Main Icon

باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6277

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ: ذُكِرَ أَهْلُ الشَّام عِنْد عليٍّ [رَضِي الله عَنهُ] وَقِيلَ الْعَنْهُمْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ: لَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْأَبْدَالُ يَكُونُونَ بِالشَّامِ وَهُمْ أَرْبَعُونَ رَجُلًا كُلَّمَا مَاتَ رَجُلٌ أَبْدَلَ اللّٰهُ مَكَانَهٗ رَجُلًا يُسْقٰى بِهِمُ الْغَيْثُ وَيُنْتَصَرُ بِهِمْ عَلَى الأَعْدَاءِ، وَيُصْرَفُ عَنِ أَهْلِ الشَّامِ بِهِمُ الْعَذَابُ»

عن شريح بن عبيد قال: ذكر أهل الشام عند علي [رضي الله عنه] وقيل العنهم يا أمير المؤمنين قال: لا أني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «الأبدال يكونون بالشام وهم أربعون رجلا كلما مات رجل أبدل الله مكانه رجلا يسقى بهم الغيث وينتصر بهم على الأعداء، ويصرف عن أهل الشام بهم العذاب»

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت شریح ابن عبید ۱؎سے فرماتے ہیں کہ حضرت علی کے پاس شام والوں کا ذکر ہوا اور عرض کیا گیا اے امیر المؤمنین ان پر لعنت کیجئے ۲؎فرمایا نہیں ۳؎میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو فرماتے سنا ہے کہ ابدال شام میں ہوں گے۴؎وہ حضرات چالیس مرد ہیں جب ان میں ایک وفات پاتا ہے تو الله اس کی جگہ دوسرے شخص کوبدل دیتا ہے ۵؎ان کی برکت سے بارشیں برستی ہیں،ان کے ذریعہ دشمنوں پر فتح حاصل ہوتی ہے ۶؎ان کی برکت سے شام والوں سے عذاب دفع ہوتا ہے۷؎

شرح حدیث

۱∞؎آپ تابعی ہیں،حمص کے بڑے پایہ کے عالم ہیں،حضرمی ہیں۔
۲
؎عراق میں کوفہ حضرت علی کا دارالخلافہ تھا اور شام میں دمشق حضرت امیر معاویہ کا دارالخلافہ تھا،اس زمانہ میں ان بزرگوں میں سخت اختلاف تھا،حضرت علی کے حاشیہ نشینوں میں سے بعض نے حضرت علی سے عرض کیا کہ امیر معاویہ اور ان کے ساتھیوں پر لعنت فرمائیں اس زمانہ میں جنگ کے زمانہ میں دونوں فریق ایک دوسرے پر لعنت کرتے تھے اس رواج کے مطابق یہ عرض کیا گیا۔
۳
؎یعنی شام اور شام والوں پر لعنت کرنا جائز نہیں یا ان پر میں لعنت نہیں کروں گا نہ تو کسی کا نام لے کر نہ اجمالی لعنت کسی وصف کے ساتھ۔خیال رہے کہ نام لے کر لعنت کرنا صرف کفار کے لیے ہے اور مرے کافر پر بھی نام لے کر لعنت جب درست جب کہ اس کا کفر پر مرنا یقین سے معلوم ہو مگر کسی صفت سے لعنت کرنا گنہگار مسلمان پر بھی جائز ہے جیسے جھوٹوں پر الله کی لعنت۔آپ نے شام اور اہلِ شام کی اس قدر عظمت کی کہ وصف کے ساتھ بھی ان پر لعنت جائز نہ رکھی۔
۴
؎یعنی امیر معاویہ اور ان کے لشکر والے لعنت کے مستحق نہیں اگر وہ لعنت کے مستحق ہوتے تو انہیں رب تعالٰی شام جیسی مبارک زمین میں نہ رکھتا اور وہ شام والے نہ ہوتے۔
۵
؎اولیاء الله دو قسم کے ہیں:تشریعی ولی اور تکوینی ولی۔تشریعی ولی یعنی الله سے قرب رکھنے والے اولیاء حضور کی امت میں بے شمار ہیں جہاں چالیس صالح مسلمان جمع ہوں وہاں ایک دو ولی ضرورہوتے ہیں مگر تکوینی ولی جو دنیا کے انتظام کرتے ہیں یہاں کے سیاہ و سفید کے مالک ہوتے ہیں ان کی قسمیں بہت ہیں ہر قسم کی تعداد جداگانہ ہے۔چنانچہ ہمیشہ امت رسول میں تین سو ولی حضرت آدم کے قلب پر،چالیس ولی موسیٰ علیہ السلام کے قلب پر،سات ولی حضرت ابراہیم کے قلب پر،پانچ ولی حضرت جبریل کے قلب پر اور تین ولی حضرت میکائیل کے قلب پر،ایک ولی حضرت اسرافیل کے قلب پر۔جب یہ ایک فوت ہوجاتا ہے تو ان تین میں سے ایک اس کی جگہ لگا دیا جاتا ہے اور پانچ میں سے ایک ان تین اور سات میں سے ایک ان پانچ میں اور چالیس میں سے ایک ان سات میں اور تین سو میں سے ایک ان چالیس اور کسی صالح مسلمان کو ان تین سو میں شامل کرکے یہ تعداد پوری کردی جاتی ہے غرضکہ یہ مذکور تعداد پوری رہتی ہے۔چالیس ابدال کا یہاں ذکر ہے ایک قطب اور سات اوتاد،پانچ امنا وغیرہ وہ یہ ہی ہیں۔خیال رہے کہ ان اولیاء میں کوئی قلب محمد رسول الله پر نہیں ہوتا کیونکہ قلب مصطفی ایسا بے مثال ہے کہ عالم امر عالم امکان عالم اجسام کسی جگہ اس کی مثل ہوسکتا ہی نہیں کسی ولی کا قلب حضور جیسا نہیں ہوسکتا۔حضور کے زمانہ پاک میں قطب حضرت اویس قرنی کے چچا عصام فخری کو کہا جاتا ہے۔والله اعلم!(مرقات)
۶
؎صوفیاء فرماتے ہیں کہ جو شخص یا جو اسلامی فوج چہل ابدال کو اپنی پشت کی طرف لے کر کفار سے مناظرہ یا ان پر حملہ کرےان شاءاللهکامیاب ہوگا ان کی سمتیں تاریخ وار ہماری کتاب الوظائف میں مطالعہ کرو۔
۷
؎اس فرمان عالی سے معلوم ہوا کہ اولیاء الله کا وسیلہ برحق ہے الله اچھوں کے صدقے بروں کی مشکلیں حل کردیتا ہے اور ان سے مصیبتیں ٹال دیتا ہے۔خیال رہے کہ جن چالیس ولیوں کا یہاں ذکر ہے انہیں ابدال کہتے ہیں کیونکہ ان کے مقامات ان جگہ بدلتی رہتی ہے کبھی مشرق میں کبھی مغرب میں کبھی جنوب میں کبھی شمال میں مگر ان کا ہیڈ کواٹر شام ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6277