Main Icon

باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6274

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَتَخْرُجُ نَارٌ مِنْ نَحْوِ حَضْرَمَوْتَ أَوْ مِنْ حَضْرَمَوْتَ تَحْشُرُ النَّاسَ» قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ فَمَا تَأْمُرنَا؟ قَالَ: «عَلَيْكُمْ بِالشَّامِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن عبد الله بن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ستخرج نار من نحو حضرموت أو من حضرموت تحشر الناس» قلنا: يا رسول الله فما تأمرنا؟ قال: «عليكم بالشام» . رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدالله ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ حضر موت کی طرف سے ایک آگ نکلے گی ۱∞؎جو لوگوں کو جمع کردے گی ہم نے عرض کیا یارسول الله ہم کو حضور کیا حکم دیتے ہیں فرمایا تم شام کو اختیار کرنا۲؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎حضر موت یمن کا ایک مشہور شہر ہے وہاں کے ایک قبیلہ کا نام بھی حضر موت ہے یہاں شہر حضر موت مراد ہے غالبًا یہ واقعہ قریب قیامت ہوگا۔ظاہر یہ ہی ہے کہ آگ سے مراد یہ ہی محسوس آگ ہے اور اس آگ کا نکلنا قیامت کی علامتوں میں سے ایک بڑی علامت ہے اور ہوسکتا ہے کہ آگ سے مراد فتنہ و فساد کی آگ ہو اور اس سے کوئی خاص فتنہ مراد ہو جو لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے یہ بھی قریب قیامت ہی ہوگا۔(مرقات،اشعہ)
۲
؎اگر پہلی خبر میں آگ سے مراد مخصوص آگ ہے تب مطلب یہ ہوگا کہ تم اس وقت ملک شام چلے جانا کیونکہ وہ آگ سب لوگوں کو شام میں لے جاوے گی جہاں قیامت قائم ہوگی تم اس افراتفری سے وہاں نہ پہنچنا پہلے ہی آرام سے پہنچ جانا اور اگر آگ سے مراد فتنہ و فساد کی آگ تھی تو اس فرمان عالی کا مطلب یہ ہوگا کہ تم ایسے موقعہ پر ملک شام کے علماء کے عقائد ان کے سے اعمال اختیارکرنا کہ اس وقت وہ لوگ حق اور ایمان کی کسوٹی ہوں گے یا اس فتنہ و فساد میں تم شام میں رہنا کہ اس وقت شام کی حفاظت فرشتے کرتے ہوں گے۔(اشعہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6274