Main Icon

باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6267

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَتَاكُم أَهْلُ الْيَمَنِ هُمْ أَرقُّ أفئدَةً وَأَلْيَنُ قُلُوبًا الْإِيمَانُ يَمَانٍ وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ وَالْفَخْرُ وَالْخُيَلَاءُ فِي أَصْحَابِ الْإِبِلِ وَالسَّكِينَةُ وَالْوَقَارُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «أتاكم أهل اليمن هم أرق أفئدة وألين قلوبا الإيمان يمان والحكمة يمانية والفخر والخيلاء في أصحاب الإبل والسكينة والوقار في أهل الغنم. (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی صلی الله علیہ و سلم سے راوی فرمایا تمہارے پاس یمن والے آئے ۱∞؎یہ لوگ طبیعت کے ملائم اور دلوں کے نرم ہیں۲؎پیارا ایمان یمنی ہے اور حکمت یمنی ہے۳؎اور فخروتکبر اونٹ والوں میں ہے۴؎اور سکون و وقار بکری والوں میں ہے۵؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ فرمان عالی جب ہوا جب کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری اور ان کے رفقاء یمن سے حضور انور کی خدمت میں وفد بن کر آئے تھے۔(اشعہ)
۲
؎فواد اور قلب ان میں بہت طرح فرق کیا گیا ہے۔قلب پورے دل کو کہتے ہیں فواد دل کے اندرونی حصہ کو،قلب دل کو کہتے ہیں فواد دل سے اوپری غلاف کو،یہ غلاف اگر باریک ہو تو نصیحت جلد قبول کرلیتا ہے اس لیےافئدہکے لیےارقارشاد ہوا بمعنی باریک اور قلب کےلیےالینفرمایا گیا یعنی نرم۔قلب اور فواد یوں ہی رقت و لین ان کے متعلق صوفیاء کرام کے عجیب عجیب اقوال ہیں اس کی کچھ بحث ہم نے تفسیرنعیمیختم الله علی قلوبہمکی تفسیر میں کی ہے۔یعنی یمن والے نرم ملائم طبیعت والے ہوتے ہیں ان میں احکام الہیہ قبول کرنے کا مادہ زیادہ ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ زمین کے طبقات کا اثر لوگوں کی طبیعتوں پر پڑتا ہےکسی جگہ کے لوگ بہت نرم دل ہوتے ہیں جیسے یمنی اور کسی جگہ کے لوگ بہت سخت دل جیسے نجد۔
۳
؎یعنی بمقابلہ مشرقی نجدیوں کے مجھے یمن کے لوگوں کا ایمان ان کا علم بہت پیارا ہے یہاں حجاز اور حضرات صحابہ کے مقابل یہ فرمان نہیں ہے۔(از اشعہ)یعنی یمنی لوگوں کے دل ایمان،عرفان،حکمت کی کان ہیں ان کے مقابل لوگوں کا ذکر آگے آرہا ہے۔الحمد للهکہ اہل سنت کے عقائد کے امام ابوموسیٰ اشعری ہیں جو یمنی ہیں انہیں کے متبعین اشاعرہ کہلاتے ہیں۔ (دیکھو اشعہ) مرقات نے فرمایا کہ یہ فرمان عالی اس زمانہ کے یمنی لوگوں کے متعلق ہے۔
۴
؎یعنی جو لوگ اونٹ گھوڑے پالنے چرانے ان کی تجارت میں بہت مشغول رہتے ہیں ان میں عمومًا غرور وتکبر پیدا ہو جاتا ہے کہ یہ قیمتی مال ہے ان کا مالک اپنے کو بڑا امیر خیال کرتا ہے دوسرے کو ذلیل۔
۵
؎یعنی جو لوگ بکریاں پالتے ان کی تجارت کرتے ہیں وہ عمومًا بمقابلہ اونٹ والوں گھوڑے والوں کے دل کے نرم ہوتے ہیں ان میں تکبروغرور نہیں ہوتا۔اس سے معلوم ہوا کہ جانوروں کی صحبت بھی انسان پر اثر کرتی ہے،جب جانوروں کی صحبت اثر کرتی ہے تو کفار اور مؤمنوں کی صحبت میں بھی ضرور اثر ہوگا۔(مرقات،اشعہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6267