Main Icon

باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6275

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّهَا سَتَكُونُ هِجْرَةٌ بَعْدَ هِجْرَةٍ فَخِيَارُ النَّاسِ إِلٰى مُهَاجَرِ إِبْرَاهِيمَ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «فَخِيَارُ أَهْلِ الْأَرْضِ أَلْزَمُهُمْ مُهَاجَرَ إِبْرَاهِيمَ وَيَبْقٰى فِي الْأَرْضِ شِرَارُ أَهْلِهَا تَلْفِظُهُمْ أَرَضُوهُمْ تَقْذَرُهُمْ نَفْسُ اللهِ تَحْشُرهُمْ النَّارُ مَعَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ تَبِيتُ مَعَهُمْ إِذَا بَاتُوا وَتَقِيلُ مَعَهُمْ إِذَا قَالُوا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

وعن عبد الله بن عمرو بن العاص قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «إنها ستكون هجرة بعد هجرة فخيار الناس إلى مهاجر إبراهيم» . وفي رواية: «فخيار أهل الأرض ألزمهم مهاجر إبراهيم ويبقى في الأرض شرار أهلها تلفظهم أرضوهم تقذرهم نفس الله تحشرهم النار مع القردة والخنازير تبيت معهم إذا باتوا وتقيل معهم إذا قالوا» . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدالله ابن عمرو ابن عاص سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ عنقریب ہجرت کے بعد ہجرت ہوگی ۱؎تو لوگوں میں بہتر وہ ہے جو حضرت ابراہیم کی ہجرت گاہ میں جاوے۲؎اور ایک روایت میں ہے کہ زمین والوں میں بہترین وہ ہے جو جناب ابراہیم کی ہجرت گاہ کو لازم پکڑے۳؎اور زمین میں بدترین باشندے رہ جائیں گے کہ ان کی زمین انہیں پھینکے گی ان سے الله کی ذات ناراض ہوگی۴؎انہیں آگ جمع کرے گی بندروں اور سؤروں کے ساتھ۵؎ان کے ساتھ رات گزارے گی جہاں وہ رات گزاریں اور قیلولہ کرے گی جب وہ قیلولہ کریں۶؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎اس فرمان عالی میں ہجرت بعد ہجرت سے مراد یا تو بار بار ہجرتیں ہیں یعنی اسلام میں آگے پیچھے ہجرتیں ہوتی ہی رہیں گی دیکھ لو آج بھی ہندوستان سے پاکستان کی طرف ہجرت کئی بار ہوئی یا پہلی ہجرت سے مراد ہے مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت جو شروع اسلام میں ہوچکی اور دوسری ہجرت سے مراد وہ آخری ہجرت جب مسلمانوں کو دنیا میں کہیں پناہ نہ ملے گی اور وہ ہر جگہ سے نکلنے اور وطن چھوڑنے پر مجبور ہوں گے دوسرا احتمال قوی ہے جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔
۲
؎ابراہیم علیہ السلام کوفہ کے علاقہ میں پیدا ہوئے مقام کوثی میں مگر وہاں رہ نہ سکے کفار نے بہت تنگ کیا تو مصر ہوتے ہوئے شام میں مقیم ہوئے۔خیال رہے کہ فلسطین اور شام دونوں علاقے ملے ہوئے ہیں۔چنانچہ اب بیت المقدس سے دمشق موٹر کار کے ذریعہ صرف ڈہائی گھنٹہ کا راستہ ہے ہوائی جہاز سے چند منٹ کا اس لیے فلسطین اور شام کو ایک دوسرے پر بول دیا جاتا ہے۔ ابراہیم علیہ السلام فلسطین میں آکر مقیم ہوئے تھے وہاں ہی آپ کی قبر شریف ہے یعنی الخلیل میں جو بیت المقدس سے تین میل فاصلہ پر ہے۔
۳
؎کیونکہ شام کا علاقہ اس وقت فتنوں فسادوں سے محفوظ ہوگا۔خیال رہے کہ یہاں مہاجر جیم کے فتح سے ہے بمعنی ہجرت گاہ۔ایک وقت وہ بھی آئے گا جب مسلمانوں کو سواء مدینہ منورہ کے کہیں امان نہ ملے گی وہ دوسرا زمانہ ہوگا لہذا یہ حدیث اس فرمان عالی کے خلاف نہیں کہ اسلام مدینہ کی طرف ایسا سمٹ آوے گا جیسے سانپ اپنے سوراخ کی طرف۔
۴
؎قذرکے لفظی معنی پلیدی بھی ہوتے ہیں اور نفرت اور گھن کرنا بھی یہاں دونوں معنی مراد نہیں ہوسکتے کہ الله تعالٰی ان سے پاک ہے لہذاقذربمعنی ناراضی ہے یعنی دنیا بھر میں وہ کفار و مشرکین رہیں گے جن سے لوگ بھی نفرت کریں اور الله تعالٰی بھی ناراض ہو مسلمانوں کو ان میں رہنا ٹھیک نہیں ہوگا۔
۵
؎بندروں سے مراد کفار کے بچے ہیں اور سؤروں سے مراد بڑے کفار یا ان سے مراد یہ جانور ہی ہوں پہلے معنی کو شارحین نے ترجیح دی ہے۔
۶
؎اس کی شرح باب علامات قیامت میں گزرچکی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6275