Main Icon

باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6272

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

عَنْ أَنَسٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرَ قِبَلَ الْيَمَنِ فَقَالَ: «اللّٰهُمَّ أَقْبِلْ بِقُلُوبِهِمْ وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا ومُدِّنَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

عن أنس عن زيد بن ثابت أن النبي صلى الله عليه وسلم نظر قبل اليمن فقال: «اللهم أقبل بقلوبهم وبارك لنا في صاعنا ومدنا» . رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے وہ جناب زید ابن ثابت سے راوی کہ نبی صلی الله علیہ و سلم نے یمن کی طرف نظر کی پھر فرمایا الٰہی ان کے دل ادھر لگادے ۱∞؎اور ہم کو ہمارے صاع میں اور ہمارے مد میں برکت دے۲؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اہلِ یمن کے دلوں میں ہماری محبت پیدا فرمادے انہیں ایمان کی دولت سے مالا مال کردے۔اہلِ مدینہ پر رزق کی تنگی تھی یمن میں دانے پھل کثرت سے تھے ان کے ادھر آنے سے اہلِ مدینہ کو دنیاوی فائدے تھے اور انہیں دینی فائدے اس لیے یہ دعا فرمائی۔(مرقات،اشعہ)
۲
؎یعنی یمن میں ہمارے لیے مدوصاع میں برکت دے۔خیال رہے کہ چار مد کا ایک صاع ہوتا تھا اور وہ صاع قریبًا ساڑھے چار سیر کا لہذا ایک سیر سے کچھ زیادہ کا ہوا بہرحال اس سے مراد ہے وہاں کے رزق میں برکت۔ایک روایت میں ہے کہ الٰہی مکہ کے لیے تیرے خلیل نے دعا کی مدینہ کے لیے تیرے حبیب دعا کرتے ہیں کہ یہاں کے صاع مد میں مکہ سے دگنی برکتیں عطا فرما(مرقات)ممکن ہے کہبارك لنامیں بھی اہلِ مدینہ کے ناپ تول میں برکت مراد ہو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6272