Main Icon

باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6278

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ رَجُلٍ مِنَ الصَّحَابَةِ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"سَتُفْتَحُ الشَّامُ فإِذَا خُيِّرْتُمُ الْمَنَازِلَ فِيهَا فَعَلَيْكُم بِمَدِينَةَ يُقَالُ لَهٗ دِمَشْقُ فَإِنَّهَا مَعْقِلُ الْمُسْلِمِينَ مِنَ الْمَلَاحِمِ وَفُسْطَاطُهَا مِنْهَا أَرْضٌ يُقَالُ لَهَا: الْغُوطَةُ ". رَوَاهُمَا أَحْمَدُ

وعن رجل من الصحابة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:"ستفتح الشام فإذا خيرتم المنازل فيها فعليكم بمدينة يقال له دمشق فإنها معقل المسلمين من الملاحم وفسطاطها منها أرض يقال لها: الغوطة ". رواهما أحمد

حدیث ترجمہ

روایت ہے ایک صحابی سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا عنقریب شام فتح ہوگا ۱؎تو جب تم اس میں کوئی منزل کا اختیار دیئے جاؤ تو اس شہر کو اختیار کرنا جسے دمشق کہا جاتا ہے ۲؎کہ وہ جگہ مسلمانوں کی پناہ ہے لڑائیوں سے اور سامان کا خیمہ۳؎اس میں وہ زمین ہے جسے غوطہ کہا جاتا ہے۴؎دونوں حدیثیں احمد نے روایت کیں۔

شرح حدیث

۱∞؎چنانچہ خلافت صدیقی میں شام فتح ہونے کی ابتداء ہوئی اور خلافت فاروقی میں وہ مکمل فتح ہوا حضور کی یہ پیش گوئی بالکل درست ہوئی۔
۲
؎یعنی اگر تم اس زمانہ میں کسی وجہ سے حجاز کا علاقہ چھوڑو دوسرے کسی علاقہ میں رہائش اختیار کرو تو شام کی رہائش اختیار کرنا خصوصًا اس کے شہر دمشق کی۔
۳
؎یعنی شام خصوصًا دمشق کا علاقہ مسلمانوں کی پناہ گاہ ہوگا۔فسطاطبڑے شہر کو بھی کہتے ہیں اور خیمہ کو بھی یہاں دونوں معنی درست ہیں۔
۴
؎غوطہ دمشق کا فنائی علاقہ ہے جہاں باغات کھیت وغیرہ کثرت سے ہیں یہ مسلمانوں کا مرکز بنے گا،فقیر نے وہ جگہ دیکھی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6278