم شام والوں کو محفوظ رکھیں گے۔الله تعالٰی ان کی جان کو بھی ان کے ایمان کو بھی اس علاقہ کو اس وقت کفار کے شر سے بچائے گا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6276