- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 8
- فضائل کا بیان
- حدیث نمبر 6277
باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6277
فضائل کا بیان - جلد 8
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ: ذُكِرَ أَهْلُ الشَّام عِنْد عليٍّ [رَضِي الله عَنهُ] وَقِيلَ الْعَنْهُمْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ: لَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْأَبْدَالُ يَكُونُونَ بِالشَّامِ وَهُمْ أَرْبَعُونَ رَجُلًا كُلَّمَا مَاتَ رَجُلٌ أَبْدَلَ اللّٰهُ مَكَانَهٗ رَجُلًا يُسْقٰى بِهِمُ الْغَيْثُ وَيُنْتَصَرُ بِهِمْ عَلَى الأَعْدَاءِ، وَيُصْرَفُ عَنِ أَهْلِ الشَّامِ بِهِمُ الْعَذَابُ»
عن شريح بن عبيد قال: ذكر أهل الشام عند علي [رضي الله عنه] وقيل العنهم يا أمير المؤمنين قال: لا أني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «الأبدال يكونون بالشام وهم أربعون رجلا كلما مات رجل أبدل الله مكانه رجلا يسقى بهم الغيث وينتصر بهم على الأعداء، ويصرف عن أهل الشام بهم العذاب»
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت شریح ابن عبید ۱؎سے فرماتے ہیں کہ حضرت علی کے پاس شام والوں کا ذکر ہوا اور عرض کیا گیا اے امیر المؤمنین ان پر لعنت کیجئے ۲؎فرمایا نہیں ۳؎میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو فرماتے سنا ہے کہ ابدال شام میں ہوں گے۴؎وہ حضرات چالیس مرد ہیں جب ان میں ایک وفات پاتا ہے تو الله اس کی جگہ دوسرے شخص کوبدل دیتا ہے ۵؎ان کی برکت سے بارشیں برستی ہیں،ان کے ذریعہ دشمنوں پر فتح حاصل ہوتی ہے ۶؎ان کی برکت سے شام والوں سے عذاب دفع ہوتا ہے۷؎
شرح حدیث
۱∞؎آپ تابعی ہیں،حمص کے بڑے پایہ کے عالم ہیں،حضرمی ہیں۔
۲؎عراق میں کوفہ حضرت علی کا دارالخلافہ تھا اور شام میں دمشق حضرت امیر معاویہ کا دارالخلافہ تھا،اس زمانہ میں ان بزرگوں میں سخت اختلاف تھا،حضرت علی کے حاشیہ نشینوں میں سے بعض نے حضرت علی سے عرض کیا کہ امیر معاویہ اور ان کے ساتھیوں پر لعنت فرمائیں اس زمانہ میں جنگ کے زمانہ میں دونوں فریق ایک دوسرے پر لعنت کرتے تھے اس رواج کے مطابق یہ عرض کیا گیا۔
۳؎یعنی شام اور شام والوں پر لعنت کرنا جائز نہیں یا ان پر میں لعنت نہیں کروں گا نہ تو کسی کا نام لے کر نہ اجمالی لعنت کسی وصف کے ساتھ۔خیال رہے کہ نام لے کر لعنت کرنا صرف کفار کے لیے ہے اور مرے کافر پر بھی نام لے کر لعنت جب درست جب کہ اس کا کفر پر مرنا یقین سے معلوم ہو مگر کسی صفت سے لعنت کرنا گنہگار مسلمان پر بھی جائز ہے جیسے جھوٹوں پر الله کی لعنت۔آپ نے شام اور اہلِ شام کی اس قدر عظمت کی کہ وصف کے ساتھ بھی ان پر لعنت جائز نہ رکھی۔
۴؎یعنی امیر معاویہ اور ان کے لشکر والے لعنت کے مستحق نہیں اگر وہ لعنت کے مستحق ہوتے تو انہیں رب تعالٰی شام جیسی مبارک زمین میں نہ رکھتا اور وہ شام والے نہ ہوتے۔
۵؎اولیاء الله دو قسم کے ہیں:تشریعی ولی اور تکوینی ولی۔تشریعی ولی یعنی الله سے قرب رکھنے والے اولیاء حضور کی امت میں بے شمار ہیں جہاں چالیس صالح مسلمان جمع ہوں وہاں ایک دو ولی ضرورہوتے ہیں مگر تکوینی ولی جو دنیا کے انتظام کرتے ہیں یہاں کے سیاہ و سفید کے مالک ہوتے ہیں ان کی قسمیں بہت ہیں ہر قسم کی تعداد جداگانہ ہے۔چنانچہ ہمیشہ امت رسول میں تین سو ولی حضرت آدم کے قلب پر،چالیس ولی موسیٰ علیہ السلام کے قلب پر،سات ولی حضرت ابراہیم کے قلب پر،پانچ ولی حضرت جبریل کے قلب پر اور تین ولی حضرت میکائیل کے قلب پر،ایک ولی حضرت اسرافیل کے قلب پر۔جب یہ ایک فوت ہوجاتا ہے تو ان تین میں سے ایک اس کی جگہ لگا دیا جاتا ہے اور پانچ میں سے ایک ان تین اور سات میں سے ایک ان پانچ میں اور چالیس میں سے ایک ان سات میں اور تین سو میں سے ایک ان چالیس اور کسی صالح مسلمان کو ان تین سو میں شامل کرکے یہ تعداد پوری کردی جاتی ہے غرضکہ یہ مذکور تعداد پوری رہتی ہے۔چالیس ابدال کا یہاں ذکر ہے ایک قطب اور سات اوتاد،پانچ امنا وغیرہ وہ یہ ہی ہیں۔خیال رہے کہ ان اولیاء میں کوئی قلب محمد رسول الله پر نہیں ہوتا کیونکہ قلب مصطفی ایسا بے مثال ہے کہ عالم امر عالم امکان عالم اجسام کسی جگہ اس کی مثل ہوسکتا ہی نہیں کسی ولی کا قلب حضور جیسا نہیں ہوسکتا۔حضور کے زمانہ پاک میں قطب حضرت اویس قرنی کے چچا عصام فخری کو کہا جاتا ہے۔والله اعلم!(مرقات)
۶؎صوفیاء فرماتے ہیں کہ جو شخص یا جو اسلامی فوج چہل ابدال کو اپنی پشت کی طرف لے کر کفار سے مناظرہ یا ان پر حملہ کرےان شاءاللهکامیاب ہوگا ان کی سمتیں تاریخ وار ہماری کتاب الوظائف میں مطالعہ کرو۔
۷؎اس فرمان عالی سے معلوم ہوا کہ اولیاء الله کا وسیلہ برحق ہے الله اچھوں کے صدقے بروں کی مشکلیں حل کردیتا ہے اور ان سے مصیبتیں ٹال دیتا ہے۔خیال رہے کہ جن چالیس ولیوں کا یہاں ذکر ہے انہیں ابدال کہتے ہیں کیونکہ ان کے مقامات ان جگہ بدلتی رہتی ہے کبھی مشرق میں کبھی مغرب میں کبھی جنوب میں کبھی شمال میں مگر ان کا ہیڈ کواٹر شام ہے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6277