Main Icon

باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6273

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «طُوبٰى لِلشَّامِ» قُلْنَا: لِأَيٍّ ذٰلِكَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ؟ قَالَ: «لِأَنَّ مَلَائِكَةَ الرَّحْمٰنِ بَاسِطَةٌ أَجْنِحَتَهَا عَلَيْهَا» رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ

وعن زيد بن ثابت قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «طوبى للشام» قلنا: لأي ذلك يا رسول الله؟ قال: «لأن ملائكة الرحمن باسطة أجنحتها عليها» رواه أحمد والترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت زید ابن ثابت سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے شام کو خوشخبری ہو ہم نے عرض کیا یارسول الله یہ کس لیے فرمایا اس لیے کہ الله کے فرشتے اس پر اپنے پر بچھائے ہوئے ہیں ۱∞؎(احمد،ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎چونکہ چالیس ابدال ہمیشہ شام کے شہر دمشق میں رہیں گے اس لیے وہاں فرشتے حفاظت کے لیے مقرر ہیں۔معلوم ہوا کہ الله والوں کی برکت سے ملک میں حفظ و امان رہتی ہے۔خیال رہے کہ اس سے یہ لازم نہیں کہ شام میں کبھی کسی کو کوئی تکلیف نہیں ہوگی ہاں دوسرے مقامات سے کم یا وہاں کفر و گناہ کم ہوں گے جیسے ہر انسان کے ساتھ حفاظتی فرشتے رہتے ہیں مگر پھر بھی انسان کو تکلیف پہنچ جاتی ہے کہ یہ تکلیف رب تعالٰی کے حکم سے آتی ہے اس وقت فرشتے حفاظت نہیں کرتے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6273